جماعت احمدیہ اسلامیہ · عقائد

دجال کی حقیقت – قسط اول

بشکریہ الاسلام ڈاٹ آرگ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں امت کی اصلاح کے لئے ایک مسیح اور مہدی کے ظہور کی پیشگوئی فرمائی اور اس کے ظہور کی علامات میں سے ایک ضروری علامت دجال کا ظہور بیان فرمائی۔ دجال کے متعلق عوام الناس میں عجیب و غریب قسم کی کہانیاں مشہور ہیں اور وہ اسے عجیب الخلقت غیر معمولی قوتوں اور طاقتوں کا حامل فرد قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دجال کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں وہ آپ کے رؤیا اور مکاشفات پر مشتمل ہیں جیسا کہ دجال کا ذکر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔

بَیْنَمَا اَنَا نَائِمٌ اَطُوْفُ بِالْکَعْبَةِ (بخاری کتاب الفتن باب ذکر الدجال)

یعنی میں نے سوتے ہوئے خواب میں کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔

رؤیا، مکاشفات اور پیشگوئیوں سے متعلق یہ مسلمہ اصول ہے کہ اکثر و بیشتر تعبیر طلب ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں گیارہ ستاروں، چاند اور سورج کو اپنے سامنے سجدہ کرتے دیکھا تو اس سے مراد ظاہری سورج اور چاند ستارے نہ تھے بلکہ ان کے بھائیوں اور والدین کا زیر احسان ہو کر ان کے پاس آنا تھا۔

اسی طرح مسلم کتاب الفتن باب ذکرابن صیاد میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ایک یہودی لڑکے ابن صیاد (جو بعد میں مسلمان ہو گیا) پر دجال ہونے کا شبہ کیا اور حضرت عمرؓ نے آپ کے سامنے اس بات پر قسم کھائی کہ یہی دجال ہے اور آپ نے اس کی تردید نہیں فرمائی۔ حالانکہ ظاہراً ابن صیاد میں دجال کی اکثر علامات بالکل مفقود تھیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ بھی دجال کے متعلق پیشگوئیوں کو مجازی رنگ میں سمجھتے تھے اور تمام علامات کا ظاہری اور جسمانی طور پر پایا جانا ہرگز ضروری نہ سمجھتے تھے۔

قرآن کریم، احادیث نبویہ اور دجال کے لغوی معنوں سے پتہ چلتا ہے کہ دجال سے مراد کوئی عجیب الخلقت فرد نہیں بلکہ آج کی ترقی یافتہ مغربی عیسائی اقوام کے مذہبی راہنما ہیں۔ چند دلائل پیش ہیں:۔

۱۔ دجال کے لغوی معنی

(i)۔ کذاب یعنی سخت جھوٹا۔

(ii)۔ مالدار اور خزانوں والا۔

(iii)۔ بڑا گروہ جو اپنی کثرت سے زمین کو ڈھانپ لے۔

(iv)۔ ایسا گروہ جو اموال تجارت اٹھائے پھرے۔ (لسان العرب)

گویا دجال کے لغوی معنی یہ بنے کہ ایک کثیر تعداد جماعت جو تاجر پیشہ ہو اور اپنا تجارتی سامان دنیا میں لئے پھرے جو نہایت مالدار اور خزانوں والی ہو اور جو تمام دنیا کو اپنی سیر و سیاحت سے قطع کر رہی ہو اور ہر جگہ پہنچی ہوئی ہو گویا کوئی جگہ اس سے خالی نہ رہی ہو۔ اور مذہباً وہ ایک نہایت ہی جھوٹے عقیدہ پر قائم ہو اور یہ تمام علامات مغربی ممالک کی مسیحی اقوام کے مذہبی راہنماؤں میں موجود ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s