قادیانیت، اسلام اور سائنس کے کٹہرےمیں

مخالفین احمدیت نے گھٹیا لٹریچر کی بھرمار کر رکھی ہے اور اس کو اسلام کی خدمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ مصنف اور اس کے ہمنواؤں نے اسلامی اخلاقیات کو بھول کر ہی ایسی گندی ذہنیت اختیار کی ہے جس کا جواب نہیں ۔

مذکورہ بالا کتاب ایک ‘سابق’ احمدی برق صاحب کی لکھی ہوئی ہے اور انٹرنیٹ پردستیاب ہے۔ میں نے اس غرض سے کھول لی کہ سائینس کی بات ہورہی ہے، دیکھیں تو سہی۔ لیکن ایک سرسری مطالعہ سے ہی علم ہو گیا کہ اس کتاب میں اتنی ہی سائینس ہے جتنی ایک عام ملا کو مدرسے میں سکھائی جا سکتی ہے۔

کتاب کی لمبی چوڑی تمہید پڑھی تو اس میں ویسے ہی خیالی مناظرے اور مکالمے ملے جو ملاں مزے مزے سے اپنی مجلسوں میں بیان کرتے ہیں۔ بلی کو خواب چھیچھڑوں کے۔ ایسے جتنے بھی بیان سننے کو ملے سبھی میں ایک زبان دراز ملاں مجمعے کو گپیں سناتا ہی ملتا ہے۔ داد وصول کرتا ہے۔ گھٹیا جملے بازی، جھوٹ اور گند کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ یہ کتاب بھی ایسے ہی طبقہ کے مولویوں کے زیر اثر اور زیر سایہ لکھی گئی ہے۔

مصنف کہتا ہے کہ قرآن ہی سائینس کا منبع ہے۔ جماعت احمدیہ کا لٹریچر قرآنی تعلیمات کے عقلی اور سائینسی دلائل سے پر ہے۔ اس لئے ہمیں بھی اس رائے سے اتفاق ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ جس سائینس کو قرآن کے زیر نگیں کرتی ہے، وہ حقیقی سائینس ہے جس کو ثبوت اور تحقیق کے بعد دنیا تسلیم کرتی ہے۔ برق صاحب نے اس اصول کو پس پشت ڈال کر بلا تحقیق ہی لکھ مارتے ہیں کہ فرانسیسی سائینسدان جیک کوسٹو مسلمان ہو گئے تھے۔ حالانکہ اس افواہ کی تردید وہ بارہا خود بھی کر چکے تھے اور فوت ہونے پر ان کی آخری رسومات نوٹرڈیم کے گرجا میں ادا کی گئیں۔ معلوم نہیں ان مولویوں کو اس قسم کے جھوٹے تمغے سجانے کا کیا شوق ہے؟  جھوٹے کی نشانی تو یہی ہوتی ہے کہ بلا تحقیق بات آگے کر دیتا ہے۔

پہلا باب بھی اس کتاب کا سایئنسی تحقیق کا شاہکار ہے۔ چہرہ شناسی کی سائینس تو سب کو معلوم ہے۔ واہ جی۔ شعبدہ بازوں اور فریبی ‘پروفیسروں’ نے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ہوتی ہے۔ قیافہ شناسی ایک قدیم علم ہے اور کئی تہذیبوں میں اس کا وجود ملتا ہے۔ عربوں میں بھی قیافہ کا علم معروف تھا لیکن اس کو کبھی سائینس کا درجہ نہیں دیا گیا۔ کسی مدرسہ میں نہیں پڑھایا گیا، کیونکہ اس علم کا تعلق انسان کے لاشعور سے ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی قیافہ شناس ہے اور اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر لوگوں کے چہرے مہرہ کو جانچتا پرکھتا ہے۔ ہم تو اس بارہ میں کبھی سوچتے بھی نہیں لیکن روزانہ کتنے چہروں کو پڑھ جاتے ہیں۔ ارتقائی سایئنس بتاتی ہے کہ قدیم سے ہی ہمارے لاشعور دوست دشمن کا فرق بتانے کے لئے بہت سے حساب کتاب کرتے ہیں۔ چہرہ، ڈیل ڈول، آواز اور بات چیت، لب و لہجہ، سب کچھ ذہن کے کمپیوٹر میں سے گزر کر ہمیں بتاتا ہے کس کا اعتبار کیا جائے اور کس کا نہیں۔

مصنف نے ایک کتاب کے حوالہ سے لکھا کہ بالوں کی کمی گویا کمزوری کی علامت ہے۔ موصوف ذرا اسلامی تاریخ دیکھ لیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے بال بھی کم تھے اور ان کی شجاعت اور قوت کے کتنے واقعات محفوظ ہیں۔

پھر اپنے ذہن کا آوارہ پن اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ نیم وا نظریں تو خود اعتمادی کی کمی کی نشانی ہیں۔ اگر ان صاحب کو سیرت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا علم ہوتا تو یہ گستاخی ہر گز نہ کرتے۔

لیکن یہ سب باتیں بھی دیکھنے والے کے ذہن پر منحصر ہیں۔ اچھا ذہن اچھا گمان رکھتا ہے۔ اور سعادتمند سچائی کو دیکھ کر پیچان لیتا ہے۔ اسی لئے تو بے شمار ایسے احمدی ہیں جو حضرت مسیح موعود (علیہ اسلام) کی شبیہ دیکھ کر ایمان لے آئے۔ اور یہ باتیں تو روز کا معمول ہیں۔

خیر اس باب میں ایک آدھ بات اور دیکھی جو قابل غور ہے۔ احمد رضا بریلوی کا ذکر آیا تو عرض کر دوں کہ ‘اعلیٰ حضرت’ موصوف بڑے شدومد سے زمین کو ساکن مانتے تھے اور اس سلسلہ میں کتابیں بھی لکھیں۔ اور یہ بھی کہ کشش ثقل نا معلوم کس چڑیا کا نام ہے۔ بریلوی صاحب اس سے بھی انکاری تھے۔ سائینس اگر ان سے سیکھیں تو ایسی کتابیں ہی چھپیں گی۔ غالبا اسی لئے باب کا اختتام مہر علی شاہ گولڑوی کی ڈینگ سے کرتے ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کو بادشاہی مسجد کے مینار سے چھلانگ لگانے کا چیلنج دیا تھا۔ اگر کشش ثقل آب کے مسلک میں حرام ہے تو چھلانگ لگانا کیا مشکل ہوا؟

یہ کتاب سائینس کا کٹہرا تو نہیں، جعلساز، شعبدہ باز پروفیسروں کا سرکس ضرور ہے۔ پہلے باب کے قیافہ شناس دیکھ لئے۔ اگلے باب میں ماہریں صحت ملاحظہ کریں۔

ہرنام داس کویراج، سو سال قبل کے گھٹیا لچر لٹریچر میں ان کا نام بھی ملتا ہے۔ تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔ البتہ غذا اور صحت کے بارہ میں بھی لکھا۔ سائینس کا ان کو دور کا علاقہ بھی نہیں۔

ڈاکٹر نارمن پیل – شاید مصنف کو علم نہیں کہ یہ موصوف پادری تھے۔ اور مسیحی عقائد کی حمایت میں نفسیات کو استعمال کرتے تھے۔ ان کے بارہ میں بھی رائے یہی ہے کہ قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کو گرویدہ کر لیتے۔

رالف والڈو ٹراین – مبہم امریکی ماہر سماجیات۔ جن کی تحاریر بھی سائینس نہیں کہلائی جا سکتیں۔

اس کے علاوہ ایک عیسائی راہب کا ایمان افروز تذکرہ بھی اسی باب میں ہے۔

دوسرا باب بھی مغلظات سے بھرا پڑا ہے۔ ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ المختصر ثابت یہ کیا گیا ہے کہ بیماریاں انسان کے گنہ گار ہونے کا نتیجہ ہوتی ہیں اور اس کو سائینسی طور پر مسیحی عقائد کے محافظوں سے تقویت دی گئی ہے جن کے مطابق انسان ازلی گنہ گار ہے ۔

اگلا باب حضرت مسیح موعود (علیہ السلام ) کی تحریروں کے نام پر لکھا گیا ہے لیکن سایئنسی موضوع پر کوئی اعتراض نہیں ملا۔ ہاں وہی گھسے پٹے حوالے بغیر سیاق وسباق کے جو ہر احمدی دشمن ویبسائٹ پر باسانی دستیاب ہیں اور ان کے جوابات بھی بارہا دیئے جا چکے ہیں۔

باقی کتاب بھی ایسا چوں چوں کا مربہ ہے کہ پڑھنے کی کوشش کے باوجود ناکامی ہوئی ہے۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے اس پوری کتاب میں ایک بھی حقیقی سائینسی حوالہ موجود نہیں۔ مصنف نے اعتراض اکھٹے کئے ہیں اور اپنے ذہن کا گند گھولا ہے۔ اس کے علاوہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مصنف کی علمی وسعت اس گلی تک محدود ہے جہاں غیر معیاری لٹریچر انگریزی سے ترجمہ کر کے بیچا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنی مدد آپ کے طریقے، غذا سے صحت کا حصول، بغیر آپریشن علاج، ٹیلی پیتھی وغیرہ وغیرہ۔ ایسی سائینس آپ کو مبارک۔

فکر کی بات یہ ہے کہ کئی باتیں طب نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام عوام میں ایسی رایج کر دی گئی ہیں جو ایسے ہی مولویوں کی کم علمی کا نتیجہ ہیں۔ اسی کتاب میں طب نبوی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ پاگل پن اور کئی اور امراض پائنچے دراز اور کالر کے استعمال سے ہوتے ہیں۔ واہ ملا جی!

ایک اور جگہ ایک “تحقیق” پیش کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں ہر قسم کے امراض دیگر قوموں کی نسبت کم ہیں۔ یہ ایسے شخص کے قلم سے کھا گیا ہے جو پاکستان میں رہتا ہے۔ جہاں ہیپیٹایٹس سی، ڈینگی، ملیریا، تپ دق اور ٹایفائڈ عام ہے ۔ ہر سال نئی نئی بیماریاں سر اٹھاتی ہیں اور یہ صاحب یہود وںصاریٰ کو بیماریوں کے عذاب میں مبتلا سمجھتے ہیں۔

اس ساری کتاب کا نچوڑ یہ ہے۔ ملا ں آپ کی صحت کے لئے مہلک ہے ۔ اس سے اتنا دور رہیں جتنا یہ علم سے دور ہے۔

 

واسلام۔

 

 

 

مسیح موعود اور ذوالقرنین میں مماثلت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں،

مجھ سے ایک صاحب حکیم مرزا محمود ایرانی نام نے آج ۲؍ستمبر ۱۹۰۲ء ؁ کو بذریعہ ایک خط کے دریافت کیا ہے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں وجدھا تغرب فی عین حمئۃ (سورۃ الکھف آیت 87) ۔پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے۔ لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کومشخص کرتی ہے۔ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرن عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں۔ اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہوگا اُس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دو صدیوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ میرا وجود اسی طرح پر ہے۔ میرے وجود نے مشہور و معروف صدیوں میں خواہ ہجری ہیں خواہ مسیحی خواہ بکرماجیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دو صدیوں پرمشتمل ہے صرف کسی ایک صدی تک میری پیدائش اور ظہور ختم نہیں ہوئے۔ غرض جہاں تک مجھے علم ہے میری پیدائش اور میرا ظہور ہر ایک مذہب کی صدی میں صرف ایک صدی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دو صدیوں میں اپنا قدم رکھتا ہے۔ پس ان معنوں سے مَیں ذوالقرنین ہوں۔

چنانچہ بعض احادیث میں بھی مسیح موعود کا نام ذوالقرنین آیا ہے۔ اُن حدیثوں میں بھی ذوالقرنین کے یہی معنے ہیں۔ جو مَیں نے بیان کئے ہیں۔ اب باقی آیت کے معنے پیشگوئی کے لحاظ سے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قومیں بڑی ہیں جن کو مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے۔ اور مسیحی دعوت کیلئے پہلے انہیں کا حق ٹھہرایا گیا ہے۔ سو خدا تعالیٰ ایک استعارے کے رنگ میں اس جگہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے اپنی سیر میں دو قوموں کو پائے گا۔ ایک قوم کو دیکھے گا کہ وہ تاریکی میں ایک ایسے بدبو دار چشمے پر بیٹھی ہے کہ جس کا پانی پینے کے لائق نہیں اور اس میں سخت بدبو دار کیچڑ ہے اور اس قدر ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہہ سکتے۔ یہ عیسائی قوم ہے جو تاریکی میں ہے جنہوں نے مسیحی چشمہ کو اپنی غلطیوں سے بدبو دار کیچڑ میں ملا دیا ہے۔ دوسری سیر میں مسیح موعود نے جو ذوالقرنین ہے ان لوگوں کو دیکھا جو آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور آفتاب کی دھوپ اور اُن میں کوئی اوٹ نہیں۔ اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ اس سے بدن اُن کے جل رہے ہیں اور اوپر کی جلد سیاہ ہوگئی ہے۔ اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجز جلنےؔ کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا۔ یعنی اُن کو توحید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی۔ یعنی دینداری کی سچی خوبصورتی اور سچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصّب اور کینہ اور اشتعالِ طبع اور درندگی کے چلن ان کے حصہ میں آگئے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس پیرایہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور اُن کے حصّہ میں صرف ایک بدبو دار کیچڑ ہوگا۔ جس کو عربی میں حمأ کہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے ہاتھ صرف خشک توحید ہوگی جو تعصّب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے۔ اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہوگی۔ اور پھر مسیح جو ذوالقرنین ہے ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہوگی اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور اُن کی طبیعتیں سعادتمند ہوں گی۔ اور وہذوالقرنین سے جو مسیح موعود ہے مدد طلب کریں گے تا یاجوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور تاوہ اُن کے لئے سدِّ روشن بنادے گا۔ یعنی ایسے پختہ دلائل اسلام کی تائید میں ان کو تعلیم دے گا۔ یاجوج ماجوج کے حملوں کو قطعی طور پر روک دے گا۔ اور اُن کے آنسو پونچھے گا۔ اور ہر ایک طور سے ان کی مدد کرے گا۔ اور اُن کے ساتھ ہوگا۔ یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قبول کرتے ہیں۔ یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ اور اس میں صریح طور پرمیرے ظہور اور میرے وقت اور میری جماعت کی خبردی گئی ہے۔

پس مبارک وہ جو ان پیشگوئیوں کو غور سے پڑھے۔ قرآن شریف کی یہ سنّت ہے کہ اس قسم کی پیشگوئیاں بھی کیا کرتا ہے کہ ذکر کسی اَور کا ہوتا ہے اور اصل منشاء آئندہ زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورۃ یوسف میں بھی اِسی قسم کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ یعنی بظاہر تو ایک قصّہ بیان کیا گیا ہے مگر اس میں یہ مخفی پیشگوئی ہے کہ جس طرح یوسف کو اوّل بھائیوں نے حقارت کی نظر سے دیکھا مگر آخر وہی یوسف اُن کا سردار بنایا گیا۔ اس جگہ بھی قریش کے لئے ایسا ہی ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ردّ کر کے مکّہ سے نکال دیا۔ مگر وہی جو ردّ کیا گیا تھا ان کا پیشوا اور سردار بنایا گیا۔ بڑا تعجب کا مقام ہے کہ اس قدر بار بار مسیح موعود یعنی اس عاجز کی نسبت قرآن شریف میں پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں مگر پھر بعض ایسے لوگ جو اپنے اندر بصیرت کی رُوح نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ لوگ اُن عیسائیوں کی طرح ہیں جو اب تک کہتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بائیبل میں کوئی پیشگوئی نہیں۔

چشم باز و گوش باز و ایں ذ کا      خیرہ ام از   چشم   بندئ    خدا

ایں کمان  از تیرہاُ   پر   ساختہ       صید نزدیک است دور انداختہ

(لیکچر لاہور، روحانی خزائین، جلد 20، صفحہ 200)

ڈچ دشمن اسلام کو امام جماعت احمدیہ کا انذار

ہالینڈ کے سیاستدان گیرٹ ولڈرز کے اسلام دشمن کرتوت سب زمانہ جانتا ہے۔ یہ صاحب اسلام کو یورپ کے امن اور سلامتی کے لئے خطرہ جانتے ہیں اور ان کی پارٹی بڑی شدت سے ہالینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں اسلام مخالف پراپیگینڈے میں سر گرم ہے۔ موجودہ معاشی حالات اور اقتصادی بحران کی وجہ سے کم علم یورپی عوام کی ایک  بڑی تعداد اس دشنام طرازی کو کسی نہ کسی صورت درست مانتی ہے۔ اور اس وجہ سے نسل پرستی اور عدم برداشت کی فضا بنتی نظر آتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ گیرٹ ولڈرز اور ان کے ہمنوا قرآن کریم کی اشاعت اور تشہیر پر پابندی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ اور نعوذ باللہ قران کو ایک فاشسٹ، ظلم و بربریت کی تعلیم دینے والی کتاب بتاتے ہیں۔

اس کے جواب میں جماعت احمدیہ نے کئی سالوں سے پورے یورپ میں اسلام کے صحیح پیغام کی تشہیر کی تحریک جاری کی ہوئی ہے۔ شہر شہر امن کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں، گھر گھر اسلام کے امن اور محبت کے پیغامات اشتہاروں کی صورت پہنچائے جا رہے ہیں اور قرآن مجید کے درجنوں زبانوں میں تراجم کی نمائشیں لگائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے دورہ ہالینڈ کے دوران گیرٹ ولڈرز اور اس کی جماعت کو خبردار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے ہم خیالوں کو تباہ و برباد کر دے گا، اور اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے پیغام کو ابد تک قائم اور فتح نصیب رکھے گا۔  حضور نے مزید فرمایا کہ اسلام کی کامیابی اور اسلام دشمنوں کی بربادی کسی دنیاوی ذریعہ سے نہیں، بلکہ احمدیوں کی دعاؤں سے ہی وقوع پذیر ہو گی۔

یہ پیغام گیرٹ ولڈرز تک کیا پہنچا، اس کے ہم خیالوں نے واویلا شروع کر دیا کہ گویا جماعت احمدیہ نے جاہل بنیاد پرستوں کی طرح اس کو قتل کی دھمکی دی ہے۔ گیرٹ ولڈرز نے اس بات کی شکایت بھی ڈچ حکومت کو کی اور ڈچ وزیر داخلہ نے کمال انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ٹکا سا جواب دے دیا کہ موصوف مکمل طور پر امام جماعت احمدیہ کے الفاظ پڑھ لیں جس میں کسی قسم کی دھمکی کا شائبہ تک نہیں ہے۔

اب دیکھیں کہ کب اللہ تعالیٰ کی تقدیر ان ظالموں کو پکڑتی ہے۔ شاتم رسول اور دشمن اسلام تو اللہ سے مقابلہ کرتے ہیں، اور ان کا جواب اللہ تعالیٰ خود ہی دیتا ہے۔ انشااللہ۔

میں یہ کس کے نام لکھّوں

 
میں یہ کس کے نام لکھّوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں

کوئی غنچہ ہو کہ گُل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو
وہ ہوائے گُلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطّہء زمیں پر
وہی خطہء زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں

وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہَوا میں جھولتے تھے
وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی
سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں

 
عبید اللہ علیم
 

دجال، دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

“اب یہ شبہات پیش کئے جاتے ہیں کہ دجّال دائیں آنکھ سے کاناہو گا اور یاجوج ماجوج اسی زمانہ میں ظہور کریں گے اور دابۃ الارض بھی آئے گا اور دُخان بھی اور طلوع شمس مغرب کی طرف سے ہوگا اور امام محمد مہدی بھی اس وقت ظہورکرے گا اور دجّال کے ساتھ بہشت اور دوزخ ہوگا اور زمین کے خزانے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اورایک پہاڑ روٹیوں کابھی ساتھ ہوگا۔اورایک گدھابھی ہوگا اور دجّال اپنے شعبدے دکھائے گا اورؔ آسمان اور زمین دونوں اس کے حکم میں ہوں گے جس قوم پر چاہے بارش نازل کرےاور جس قوم کو چاہے خشک سالی سے ہلاک کردے۔

اور انہیں دنوں میں قومیں یاجوج اورماجوج کی ترقی پر ہوں گی اور زمین کو دباتی چلی جاویں گی اورہر یک بلند زمین سے دوڑے گی اور دجّا ل ایک جسیم آدمی سُرخ رنگ ہوگا۔ یہ تمام علامتیں اب کہاں پائی جاتی ہیں۔ اِن شبہات کا ازالہ اس طرح پر ہے کہ یک چشم سے مراد درحقیقت یک چشم نہیں۔اللہ جلَّ شَانُہٗ قرآن کریم میں فرماتاہے و من کان فی ھٰذہ اعمٰی فھو فی الآخرۃ اعمٰی کیا اس جگہ نابینائی سے مراد جسمانی نابینائی ہے بلکہ روحانی نابینائی مراد ہے اورمطلب یہ ہے کہ دجّال میں دینی عقل نہیں ہوگی اورگودنیا کی عقل اس میں تیز ہوگی اور ایسی حکمتیں ایجادکرے گا اور ایسے عجیب کام دکھلائے گا کہ گویا خدائی کا دعویٰ کررہا ہے لیکن دین کی آنکھ بالکل نہیں ہوگی۔ جیسے آج کل یورپ اور امریکہ کے لوگوں کاحال ہے کہ دنیا کی تدبیروں کا انہوں نے خاتمہ کردیاہے۔

اورحدیث میں جو کَاَنِّی کا لفظ موجود ہے وہ بھی دلالت کر رہا ہے جو یہ ایک کشفی امر اور لائق تعبیر ہے جیساکہ ملّا علی قاری نے اسی کی طرف اشارہ کیاہے۔ اورؔ یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہوچکا ہے جو یہ دنیاکی دو بلند اقبال قومیں ہیں جن میں سے ایک انگریز اوردوسرے روس ہیں۔ یہ دونوں قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کررہی ہیں یعنی اپنی خداد اد طاقتوں کے ساتھ فتحیاب ہوتی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کی بدچلنیوں نے مسلمانوں کو نیچے گرادیا۔ اور اُن کی تہذیب اور متانت شعاری اورہمت اوراُلوالعزمی اورمعاشرت کے اعلیٰ اصولوں نے بحکم و مصلحت قاد ر مطلق ان کو اقبال دے دیا۔ان دونوں قوموں کا بائبل میں بھی ذکر ہے۔ اور دآبۃُ الارض سے مراد کوئی لایعقل جانورنہیں بلکہ بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ آدمی کا نام ہی دآبۃُ الارض *ہے۔

اور اس جگہ لفظ دآبۃُالارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کامراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندرنہیں رکھتے لیکن زمینی علوم و فنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کرکے بجان و دل خدمت شریعت غرّا بجا لاتے ہیں۔سو وہ چونکہ درحقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں۔ اور آسمانی روح کامل طور پر اپنےؔ اندرنہیں رکھتے اس لئے دآبۃُالارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے اورنہ کامل وفاداری۔ اس لئے چہرہ اُن کا انسانوں کاہے مگر بعض اعضاء اُن کے بعض دوسرے حیوانات سے مشابہ ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جلَّ شَانُہٗ اشارہ فرماتاہے 3333 ۱؂ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدّر قریب آجائے گا توہم ایک گروہ دابۃالارض کا زمین میں سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کاہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اورفلسفہ میںیدِ طولیٰ ہوگا۔ وہ جابجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طورپر مشارق مغارب میں پھیلائیں گے اور اس جگہ اَخْرَجْنَاکا لفظ اس وجہ سے اختیار کیاکہ آخری زمانہ میں اُن کا خروج ہو گا نہ حدوث یعنی تخمی طور پر یا کم مقدارکے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر یک زمانہ میں وہ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ پیدا ہوںؔ گے اورحمایت اسلام میں جا بجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہوجائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے۔ واضح ہو کہ یہ خروج کا لفظ قرآن شریف میں دوسرے پیرایہ میں یاجوج ماجوج کے لئے بھی آیا ہے اور دخان کے لئے بھی قرآن شریف میں ایسا ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے معنوں کا ماحصل خروج ہی ہے اور دجّال کے لئے بھی حدیثوں میں یہی خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سو اس لفظ کے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ چیزیں جو آخری زمانہ میں ظہور پذیرہوں گی وہ ابتدائی زمانوں میں بکلّی معدوم نہیں ہوں گی بلکہ اپنے وجود نوعی یامثالی کے ساتھ جو آخری وجود کا ہمرنگ اور مماثل ہوگا پہلے بھی بعض افراد میں ان کا وجود متحقق ہوگالیکن وہ وجود ایک ضعف اور کمزوری اورناکامی کی حالت میں ہوگا۔

مگر دوسرا وجود جس کو خروج کے لفظ سے تعبیر کیا گیاہے اس میں ایک جلالی حالت ہوگی یعنی پہلے وجود کی طرح ضعف اور کمزوری نہیں ہوگی اور ایک طاقت کے ساتھ اس کا ظہورہوگا جس کے اظہار کے لئے خروج کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔ اِسی بنا پر مسلمانوں میں یہ خیال چلا ؔ آتا ہے کہ مسیح دجّال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے موجود ہے اور پھر اُن کے خیالات میں ایسی غلطی پک گئی ہے کہ ابتک مسیح ابن مریم کی طرح اس کو زندہ سمجھا ہوا ہے۔ جوکسی جزیرہ میں مقید اورجکڑاہوا ہے اور اس کی جساسہ بھی اب تک زندہ ہے جو اس کو خبریں پہنچارہی ہے افسوس کہ یہ لوگ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غلط فہمی کر کے کیسی مصیبتوں میں پھنس گئے۔ ایسا ہی یہ لوگ یاجوج ماجوج کو بھی وجود شخصی کے ساتھ زندہ سمجھتے ہیں یعنی بقا ء شخصی کے قائل ہیں۔

اب جبکہ دجّال اور اس کی جساسہ اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا آدمی اور دابۃ الارض اور بقول بعض ابن صیّاد بھی اب تک زندہ ہیں تو حضرت مسیح اگر زندہ نہ ہوں تو ان کی حق تلفی ہے۔ میرے نزدیک بہت سہل طریق ثبوت کا یہ ہے کہ مولوی صاحبان کوشش کر کے کوئی یاجوج ماجوج کا آدمی یا دجّال کی جساسہ یا ابن صیّاد کو ہی کسی جنگل سے پکڑ کرلے آویں پھر کیا بات ہے سب مان جائیں گے کہ اسی طرح حضرت مسیح بھی آسمان پر زندہ ہیں اور مفت میں فتح ہوجائے گی۔

حضرات ! اب ہمت کیجئے کہیں سے دجّال شریر کی جساسہ کو ہی پکڑؔ یئے حوصلہ نہ ہاریں آخر یہ سب زمین پر ہی ہیں۔ابن تمیم کی حدیث کو مسلم میں پڑھ کر اسی پتہ سے جساسہ دجّال کا سُراغ لگائیے یا خبیث دجّال کو ہی جو زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے بچشم خود دیکھ کر پھر اَوروں کو دکھلائیے۔ بات تو خوب ہے۔انگریزوں نے ہمت اور کوشش کر کے نئی دنیا کا سُراغ لگا ہی لیا۔ آپ اس ایک ناکارہ کام میں ہی کامیابی دکھلائیے شاید ان لوگوں میں سے کسی کا پتہ چلے بہر کارے کہ ہمت بستہ گردد۔ اگر خارے بود گلدستہ گردد۔ اور اگرایسا نہیں کرو گے تو پھر خیر اس میں ہے کہ ان بیہودہ خیالات سے بازآجائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی جاندار اس وقت سے سو برس تک زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر آپ ناحق ان سب جانداوں کو اس زمانہ سے آج تک زندہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق اور تدقیق کا زمانہ ہے اسلام کا ایسا خاکہ کھینچ کر نہ دکھلائیے جس پر بچہ بچہ ہنسی کرے۔ غور کرکے سوچئے کہ یہ کروڑہا انسان جو صدہا برسوں سے زندہ فرض کئے گئے ہیں جو اب تک مرنے میں نہیں آتے کس ملک اور کس شہر میں رہتے ہیں۔ تعجب کہ معمورۂ دنیا کیؔ حقیقت بخوبی کھل گئی اورپہاڑوں اور جزیروں کا حال بھی بخوبی معلوم ہو گیا اور تفتیش کرنے والوں نے یہاں تک اپنی تفتیش کوکمال تک پہنچادیا جو ایسی آبادیاں جو ابتدا ءِ دُنیا سے معلوم نہ تھیں وہ اب معلوم ہوگئیں مگر اب تک اس جساسہ اوردجّال اورابن صیّاد مفقود الخبر اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا انسانوں کا کچھ پتہ نہیں ملتا۔ سو اَے حضرات ! یقینًا سمجھو کہ وہ سب جاندار جو انسان کی قسم میں سے تھے اس دنیا سے کوچ کرگئے پردۂ زمین میں چھپ گئے اور مسلم کی سو برس والی حدیث نے اپنی جلالی سچائی سے موت کا مزہ اُنہیں چکھا دیا۔ اب ان کی انتظار آپ کی خام خیالی ہے۔ اب تو اِنّا للّٰہ کہہ کر ان کورخصت شدہ سمجھئے۔”

حاشیہ صفحہ 369:
(آثارالقیامہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے پوچھا گیا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دآبۃُالارض آپ ہی ہیں تب آپ نے جواب دیا کہ دآبۃ الارض میں تو کچھ چارپایوں اور کچھ پرندوں کی بھی مشابہت ہو گی۔ مجھ میں وہ کہاں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ دآبۃ الارض اسم جنس ہے جس سے ایک طائفہ مراد ہے۔ منہ)

(ازالہ اوہام، صفحہ 369-372)

مخالفین احمدیت کی پسپائی

اگرچہ کہ جماعت احمدیہ کے دشمنان آغاز ہی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے لڑنے کے حیلے کرتے رہے ہیں لیکن دشمنی کا معیار پست سے پست ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ایک دور تھا کہ اپنے دور کے بڑے بڑے علماء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ مولوی بٹالوی، امرتسری، دہلوی، غزنوی، بریلوی، گولڑوی اور نہ جانے کتنے ہی اورعلماء سوء اللہ کے شیر کو للکارنے اٹھے اور پھر ان کو وہ ذلت دیکھنی پڑی جو مکذبین کا مقدر ہے۔  چونکہ ان اصحاب نے رسمی دینی تعلیم حاصل کر رکھی تھی اس لئے ان کے اعتراضات میں سے اکثر علمی نوعیت کے ہوتے تھے۔ اور اس میدان میں جب ان کو منہ کی کھانی پڑی تو پھر قرآن کی نشانیوں کے مطابق ان لوگوں نے گھٹیا پروپیگینڈے کا سہارا لیا۔ اسلام دشمنی کی حد تک کام کئے اور کئی مولوی تو گالی گلوچ کو عین اسلام سمجھ کر اسی شغل میں مصروف ہو گئے۔

خیر ہر نسل کا ملا اسی طریق پر چلتا رہا- جہاں علم ختم ہوتا وہاں گالی شروع ہو جاتی۔ مناظرہ اور دشنام طرازی میں فرق گھٹتا گھٹتا بس اب ختم ہی ہو چلا ہے۔ جس مولوی کو سنو، عقیدہ پر کلام کرے سے پرہیز ہی رکھتا ہے۔ ہاں مغلظات اور فحش کلامی پر ان کی مہارت قابل دید ہے۔  ایک آدھ علمی قسم کا مولوی کبھی نظر آجائے تو شکر ادا کرتا ہوں کہ کسی کی بات سننے کا وقت نکالا جا سکتا ہے۔

پھر پرانے دور کے ملا کم از کم جماعت کی کتب پڑھ لینے کی تکلیف کر لیتے تھے۔ اور بڑی عرقریزی سے حوالوں کی قطع برید کر کے ان سے اعتراض تراشتے – پھر کتابیں شائع کرتے۔ یہاں مہر علی شاہ گولڑوی صاحب کا نام منہا سمجھیں کہ پیر صاحب سرقہ کرگئے تھے۔ اب وہ دور ہے کہ ہر مولوی جو جماعت احمدیہ کے خلاف زبان درازی کرتا ہے، بلا تحقیق کرتا ہے۔ وہی پچاس سال پرانی کتب کے رٹے رٹائے اعتراضات ہوتے ہیں اور مولوی نئے۔

پھر ایک نئی رو مخالفت کی چلی ہے۔ جو ملاں کی پسپائی کا مزید ثبوت ہے۔ حسد کی آگ میں بھسم ہوئے صاحبان اب عام احمدیوں کے بارہ میں بہتان آمیز باتوں کی تشہیر کر کے اور احمدی کاروباروں کا بائکاٹ کر کے یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت کو نقصان پہنچائیں گے۔ یعنی اپنے زعم میں اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ بدظنی، بد معاملگی، بد اخلاقی، حسد، غیبت اور جھوٹ۔۔ بس یہی ان کے پاس رہ گیا ہے اب؟

کسی دشمن کی پسپائی کا یہی ثبوت کافی ہوتا ہے کہ کھلے میدان میں للکارنے سے ڈرتا ہے۔ گھٹیا اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے۔

ہمارے پیارے امام مہدی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ہمیں یہ تعلیم دی ہے۔

“ مگر میں کہتا ہوں کہ ناانصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔ حق کو قبو ل کرلو اگرچہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤتو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔ سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔ جیساکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے یعنی بُتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھیؔ کہ وہ بُت سے کم نہیں۔ جو چیز قبلۂ حق سے تمہارا مُنہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بُت ہے۔ سچی گواہی دواگرچہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یادوستوں پر ہو۔ چاہیئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ باہم’’ بخل‘‘ اورکینہ اور حسد اور بُغض اور بے مہری چھوڑدو اور ایک ہوجاؤ۔قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزاسمہ‘۔ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔ اور ان حکموں کو اس نے تین درجہ پر منقسم کیاہے۔ جیسا کہ استعدادیں بھی تین ہی قسم کی ہیں اور وہ آیت کریمہ یہ ہے۔ ۔پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو ظالم نہ بنو۔ پس جیسا کہ درحقیقت بجُز اُس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں۔ کوئی بھی محبت کے لائق نہیں کوئی بھی توکّل کے لائق نہیں۔”

(ازالہؑ اوہام، حصہ دوم)

بند کمرہ…

معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کی بند کمرے والی کاروائی شائع ہو رہی ہے۔

کون سا بند کمرہ۔؟

 دہشت گردی کے اسباب معلوم کرنے والا بند کمرہ۔

وہ 2009 والا اجلاس؟ جس میں ملک کے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ اس خون خرابے کی وجہ جاننے کے لئے بیٹھے تھے؟

نہیں بھئی۔ وہ والا نہیں۔ ویسے بھی اس میں جو کچھ کہا سنا گیا سبھی کو پتہ ہے۔

 اچھا تو پھر ایبٹ آباد حملے والا اجلاس ہو گا۔۔ واہ حضرت کیا مزیدار بات بتائی ہے۔ یعنی وہ بند کمرہ جس میں فوجی جرنیل گھنٹوں بھوکے پیاسے بیٹھے سیاستدانوں کی سنتے رہے۔ جہاں مذھبی جماعتوں کو آئی ایس آئی کے طعنے ملے۔۔ اس کو پڑھنے کا مزہ تو آئے گا، لیکن دہشت گردی کے اسباب تو معلوم نہ ہونگے۔۔

 نہیں۔ یہ بھی نہیں۔ جناب، یہ بند کمرہ 1974 والا اجلاس ہے۔ دوسری آئینی ترمیم ہوئی۔ مسلمان کافر میں تمیز ہوئی۔ 1400 سال کے بعد قرآن اور حدیث کو سمجھنے والے مدبرین اکٹھے بیٹھے اور مسلمان کی تعریف دریافت کی۔ وہ والا بند کمرہ۔

 لیکن بھائی صاحب، اس بات کا دہشت گردی سے کیا تعلق؟ قادیانی اگر غیر مسلم قرار پائے تو اس سے ملک کا کیا جاتا ہے؟

 یہ آپ ذرا ان کالعدم تنظیموں سے پوچھیں جو افغان جنگ سے پہلے ہماری مذہبی جماعتوں میں ہی شامل تھیں۔74 کی کامیابی کے بعد ریاستی تکفیر کا راستہ کھلا۔ لیکن اس کے بعد نہ شیعہ کافر ہوئے، نہ اسماعیلی، نہ ذکری۔۔۔ لیکن فتووں کی شدت میں اضافہ ضرور ہوا۔ اب دیکھئے کتنے فرقہ وارانہ واقعات اس دور کے بعد ہوئے۔

چھوڑیں جی۔ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے۔۔

 امریکا براستہ سعودیہ جناب۔۔

 کیا مطلب؟

 بھٹو صاحب کو شاہ فیصل کہ شہ ملی تو 74 کا فیصلہ ہوا۔ پھر سعودی کرمفرماؤں نے ہمارے دیس میں ریالوں کی ریل پیل کردی۔ افغان جہاد کے نام پر مدرسے، ٹریننگ کیمپ کھلے۔۔ متشدد اسلامی نقطہ نظر کو ریاستی ہمدردی حاصل ہوئی۔ اور بھٹو صاحب کی سیاسی چال نے ملک کی شناخت کا بیڑہ غرق کر دیا۔۔۔۔

وہ والا بند کمرہ؟

جی۔۔ وہی والا؟؟

اسامہ بن لادن کی موت – جنگ کے جنون کا انجام

نئے عہد نامہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک قول درج ہے کہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔ یعنی جنگ و جدل کی تمنا کرنے والوں کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ اس کی مخلوق پر ظلم کرنے والے نشان عبرت بن جاتے ہیں۔ جہاد کے نام پر فساد کرنے والے کسی بھی مسلمان کو کبھ کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔

ایسے واقعات سے ان لوگوں کو سبق ہونا چاہیئے جو اب بھی کسی خونی جنگ کے منتظر ہیں جس کے بعد اسلام کی فتح ہو گی۔ اسلام کا غلبہ صرف اور صرف امن کے قیام سے ہی ہو گا۔ انشاءاللہ۔

جہاد کی حقیقت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔

“اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانوں میں مشہور ہے۔ سو مجھے خداتعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آج کل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔ بے شک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا۔ اور اس کی بنا صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کیلئے ناحق تلواریں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہا تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے۔ مگر پھر بھی یہ عذاب موسیٰ کی لڑائیوں کی طرح بہت سختی اپنے اندر نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ جو شخص قبول اسلام کے ساتھ اگر وہ عربی ہے یا جزیہ کے ساتھ اگر وہ غیر عربی ہے پناہ لیتا تھا تو وہ عذاب ٹل جاتا تھااور یہ طریق بالکل قانون قدرت کے موافق تھا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے عذاب جو وباؤں کے رنگ میں دنیا پر نازل ہوتے ہیں وہ صدقہ خیرات اور دعا اور توبہ اور خشوع اور خضوع کے ساتھ بیشک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب شدت سے وبا کی آگ بھڑکتی ہے تو طبعاً دنیا کی تمام قومیں دعا اور توبہ اور استغفار اور صدقہ خیرات کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرنے کیلئے ایک طبعی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت طبائعانساؔ نیہ کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ایک طبعی امر ہے۔ اور توبہ اور دعا کرنا عذاب کے وقتوں میں انسان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ یعنی توبہ اور استغفار سے عذاب ٹل بھی جاتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کا عذاب ٹل گیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی دعا سے کئی دفعہ بنی اسرائیل کا عذاب ٹل گیا۔ سو خدا تعالیٰ کا ان کفار کو جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں پر بہت سختی کی تھی یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی قتل کئے تھے۔ تلوار کے عذاب سے شکنجہ میں گرفتار کرنا اور پھر ان کی توبہ اور رجوع اور حق پذیری سے نجات دے دینا یہ وہی خدا کی قدیم عادت ہے جس کا مشاہدہ ہر زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے.”

روحانی خزائین جلد 12 – تحفہ قیصریہ

جاوید چودھری صاحب کے نام

مکرم جاوید چودھری صاحب، اسلام و علیکم،

آپ کا کالم زیرو پوائنٹ پڑھا جس میں آپ نے بانئ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی موعود (علیہ السلام) کی طرف ایک غلط عقیدہ منسوب کیا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر اس دور کے فتنہ پرداز علماء کی تعریفیں کی ہیں۔

آپ کی تصحیح کے لئے عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کا دعویٰ امتی نبوت کا تھا۔ آخری نبوت کا نہیں۔ جماعت احمدیہ کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں اور آپ کی نبوت تا قیامت قائم ہے۔ اس لئے آپ کے بعد کسی نبی کے ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

مزید آپ نے لکھا کہ جماعت احمدیہ کے عقائد گویا توہین رسالت کے زمرہ میں آتے ہیں۔ یعنی فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ جو بھی قادری کی طرح ثواب کمانا چاہے تو سو بسم اللہ۔

آپ کی تحریر میں تضادات ہی تضادات ہیں۔ ایک طرف تو آپ خلفاء راشدین کے اسوہ بیان کرتے ہوئے مدعیان نبوت کی سزا قتل تجویز کرتےہیں۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب وغیرہ کا جرم بغاوت تھا۔ اگر دعویٰ نبوت کی سزا دینی ہوتنے تو رسول اللہ (ص) خود سزا دیتے جن کی حیات مبارک میں ہی انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

پھر آپ ہندوستان کے ان علماؑ اور مشائخ کا ذکر کرتےہیں جنہوں نے قادیان کی طرف لانگ مارچ کئے۔ لیکن افسوس کہ وہ صحابہ اور خلفاءراشدین کی سنت کا اظہار نہ کر سکے اور احمدی مسلمانوں کی جانیں بچی رہیں۔ کیسے عالم تھے کہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تقریریں تو کرتے رہتے لیکن اسلام کی روح کو قائم نہ کر سکے۔ نہ ان سے مرتد قتل ہوئے نہ ان کی عورتیں قبضہ میں آئیں، نہ ہی ان کی جائدادیں قابو ہوئیں۔

آپ کہتے ہیں کہ کسی جید عالم نے احمدیوں کے خلاف کوئی فتویٰ قتل نہ دیا۔ حالانکہ تاریخ ان فتووں سے بھری پڑی ہے۔ اصل میں مسئلہ تو مولوی کی منافقت اور بزدلی کا تھا۔ انگریز کے ہوتے ہوئے دبے لفظوں فتوے جاری ہوتے لیکن ان پر عملدرامد کراتا کون؟ پاکستان بننے کی دیر تھی۔ پھر احراریوں کو کھلی چھٹی ملی-حکومت اور ادارے یرغمال ہوئے اور احمدیوں کے جان و مال بھی حلال ٹھہرائے گئے۔

1947 سے قبل احمدی افغانستان میں شہید ہوئے جہاں ظالم امراء کا تسلط تھا۔  1940 میں ایک احمدی خاندان کو انبالہ میں شہید کیا گیا۔ یہ احرار کے پر فتن دور کا عروج تھا۔ آپ کے امیر شریعت قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے جہاد میں مشغول تھے۔ نہ جانے کوئی فتویٰ تھا یا کھیل کود۔ لیکن ان مولوی صاحبان کو خون کی آرزو ضرور تھی۔

پاکستان کا قیام ہونا ہی تھا کہ ہر سال احمدی قتل ہونا شروع ہوئے۔ 1948 میں سات احمدی شہید ہوئے۔ اس کے بعد کوئی سال ایسا نہیں گزرا جس میں کوئی احمدی شہید نہ ہوا ہو۔ یہ ظلم انڈونیشیا اور افریقہ میں بھی شروع ہو گئے – حتیٰ کہ امریکہ میں بھی ایک احمدی شہید کئے گئے۔

28 مئی 2010 کے سانحہ سے قبل تک سینکڑوں احمدی شہید کئے جا چکے تھے۔ اور اس واقعہ کے بعد سات اور احمدی شہید ہو چکے ہیں۔ آج تک ایک قاتل بھی سزایاب نہیں ہوا۔

آپ کہتے ہیں کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے کا مقصد گویا احمدیوں کی جان ومال کا تحفظ تھا۔ ذرا خود ہی دیکھ کر بتائیں کہ کیا اس فیصلے کا احمدیوں کی حفظ و امان پر کوئی مثبت اثر ہوا؟ آپ کے امیر شریعت صاحب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن اقدام قتل کا مقدمہ چونکہ سنگین ہوتا ہے اس لئے منافقت دکھا گئے اور دل کی بات گھٹیا لطیفوں اور گندے جملوں میں گول کرتے رہے۔  منیر کمیشن رپورٹ میں ان کی حرکتوں کی تفصیل موجود ہے۔  اور پھر اخیر عمر میں یہ موصوف اپنی ہی زبان کو ملامت کرتے رہے۔

معلوم نہیں آپ کیا بنیاد بنا کر عوام کو کس قسم کا اسلام سکھا رہے ہیں۔ اگر یہ عطاؑ اللہ شاہ بخاری اور مہر علی شاہ وغیرہ کا اسلام ہے تو عوام  ٹھیک ہے کہ قادری پر پھول نچھاور کرکے ثواب کما رہی ہے۔ تاریخ میں منافقین اور علماء سوء کی کمی نہیں۔ سارے کے سارے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کے ذمہ دار ہیں۔ مودودی کیا تو بخاری کیا۔ سب مجرم ہیں اور اسلام میں شدت پسندی کے ذمہ دار بھی۔

آپ کو مشورہ ہے کہ اپنی معلومات براہ راست حاصل کریں۔ نہ ہی جماعت احمدیہ کے عقائد خلاف اسلام ہیں اور نہ ہی اسلام میں کوئی جبر ہے۔ توہین رسالت کا قانون بھی ظالمانہ ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان کے خلاف ہے۔

اور جہاں تک ملک کے قبرستان بننے کا تعلق ہے۔ جب تک آپ احراری طاقتوں کوہیرو اور اسلام کے ٹھیکیدار بنا کر پیش کرتے رہیں گے، ہمارا ملک اس جاہلانہ تاریکی میں ڈوبتا چلا جائے گا۔ خدارا ہوش کرلیں۔

واسلام،

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 147 other followers