حالات حاضرہ

سٹے باز قوم

اگر کوئی شخص شیر کی کچھار میں کود جائے اورجنگلی ہاتھیوں سے چھیڑ خانیاں کرے، سانپوں سے اٹھکیلیاں کرے اور ریچھوں کو طمانچے رسید کرے تو آپ اس کے بارے میں کیا نتیجہ اخذ کریں گے۔

یا تو یہ صاحب ماہر جنگلی حیات ہیں، جنہیں ان جانوروں کے رویہ کے بارہ میں مکمل معلومات ہیں۔

ورنہ تو یہ سرکس کے مداری ہیں اور یہ جانور ان کے سدھائے ہوئے ہیں۔

نہیں تو یہ پاگل ہے اور کس وقت بھی موت کا شکار ہو چائے گا۔

ایک اور امکا ن بھی ہے جسکو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- یہ شائد کسی غریب کا بچہ ہے جو شرطیں لگا لگا کر پیسے کماتا ہے۔ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر ایسی دولت کمانا چاھتا ہے جو نہ ماہر پروفیسر کما سکتا ہے اور نہ سرکس کا مداری۔

پاکستان کا بھی یہی حال ہے۔  نہ تعلیم کی عزت چاہتے ہیں، نہ مداری کا کم مایہ ہنر۔ انہیں دولت چاھیئے، طاقت چاھیے اور وہ بھی بہت جلد۔ سٹہ نہ کھیلیں تو کیا کریں۔

ان کی غربت اخلاقی افلاس ہے۔ علم کا قحط ہے۔ اچھے لیڈران کی نا پید گی ہے۔ اور ان کے ارادے دنیا میں عزت اور طاقت کے ہیں۔

اور تو اور، قوم نے اپنا وجود داؤ پر لگا دیا ہے۔ کرکٹ میں ایک آدھ نو بال پر اتنا شور ہے۔ یہ طالبان سے ہمدردیاں، کافروں سے جہاد کے منصوبے، یہود و ہنود کو تہس نہس کرنے کے ارادے۔ یہ ایسا جوا ہے جس کی فکسنگ نہیں ہو سکتی۔ جو مرضی کر لیں، اس کا نتیجہ ہزیمت اور  ناکامی ہے۔ اب بھی وقت ہے، توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیں۔ رزق وہی اچھا جو اپنی قابلیت کے بل پر ملے۔

Advertisements

ایک خیال “سٹے باز قوم” پہ

  1. ویسے کبھی طالبان کے علاوہ بھی کچھ سوجتا ہے؟
    اس سٹے باز قوم میں کچھ سٹے باز اتنے پہنچے ہوئے ہیں کہ مت پوچھیں، کہ آدھے پنجاب کے گاوں دیہات سے لاہور، پنڈی اور کراچی کی کوٹھیوں میں پہنچ گئے اور باقی لندن شریف.
    یار کیا کاروبار ہے جنت بھی ملتی ہے اور ——————- بھی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s