متفرق · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ · عقائد

سگ آزاد ہیں

ایک عدد انگریزی بلاگ نظر سے گزرا۔ اس میں لاہور میں ہونے والے دلخراش سانحہ 28 مئی کے تناطر میں ملکی قوانین پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

مصنف موصوف لکھتے ہیں کہ اگرچہ کی احمدیوں کے قتل عام کا انہیں افسوس ہے لیکن اس بہیمیت کے نتیجہ میں ضیاء الحق کے آرڈینینس 20 یعنی امتناع قادیانیت قانون اور آئین پاکستان میں بھٹو کی دوسری ترمیم کو نشانہ بنانے کے ارادے بھی موقع شناسوں کو حاصل ہو گئے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ کہنا کہ احمدی ریاستی جبر کا نشانہ بنتے ہیں سراسر غلط بات ہے۔

اس کے بعد مصنف آرڈیننس کا موازنہ آئین میں موجود انسانی حقوق سے متعلق شقوں سے کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ 

ضیاء آرڈیننس کے مطابق احمدی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے، اپنی مساجد کو مساجد نہیں کہ سکتے، آذان نہیں دے سکتے، اسلامی شعائر کا استعمال نہیں کر سکتے۔تبلیغ نہیں کر سکتے۔ اور اگر ان میں سے کسی حرکت کے مرتکب ہوں تو تین سال قید اور جرمانہ ہو گا۔ مزید برآں، ان باتوں پر چونکہ عامۃ الناس کے مذہبی جذبات بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور لوگ احمدیوں کو توہین رسالت کا مرتکب بھی قرار دے سکتے ہیں جس کی سزا موت ہے۔

ہر ذی عقل شخص صرف یہ قوانین پڑھ کر ہی مان جاتا ہے کہ یقینا یہ سراسر ظلم پر مبنی کالے قوانین ہیں اور اسلامی اصولوں سے انہیں دور کا علاقہ بھی نہیں۔ مگر یہ صاحب نہائت ڈھٹائی سے ان کو بنیادی انسانی حقوق کی آئینی شقوں کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ جن باتوں سے پاکستانی قوم کے با اصول لوگوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، ایک طبقہ ان کو نظریہ پاکستان کی اساس بنا کر ملک کو برباد کرے کے در پہ ہے۔

چودھویں شق انسانی عزت نفس کی ہے۔ یعنی پاکستانی شہریوں کی عزت نفس محفوظ ہو گی۔ ان صاحب کے مطابق آرڈیننس ہٰذہ سے کسی احمدی کی عزت نفس پر حرف نہیں آتا۔

لو کر لو بات! یعنی ایک باعمل مسلمان کو اپنے منہ سے غیر مسلم کہلواؤ، نہ کہے تو جیل بھیجو  بسم اللہ، الحمدللہ جیسے الفاظ کو جرم بنا دو۔ اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک با عزت  پڑھے لکھے شہری کی عزت نفس کے اشتہار لگوا دو۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔

سولہویں شق ہے اجتماعات کی آزادی: ان بلاگر کے مطابق چونکہ سانحہ کے وقت پندرہ سو افراد "عبادت گاہ” میں موجود تھے اس لئے یہ کہنا کہ احمدیوں کے اجتماعات پر پابندی ہے غلط ہے۔  محترم مساجد، مندر، گرودوارے روزمرہ کے استعمال کی جگہیں ہیں۔ یہاں آنا جانا، اٹھنا بیٹھنا ایسا ہی ہے جیسے کھیل کے میدان میں روز کی آمدورفت، یا کام کی جگہوں پر روزانہ حاضری۔ اجتماعات سے مراد جلسے اور بڑی مجلسیں ہوتی ہیں جن کے نتیجہ میں حکومت کو امن عامہ کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ 1984 کے بعد احمدی مسلمانوں کے جلسہ سالانہ پر پابندی ہے جو ہر سال دسمبر میں ربوہ میں منعقد ہوتا تھا۔

ویسے ربوہ کو آجکل زبردستی "چناب نگر” کہا جاتا ہے۔ عزت نفس بڑھانے کے لئے!

آرٹیکل انیس آزادئ اظہار کے بارے میں ہے۔ یعنی ہر شخص کو آزادی تحریر و تقریر حاصل ہے سوائے اس کے جو اسلام کی شان کے خلاف ہو۔  اب چونکہ احمیوں کی زبان پر تالے ہیں، ان صاحب کو کہنا پڑتا ہے کہ چونکہ احمدی اسلام کی شان میں نعوذباللہ تحریر و تقریر سے گستاخی کرتے ہیں اس لئے ان پر پابندی ہے۔ ایک تیر سے دو شکار۔ ایک تو پابندی لگا دو اور پھر قوم کے سامنے انہیں توہین اسلام، توہین رسالت کا مجرم بنا کر ان قاتلوں کو کھلی چھٹی دے دو۔ خود ہی مدعی بھی ہوں اور منصف بھی۔ سگ آزاد ہیں جناب سگ آزاد ہیں۔

بیسویں شق مذہبی آزادی کی ہے۔ بلاگر کے نزدیک کیونکہ عباس اطہر نے ایک واقعہ کسی گاؤں میں تبلیغ کا بیان کر دیا ہے، پوری قوم اس فرض سے پری الذمہ ہو چکی ہے۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں بھی، بقول عباس اطہر، احمدیوں کو مار پڑنی تھی۔ بھلا ہو چند محسن بڑے بوڑھوں کا- بیچ بچاؤ ہو گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ 28 مئی کو ربوہ کی پریس کانفرنس کسی میڈیا میں نشر نہیں ہوئی۔ اور اس کی وجہ یہی کالے قوانین ہیں جن کا دفاع کرنا حد درجہ کی ڈھٹائی ہے۔ تبلیغ اور اپنے عقائد کا دفاع تو دور کی بات ہے۔ پاکستان میں تو اپنے غم و غصہ کا اظہار بھی ممکن نہیں۔

اس کے علاوہ تعلیم اداروں کا معاملہ ہے۔ احمدی تعلیمی ادارے تو کب کے قومیا لئے گئے ہیں۔ 

پھربات کرتے ہیں تمام شہریوں کی برابری کی۔ لیکن اس میں بھی موصوف کو کوئی شرم نہیں آتی۔ ایک دفعہ کالا قانون پڑہیں اور پھر غور کریں۔ شائد کچھ پلے پڑھ جائے۔

پکڑے گئے دہشت گرد نے بتایا کہ احمدی گستاخانہ خاکوں میں ملوث تھے اس لئے واجب القتل ہیں۔ جنگ اخبار نے یہ الزام لگایاتھا۔ پھر جماعت کی یورپ میں قانونی چارہ جوئی پر معذرت بھی کر لی۔ لیکن پاکستان میں کون اس معذرت کو شائع کرتا- ان طالبان مارکہ لوگوں کوتو بہانہ چاہیے تھا۔ سو وہ میسر ہوا۔ پھر قانون تو احمدیوں کو اسلام دشمن کہتا ہے۔ تبھی تو ان کی اظہار راے پر پابندی ہے۔ اور کیا چاہئے؟سب بہانے پورے ہیں۔ جو جنون کی حد کو پہنچ جائیں وہ نشانہ لے کر قتل کرتے ہیں۔ باتوں کے شیر اپنی خیالی کچھاروں میں بلاگ لکھتے ہیں، کالم بناتے ہیں اور جلسوں میں اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار کی عقل کو اور ان مذہب کے ٹھیکیداروں کے ظرف کو داد دینی پڑتی ہے۔ کوا چٹا ہے اور سورج مغرب سے طلوع ہوتا ہے۔ اور جی، سگ سارے آزاد ہیں ہمارے دیس میں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s