پاکستان · حالات حاضرہ

"شہر اقبال و فیض” سے اقتباس

سیالکوٹ کی سرزمین نے جو ظلم دیکھا اس کی نظیر شائد ہلاکو اور چنگیز کے دور سے لانی پڑے۔

کینیڈا کے صحافی محسن عباس بی بی سی اردو پر اپنے کالم میں سیالکوٹ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

"جہالت، ظلم اور فرقہ واریت کی کئی داستانیں میں نے بطور رپورٹر سیالکوٹ میں دیکھی تھیں جن میں قادیانیوں کے گھروں کو آگ لگا کر معصوم انسانوں کو زندہ جلانے سے لے کر عیسائیوں کے قتل بھی شامل ہیں مگر اس طرح کی المناک مثال نہیں ملتی۔

میں نے بچپن سے لے کر آج تک اس شہر کی دیواروں پر نفرت، فرقہ واریت، شیعہ کافر، مرزائی واجب القتل، چلو چلو یہاں چلو اور وہاں چلو کے نعروں کے علاوہ کوئی کام کی چیز نہیں پڑھی ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب بابری مسجد پر حملہ ہوا تھا تو کچھ مذہبی جنونیوں نے نوجوانوں کو دن دیہاڑے بھارت کی چیک پوسٹ پر خالی ہاتھ حملہ کرنے پر آمادہ کر لیا تھا جس کے نتیجے میں کچھ مارے بھی گئے تھے۔

کینیڈا میں مقیم ایک سعودی قوانین کے حامی پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے یہ بھاشن دیا کہ اس خبر کو اچھالنے سے عوام کو شعور ملے گا۔ انہوں نے اس کو مکمل طور پر ’تعلیمی ویڈیو‘ قرار دیا ہے۔( راقم- یہ دو بھائیوں کے بے دردانہ قتل پر تبصرہ ہے)

مجھے اپنے سکول کے ایک مرحوم استاد یاد آ رہے ہیں جوان طالبا علموں سے نرمی برتتے تھے جو قادیانیوں سے نفرت کرتے تھے۔ ہماری دادی اماں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وادی سے آ کر اس تجارتی شہر میں آباد ہوئی تھیں کہتی ہیں کہ اتنا بڑا ظلم تو انہوں نے بٹوارے کے دوران بھی نہ دیکھا تھا۔”

یہ باتیں ان دو بھائیوں کے قتل کے بعد لکھی گئی ہیں جس نے پاکستان میں انسانیت کے وجود پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

اس واقعہ سے پہلے بھی پاکستان میں درندہ صفتوں نے جہاں بس چلا ، ظلم کیا۔  اور قوم نے احتجاج نہیں کیا۔ جو قومیں ظلم پراسطرح خاموش رھتی ہیں ان پر عذاب بھیس بدل بدل کر اترتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ ان بلاؤں کو ٹال دے اور قوم کو ہدائت نصیب کرے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s