جماعت احمدیہ اسلامیہ · عقائد

دجال کی حقیقت – قسط دوئم

بشکریہ الاسلام ڈاٹ آرگ

دجال اور قرآن کریم و احادیث نبویہ

۲۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے فتنہ سے بچنے کے لئے سورۂ کہف کی ابتدائی آیات پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات میں مسیحیت کا رد فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:۔

وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا (الکہف:۵)

یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے کہ اس کے ذریعہ ان کو ڈرایا جائے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا بنا لیا۔

پس دجال کا فتنہ اور مسیح کا فتنہ ایک ہی شے ہے کیونکہ علاج بیماری کے مطابق ہوتا ہے اگر دجالی فتنہ مسیحی فتنہ سے علیحدہ ہوتاتو ممکن نہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا حکیم انسان دجال سے بچنے کے لئے ایسی آیات پڑھنے کا حکم دیتا جن میں اس کا ذکر تک نہیں۔

۳۔ حدیث میں دجال کے فتنہ کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ (مسلم کتاب الفتن باب فی بقیہ احادیث الدجال)

قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے خطرناک فتنہ مسیحیوں کا مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دینا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔

قریب ہے کہ تمہاری اس بات سے آسمان پھٹ کر گر جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر جا پڑیں۔ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا (مریم:۹۲)کہ ان لوگوں نے خدائے رحمان کا بیٹا قرار دیا ہے۔

اور اس خطرناک فتنہ کے بانی مبانی عیسائی پادری ہی ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرارد یا اور وہی دجال ہیں۔

۴۔ سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو فتنوں سے بچنے کی دعا سکھلائی ہے۔

(ا) مغضوب علیھم کا فتنہ جس سے مراد یہود ہیں۔

(ب)۔ الضالین کا فتنہ جس سے مراد عیسائی ہیں۔

یہود کو دجال قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْا (آل عمران:۱۱۳) یعنی جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان پر ذلت نازل کی گئی ہے۔ گویا یہود ہمیشہ مغلوب رہیں گے لیکن قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ مسیح اور مہدی کے زمانہ میں عیسائیت کا غلبہ ہوگا۔

پس معلوم ہوا کہ دجال سے مراد عیسائی پادری ہی ہیں اور اگر اس سے مراد کوئی اور فرد یا قوم ہوتی تو سورہ فاتحہ میں ضرور اس سے بچنے کی دعا سکھلائی جاتی۔

۵۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کے غلبہ کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ‌‌ۚ (آل عمران:۵۶)

ترجمہ:۔ (اے عیسیٰ) جو تیرے پیرو ہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔

اس آیت کے مطابق غلبہ اور سلطنت قیامت تک یا عیسائیوں کے لئے مقدر ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے رسمی متبع ہیں یا مسلمانوں کے لئے جو آپ کے حقیقی متبع ہیں۔ مسلمانوں کو دجال قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ حدیث میں دجال کو کافر کہا گیا ہے لہذا حضرت عیسیٰ ؑ کے رسمی متبع عیسائیوں ہی کو دجال قرار دیا جاسکتا ہے جن کے غلبہ کا اس آیت میں ذکر ہے۔

۶۔ مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت تمیم داریؓ نے دجال کو ایک مغربی جزیرہ کے گرجے میں مقید دیکھا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے مراد مغربی عیسائی قومیں ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s