جماعت احمدیہ اسلامیہ

بجواب “مذھبی سوالنامہ” نمبر 2، 3، 4

سعد صاحب نے http://saadblog.wordpress.com/2010/07/29/questionnaire/ اس بلاگ میں مزید سوال کیے ہیں۔

سوال ۲:  پیغمبرانہ بیماری کون سی ہے؟

1. بخار                                 2. دردِ سر                   3. پیچش

دراصل سب بیماریاں بشری ہیں۔  گندہ ذھن لوگوں کو کون سمجھاۓ؟

سوال ۳: نبی کون سی چیز ظاہر کرتا ہے؟

1.معجزہ                               2.کرامت                     3. نشان

ایک ہی لفظ کے مختلف ترجمے ہیں۔ "trick question” ہے شائد۔

سوال ۴: اسلام میں فرضیت جہاد کس دور میں ختم ہوئی؟

1. فتح مکہ کے بعد             2.صلیبی جنگوں کے دور میں            3. انگریزوں کے دور میں

جہاد کے تو مختلف پہلو ہیں مثلاً تلوار کا جہاد ہے ، وقت کی قربانی پیش کرنے کا جہاد ہے ، تبلیغ اسلام کا جہاد ہے اور نفس کا جہاد ہے وغیرہ وغیرہ ۔ بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس جہاد کو منسوخ قرار دیا ؟ نیز یہ کہ کیا اسلامی جہاد کے تصور کو منسوخ کہا یا لوگوں کے بگڑے ہوئے تصوّرِ جہاد کو حرام قرار دیا ؟ تو آئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی زبان سے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔ لیکن قبل اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش کیا جائے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس اقتباس میں جس پادری کا ذکر ہے اس کا پس منظر کیا ہے ؟

اس* (یہ مفصّل مضمون امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ کے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء سے ماخوذ ہے۔) کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پادری خصوصاً وہ جو مسلمانوں سے مرتد ہوئے تھے اسلام پر شدید حملے کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اسلام تلوار کے جہاد کی تلقین کرتا ہے اور ادھر انگریزی حکومت کو انگیخت کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دو۔ ان میں اٹھنے کی طاقت سلب کر لو ۔ یہ وہ دور تھا جبکہ عیسائی پادری بڑھ بڑھ کر انگریزوں کو مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کی وجہ سے بھڑکاتے تھے۔ یہ پادریوں کا ظالمانہ حملہ تھا اور ان کی اسلام دشمنی کا ثبوت تھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ اس بہانے سے مسلمانوں کو ہندوستان میں کچل دیا جائے اور ہندو طاقت کی سرپرستی کی جائے اور اسے ابھارا جائے جبکہ ہندوؤں کا بھی یہی طریق تھا کہ وہ بار بار انگریز حکام کو مخاطب کر کے توجہ دلاتے تھے کہ اصل خطرہ تمہیں مسلمانوں سے ہے اس لئے ان مرے مٹوں کو اور بھی بالکل مٹا دو ، برباد کر دو ، اٹھنے کی طاقت کا خیال ہی ان کے دل سے نکال دو ۔ پادری عماد الدین سابق واعظ وخطیب جامع مسجد آگرہ جس کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے اس کے ایسے ہی الزامات کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’ اس نکتہ چین نے جو جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو ا س سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افتراء نہیں ۔اگر کوئی سوچنے والا ہو ۔ سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑانے کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو اس پر ایمان لانے سے روکیں اور اس کے دین میں د اخل ہونے سےروکتے ہیں اور اس بات سے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور وہ ان لوگوں سے لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنون کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبراً اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے اور مومنون پر واجب ہے کہ ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں۔ ‘‘(نور الحق حصہ اول ۔ترجمہ از عربی عبارت ۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۶۲ )

یعنی بنفسہ جہاد نہیں،جہاد کے غلط تصوّرات اسلام کے لئے خطرناک تھے۔

یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ’’ تنسیخ جہاد ‘‘ اب اور سنئے ! کس چیز کو حرام قرار دیا ، کس چیز کے خلاف آپ نے جہاد کا علم بلند کیا ۔ سو واضح ہو کہ بعض جاہل علماء اور پادریوں کے غلط تصورات تھے جن کے خلاف آپ ؑ نے آواز بلند کی ہے ۔ ان علماء کے غلط تصوّرات کے نتیجہ میں اسلام کو تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچنا تھا کیونکہ ان میں لڑنے کی کوئی طاقت ہی نہیں تھی ہاں نقصان کے بہت سے اندیشے اور خطرات تھے جو اُن کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

’’ سبحان اللہ! وہ لوگ کیسے راست باز اور نبیوں کی روح اپنے اندر رکھتے تھے کہ جب خدا نے مکہ میں ان کو یہ حکم دیا کہ بدی کا مقابلہ مت کرو اگرچہ ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ۔ پس وہ اس حکم کو پا کر شِیر خوار بچوں کی طرح عاجز اور کمزور بن گئے گویا نہ ان کے ہاتھوں میں زور ہے نہ ان کے بازوؤں میں طاقت۔ بعض ان میں سے اس طور سے بھی قتل کئے گئے کہ دو اونٹوں کو ایک جگہ کھڑا کر کے ان کی ٹانگیں مضبوط طور پر ان اونٹوں سے باندھ دی گئیں اور پھر اونٹوں کو مخالف سمت میں دوڑایا گیا ۔ پس وہ اک دم میں ایسے چر گئے جیسے گاجر یا مولی چیری جاتی ہی۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں اور خاص کر مولویوں نے ان تمام واقعات کو نظر انداز کر دیا ہے اور اب وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا تمام دنیا ان کا شکار ہے اور جس طرح ایک شکاری ایک ہرن کا کسی بن میں پتہ لگا کر چھپ چھپ کر اس کی طرف جاتا ہے اور آخر موقع پا کر بندوق کا فائر کرتا ہے یہی حالات اکثر مولویوں کے ہیں ۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کے سبق میں سے کبھی ایک حرف بھی نہیں پڑھا بلکہ ان کے نزدیک خواہ مخواہ ایک غافل انسان پر پستول یا بندوق چلا دینا اسلام سمجھا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح ماریں کھائیں اور صبر کریں۔ کیا خدا نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ بغیر ثبوت کسی جرم کے ایسے انسان کو کہ نہ ہم اسے جانتے ہیں اور نہ وہ ہمیں جانتا ہے غافل پاکر چھری سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں یا بندوق سے اس کا کام تمام کریں ۔ کیا ایسا دین خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ یونہی بے گناہ ، بے جرم ، بے تبلیغ خدا کے بندوں کو قتل کرتے جاؤ ، اس سے تم بہشت میں داخل ہو جاؤ گے ۔ افسوس کا مقام ہے اور شرم کی جگہ ہے کہ ایک شخص جس سے ہماری کچھ سابق دشمنی بھی نہیں بلکہ روشناسی بھی نہیں وہ کسی دوکان پر اپنے بچوں کے لئے کوئی چیز خرید رہا ہے یا اپنے کسی اور جائز کام میں مشغول ہے اور ہم نے بے وجہ بے تعلق اس پر پستول چلا کر ایک دم میں اس کی بیوی کو بیوہ اور اس کے بچوں کو یتیم اور اس کے گھر کو ماتم کدہ بنا دیا ۔یہ طریق کس حدیث میں لکھا ہے یا کس آیت میں مرقوم ہے ؟ کوئی مولوی ہے جو اس کا جواب دے ؟ نادانوں نے جہاد کا نام سن لیا ہے اور پھر اس بہانہ سے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہا ہے۔ ‘‘ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۲ ، ۱۳)

جہاد بالسیف کی شرائط مفقود ہیں

پس یہ وہ جہاد کا تصوّر ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حرام قرار دیا ہے علماء میں سے آج کون ہے جو اس کو آج بھی حلال کہہ سکتا ہے۔ اس لئے جھوٹے الزام لگا رہے ہیں ۔ جس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حرام کیا ہے وہ مخالفین کے اپنے تصورات تھے ۔ لیکن ان کے یہ تصورات اب ظاہر ہو رہے ہیں اس وقت وہ خفیہ باتیں کیا کرتے تھے اور جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کو مخاطب کر کے جہاد کا وہی تصور بتاتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے، اس مضمون کے متعلق ابھی چند اقتباس آگے پیش کئے جائیں گے تب آپ اندازہ کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کیسے کیسے مخالفین سے واسطہ پڑا تھا۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو یونہی تو نہیں چنا کرتا اور ان سے پیار کیا کرتا بلکہ وہ انہیں نہایت ہی دکھوں اور مصیبتوں کے ابتلاء میں ڈالتا ہے، انہیں نہایت ہی ظالموں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور وہ صبر سے کام لیتے ہیں تب خدا کے حضور مقدس اور پاکیزہ گنے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو خدا کو پیارے ہوا کرتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’ فرفعت ھٰذہ السنّۃ برفع اسبابھا فی ھٰذہ الا یّام ‘‘

کہ تلوار کے ساتھ جہاد کے شرائط پائے نہ جانے کے باعث موجودہ ایام میں تلوار کا جہاد نہیں رہا۔پھر فرمایا :۔

’’ واُمرنا ان نعدّ للکافرین کما یعدّون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام ‘‘

اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم کافروں کے مقابل میں اس قسم کی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں یا یہ کہ ہم کافروں سے ایسا ہی سلوک کریں جیسا وہ ہم سے کرتے ہیں اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھائیں اس وقت تک ہم بھی ان پر تلوار نہ اٹھائیں۔ ‘‘ (حقیقۃ المہدی ۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۵۴)

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں ۔‘‘ (مکتوب بنام حضرت میر ناصر نوابؓ ۔مندرجہ پیش لفظ صفحہ ۱۷۔روحانی خزائن جلد ۱۷)

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف جہاد کا وہ تصوّر منسوخ فرمایا ہے جو علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لیا تھا۔ جب تک شرائط جہاد پوری نہ ہوں اس وقت تک جہاد کرنا منع ہے اور وہ بھی جہاد کا صرف ایک حصہ ہے جو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے منع ہے۔

اعلائے کلمہ اسلام کا میدان کھلا ہے

جہاں تک جہاد کے وسیع تر مضمون کا تعلق ہے جہاد فی ذاتہ تو کبھی منسوخ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ ہر حال میں لازما ہمیشہ جاری رہے گا اور اس کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور ایسی ہو گی جسے مومن سر انجام دے سکتا ہے۔ چنانچہ آپ ؑ مزید فرماتے ہیں :۔

’’اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں ، مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں ، دین ِ متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں۔ آنحضرت ﷺ کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں ۔ یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔‘‘ (مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بنام حضرت میر ناصر نوابؓ ۔حوالہ مذکورہ بالا)

یعنی جہاد کی یہ صورت ہمیشہ کے لئے نہیں ۔’’دوسری صورت ‘‘سے مراد یہ ہے کہ جب دشمن ِ اسلام مذہب کے خلاف جبر سے کام لے گا تو تمہیں بھی اجازت ہو جائے گی لیکن جب تک ایسی صورت ظاہر نہیں ہوتی اس وقت تک جہاد کی دوسری شکلیں ہیں جو تمہارے سامنے ہیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔

’’اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے (ہر جہاد کا نہیں ۔ وہ کیوں ؟ اس کی وضاحت پہلے فرما چکے ہیں ۔ ناقل ) مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔ یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے ۔ صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ ‘‘ ( گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۵ )

جہاد کے بارہ میں قرآنی تعلیم سے ہٹے ہوئے تصوّرات

پس یہ تو آنحضرت ﷺ کا ہی ارشاد ہے ۔ پھر آپ ؑ ’’ تحفہ قیصریہ ‘‘ کے صفحہ ۱۰پر تحریر فرماتے ہیں :۔

’’ اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانون میں مشہور ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آجکل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔ بیشک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی بناء صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے ناحق تلواریں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہاء تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ ۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۶۲)

یہ ہے خلاصہ اس قرآنی تعلیم کا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصْرِهِمْ لَـقَدِيْرُۙ‏ ۔ ۨالَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ؕ (الحج :۴۰ ، ۴۱)

ترجمہ :۔ وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جا رہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے (یہ وہ لوگ ہیں ) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا۔

کوئی عالمِ دین ہے ؟ جو ان باتوں میں سے آج بھی کوئی غلط ثابت کر کے دکھائے اور بتائے کہ کہاں اعتراض کی گنجائش ہے محض ایک فرضی اور جھوٹی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف دیدہ دانستہ منسوب کرتے ہیں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s