پاکستان · حالات حاضرہ

مٹھن کوٹ – خواجہ غلام فرید کا دربار اور سیلاب

خواجہ غلام فرید (رحمۃاللہ علیہ) مشہور صوفی شاعر گزرے ہیں۔ آپ نے حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کا زمانہ پایا اور آپ کے دعویٰ مسیحیت کی تصدیق کی سعادت بھی پائی۔

حالیہ سیلاب میں جہاں اموال ونفوس کا نقصان ہورہا ہے، وہیں قیمتی علمی خزانہ بھی تلف ہونے کا اندیشہ ہے۔ کاش کہ کوئی ان کتابوں کو محفوظ کر سکے۔

وسعت اللہ خان کی سیلاب بیتی سے اقتباس۔

"ریلوے کراسنگ پار کرتے ہی بائیں جانب کے سنگِ میل پر درج ہے مٹھن کوٹ شریف نو کلومیٹر۔گاڑی کے شیشے میں پیچھے بھاگتے خیموں، انسانوں اور جانوروں کے منظر میں سے وہ مٹھن کوٹ ابھرنے لگا جس کی بنیاد سترہ سو تیرہ میں مٹھن جتوئی کی زمین پر خواجہ غلام فرید کے سگڑ دادا خواجہ شریف محمد نے رکھی تھی۔ ایک چھوٹا سا مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ ڈیڑھ سو برس تک اونچی فصیل کے اندر بنے گھروں میں سب ہنسی خوشی رہتے رہے۔

پھر تیرہ اگست اٹھارہ سو باسٹھ آگیا۔ دریائے سندھ پاگل ہوگیا۔ اسٹنٹ کمشنر تحصیل مٹھن کوٹ مسٹر لین نے رپورٹ بھیجی کہ چار سو گھروں پر مشتمل تین ہزار چھ سو اناسی نفوس کی آبادی کو دریا چبا چبا کر نگل گیا ہے۔

مگر شہر کی غرقابی سے قبل اتنا وقت مل گیا کہ شہر کے بانی خواجہ شریف محمد ، ان کے صاحبزادگان خواجہ نور محمد اور خواجہ عاقل محمد ، پوتے خواجہ احمد علی اور پڑ پوتے خواجہ خدا بخش کے تابوت قبروں سے نکال کر دریا سے بارہ کلومیٹر پرے اس مقام پر پھر سے دفن کرنے کے لئے منتقل کئے گئے جہاں موجودہ مٹھن کوٹ بسا ہوا ہے۔

سارا مرحلہ تحصیل کے میر منشی اور فلڈ ریلیف کمشنر رائے ہتھورام کی نگرانی میں بخیرو خوبی انجام پا جاتا اگر اس وقت کے سجادہ نشین خواجہ فخر جہان کا اپنے بھتیجے کے ساتھ اس بات پر جھگڑا نہ ہوتا کہ تابوت یہاں دفنائے جائیں یا وہاں اور کس کی قبر کس کے برابر میں ہوگی۔ بلآخر ایک ہندو تاجر ٹیک چند پوپلی کی قیادت میں تین رکنی ثالثی کمیٹی نے ٹاس کرکے فیصلہ کروایا کہ کون سا تابوت کس قبر میں اتارا جائے۔

یہ تماشا سجادہ نشین فخر جہاں کے چھوٹے بھائی خواجہ غلام فرید کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ شائد یہ واقعہ ان کی طبیعت پر بھی اثرانداز ہوا ہوگا۔ شائد ان اثرات کے نتیجے میں ہی ان کے دل کی روشنائی سے مہر و محبت کی شاعری پھوٹی ہوگی۔ شائد !!!

لیکن آج مٹھن کوٹ جس سیلاب کی زد میں ہے وہ اس لحاظ سے جداگانہ ہے کہ پانی بزرگانِ خاندانِ کوریجہ کے مزارات کی سیڑھیاں نہ چڑھ سکا۔ آدھا شہر ڈوبا ہوا ہے اور آدھا خشک ۔ جو حصہ ڈوبا اس میں فرید میوزیم اور لائبریری کی عمارت بھی ہے۔ صحن میں ڈیڑھ ہفتے بعد بھی ایک فٹ پانی کھڑا ہوا ہے۔ بس دو چارپائیاں کاریڈور میں پڑی ہوئی ہیں جن پر چوکیدار نیم دراز خود پر پنکھا جھل رہے ہیں۔

اس میوزیم و لائبریری کی بنیاد دو برس پہلے پڑی جب خواجہ غلام فرید کی دریا پار جنم بھومی چاچڑاں شریف سے ان کی لائبریری مٹھن کوٹ منتقل کردی گئی۔ اتنا وقت مل گیا کہ سارا اثاثہ بچا لیا گیا۔ جس میں خواجہ غلام فرید سے متعلق تین سو اہم حوالہ جاتی کتابیں، ایک ہزار کے لگ بھگ نادر قلمی کتابیں و مخطوطات ، بشمول شہاب الدین سہروردی کی کتاب عوارف المعاروف کا قلمی نسخہ ، سونے کے پانی سے لکھی ہوئی آٹھ سو ہزار برس پرانی کچھ کتابیں شامل ہیں۔

جبکہ تبرکات میں رسول اللہ کی دستار اور موئے مبارک ، خواجہ غلام فرید کے ملبوسات ، دستاریں ، تسبیحات، اور بزرگوں کے کچھ ملبوسات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چولستان کے ڈیڑھ سو برس پرانے متروک زیورات اور دستکاری کے نمونے بھی بچا لئے گئے۔

مگر میں نے سجادہ نشین خواجہ معین الدین محبوب کو پھر بھی غمگین پایا۔ ان کے ارد گرد گٹھڑیاں بندھی رکھی تھیں۔ کہنے لگے قلمی نسخوں کے صفحات نمی سے گل رہے ہیں۔ میرے اپنے گھر میں پانی بھرا ہوا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں اس خزانے کو کہاں لے جاؤں۔اگر کچھ عرصے اسی طرح پڑا رہا تو ختم ہوجائے گا۔

میں نے محکمہ اوقاف اور وزیرِ اعلی پنجاب سے لے کر وزیرِ اعظم تک سب کو ایس او ایس بھیجا ہے کہ سڑکیں بھی بن جائیں گی۔مکانات بھی کھڑے ہو جائیں گے۔لوگ بھی بس جائیں گے۔فصلیں بھی لہلہا اٹھیں گی۔لیکن آٹھ سو ہزار سال پرانا قلمی اثاثہ ضائع ہوگیا تو واپس نہیں آئے گا۔اب تک میری ایک بھی درخواست کا جواب نہیں آیا ہے۔”

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s