پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

پاکستان کی تاریخ کے چھپائے گئے حقائق

پاکستانی قوم نے قرآن کی کھلی کھلی آیات کی نا فرمانی کرنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔  کھلے طور پر برائیاں ہوتی ہیں، اوپر سے نیچے تک ساری قوم معصیتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں بارہا توجہ پاکستان کی تاریخ میں سے حذف کئے گئے واقعات کی طرف جاتی ہے۔ ہمارے مؤرخین اور ارباب اختیار نے نصابی کتب سے اور دیگر شائع شدہ مواد سے بھی جماعت احمدیہ کے تخلیق و تعمیر پاکستان میں کردار کو دانستہ نظر انداز کر دیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید کا حکم تو یہ ہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی مسلمانوں کو انصاف سے دور نہ کرے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت 1931 میں سر ظفر اللہ خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔  آپ احمدی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہونے کے ناتے جماعت میں آپ کی بہت قدر و منزلت تھی۔

جب قائد اعظم سیاست سے کنارہ کش ہو کر لندن چلے گئے تو مسجد فضل کے امام، مولانا عبدالرحیم درد نےقائد سے طویل ملاقات کی، آپ کو مسجد فضل مدعو کیا اور یہاں آپ نے ایک مجمع میں تقریر فرمائی۔ یہ  اپریل 1933 کا واقعہ ہے۔ قائد اعظم اس ملاقات کے بعد قائل ہو گئے کہ ان کی پاکستان واپسی میں ہی مسلمانان ہند کا مفاد ہے اور آپ کی ہندوستان آمد کے بعد تحریک پاکستان کا فیصلہ کن دور شروع ہوا۔ سنڈے ٹائمز لندن نے 9 اپریل 1933 کی اشاعت میں اس تقریب کی روداد شائع کی اور قائد اعظم کا یہ بیان شائع کیا

Mr. Jinnah frankly acknowledged the fact that: "The eloquent persuasion of Imam left me no way of escape.”.”

قائد اعظم سے جماعت احمدیہ کا تعلق مظبوطی سے قائم رہا۔ سر ظفراللہ خان نے قرارداد پاکستان کا مسودہ تیار کیا اور لاہور کے جلسہ میں پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہو گیا۔

قائد اعظم کی پریس ریلیز اخبار ڈان (DAWN) کی ۸ اکتوبر ۱۹۴۵ء کی اشاعت میں درج ذیل الفاظ میں چھپی:

Ahmadiyya Community to support Muslim League

نامور اہل حدیث عالم میر ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے ’’پیغام ہدایت در تائید پاکستان و مسلم لیگ‘‘ کے صفحہ ۱۱۲، ۱۱۳ پر  لکھا:

’’احمدیوں کا اس اسلامی جھنڈے (تحریک پاکستان مراد ہے۔ ناقل) کے نیچے آ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔‘‘

اس کے بر عکس اجکل کی مجلس عمل اور مجلس علما پاکستان اور اسلام اور جماعت اسلامی وغیرہ نے پاکستان کی مخالفت کی اور بعض و عناد میں حدیں پار کر دیں۔

’’ مولوی محمد علی جالندھری نے ۱۵ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ احرار پاکستان کے مخالف تھے۔۔۔۔۔۔ اس مقرر نے تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لئے پلیدستان کا لفظ استعمال کیا اور سید عطاء اﷲ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا۔ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراًقبول کر لیا ہے۔‘‘ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت ، صفحہ۲۷۴)

اسی طرح رپورٹ کے صفحہ۱۴۹‘ ۱۵۰ پر لکھا:۔

’’ ان (احراریوں) کے ماضی سے ظاہر ہے کہ وہ تقسیم سے پیشتر کانگرس اور ان دوسری جماعتوں سے مل کر کام کرتے تھے جو قائدِ اعظم کی جدوجہد کے خلاف صف آراء ہو رہی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس جماعت نے دوبارہ اب تک پاکستان کے قیام کو دل سے گوارہ نہیں کیا۔‘‘

اس ضمن میں سردار شوکت حیات کا یہ حوالہ بھی قابل غور ہے۔

Sardar Shaukat Hayat in his book "The Nation that lost its soul” mentions the following event: "One day, I got a message from Quaid-e-Azam saying "Shaukat, I believe you are going to Batala, which I understand is about five miles from Qadian, please go to Qadian and meet Hadhrat Sahib and request him on my behalf for his blessings and support for Pakistan’s cause. After the meeting (in Batala) I reached Qadian about midnight, I sent a word that I had brought a message from Quaid-e-Azam. Hadhrat Sahib came down immediately and enquired what were Quaid’s wishes. I conveyed his message for prayer and for his support for Pakistan. He said: "Please convey to the Quaid-e-Azam that we have been praying for his mission from the very beginning. Where the help of his followers is concerned, no Ahmadi will not stand against any Muslim Leaguer.”

جماعت احمدیہ نے قیام پاکستان کے ہر مرحلے پر مسلمانان ہند کے مفادات کی حفاظت کی جبکہ وہ مذہبی طبقہ جو آج ملک کا ٹھیکیدار بنا بیٹھا ہے وہ ہی اس ملک کا سب سے پہلا دشمن تھا۔

اس سلسلہ میں ایم ٹی اے نے "تاریخی حقائق” historic facts کے نام سے پروگراموں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جو یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

http://www.youtube.com/user/mtaOnline1

Advertisements

5 خیالات “پاکستان کی تاریخ کے چھپائے گئے حقائق” پہ

  1. مسٹر جناح خود اسماعیلی اور بیدین تھا اور انگریزی استعمار کا خاص آدمی تھا۔ اگر حریت پسند اہل السنۃ اس سے دور رہے اور قادیادنی اس کے قریب گھنسے تو کوئی عجیب بات نہیں۔

  2. یہ اعتراض بے بنیاد ہے۔ أولا‌ً اگر کوئی لاہوری، پشاوری، ملتانی وغیرہ وغیرہ ہے تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اس مملکت کی سیاست میں حصہ لے جس کی سرحد میں لاہور، پشاور یا ملتان وغیرہ وغیرہ شامل ہے چاہے وہ مملکت‌ِ پاکستان ہو، غیر مقسم ہندوستان ہو یا افغانستان ہو۔ قبل آزادی اس کا تقسیم‌ِ ہندوستان کا قائل ہونا یا نہ ہونا اس حق پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہو‌سکتا۔ ثانیا‌ً وہ شخص جو امرتسری، دہلوی، بہاری، قادیانی وغیرہ ہے تو اگر بوجۂ تقسیم کے، اب اس کا وہاں رہنا مشکل ہوگيا اور وہ پاکستان آگیا تو اس کو بھی پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کا حق ہونا چاہیۓ، چاہے وہ آزادی کے قبل تقسیم کا قائل رہا ہو یا نہ رہا ہو-

  3. جہاں تک احرار کی حریت پسندی اور مسٹر جناح کی استعمار پسندی کا تعلق ہے، تو اس کی ایک مثال انگریز فوج میں ہندوستانی مسامانوں کی بھرتی پر دونوں کا موقف ہے۔ احرار اس کے خلاف تھے جبکہ مسٹر جناح اس کے حق میں تھے۔ احرار کے قائدین کو قید‌ِ بامشقت کی سزا ہوئی جبکہ مسٹر جناح کو "سر” کے خطاب کی پیشکش ہوئی۔ میرے نزدیک تو اس معاملہ میں احرار کو مسلم لیگ پر واضح برتری حاصل ہے، لیکن شاید آپ کو یہ بات سمجھ نہ آۓ کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے آپ کے دین میں حریت پسندی میں کوئی فضیلت نہیں اور استعمار پسندی میں کوئی عیب نہیـں یا شاید استعمار پسندی ہی بڑی نیکی ہے۔

  4. دراصل اسلام تو اولی الامر کی اطاعت کی تعلیم دیتا ہے۔ احرار کے پیشرو، مدرسہ دیوبند کے بانیان تو دل و جان سے انگریزی گورنمنٹ کے وفادار تھے۔ اہل حدیث علماء بھی سلطنت پرطانیہ کے گن گاتے تھے۔

    جناح صاحب کا فلسفہ انصاف اور خودداری پر مبنی تھا۔ کانگرس کو صرف حکومت کا لالچ تھا۔ اور احرار نے اسی پارٹی کا ساتھ دیا جس کی حکومت بننا یقینی تھا۔

    پاکستان تو 1945 سے قبل ایک خیال ہی تھا۔ اس کا مطالبہ کرنے والے خودغرض اور مطلبی نہیں تھے۔ اصول پسند اور اسلام کے ہمدرد لوگ تھے۔ احرار نے تو تمام اسلامی اقدار بالائے طاق رکھیں۔ جلسے چلوس ہنگامے کئے۔ فتنہ پردازی اور سیاسی جدوجہد میں بہت فرق ہے۔ گاندھی جی اور احرار نے مار پیٹ کی سیاست کی۔ قائد اعظم نے اصول اور امن کی سیاست کی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s