پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

آسیہ بی بی اور توہین رسالت

پاکستان میں توہین رسالت کے ظالمانہ قانون نے پچھلی دو دہائیاں مسیحی اقلیت کو ہراساں رکھا۔ اس قانون کے بہانے احمدیوں پر بھی ظلم توڑے گئے اور کئی سنی مسلمانوں کو قتل بھی کیا گیا۔

کسی بھی مقدس ہستی اور صحیفے کی توہین ایک بیہمانہ فعل ہے اور حکومت اس بات کی مجاز ہے کہ حفظ امن کی خاطر تمام انبیاء اور بانیان مذاہب کی بالارادہ توہین کرنے والوں کو سزا دے۔ لیکن پاکستان میں اس جرم کی سزاقتل رکھی گئی ہے۔ یعنی آںحضرت ﷺصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت کرنےوالے کوسزائے موت کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ اور اس قانون کو اسلامی شریعت کے عین مطابق سمجھا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس قسم کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔قرآن تو آزادی مذہب اور آزادی اظہار کا سبق دیتا ہے۔

جو مکاتب فکر سزائے موت کے قائل ہیں وہ اس کی سند چند احادیث سے پیش کرتے ہیں۔ ان احدیث کو غور اور تدبر سے پرکھیں اور ان کے تاریخی پس منظر کو دیکھیں تو ان میں موجود سزائیں دراصل قتل عمد، جنگی جرائم اور بغاوت کی سزائیں ہیں۔ توہین رسالت کی نہیں۔

آسیہ بی بی اگر قصور وار ہے تو بھی سزا جائز نہیں اور اگر بے قصور ہے تو پاکستانی قوم ایک اور بھیانک ظلم کر رہی ہے۔

اس موضوع پر مزید معلومات یہاں مل سکتی ہیں۔

 

Advertisements

3 خیالات “آسیہ بی بی اور توہین رسالت” پہ

  1. او بے غیرت قادیانیو انگریز کے اور شیطان کے چیلو۔ لعنت ہو تم پر۔ کمینوں تم پر آئین پاکستان کی رو سے پابندی ہے کہ تم اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہ سکتے تم اپنی نام نہاد عبادت کو نماز نہیں کہ سکتے تم اپنی نام نہاد عبادت گاہ یعنی گرجا کو مسجد نہیں کہ سکتے۔ تم کون ہوتے ہو آئین پاکستان پر تنقید کرنے والے۔ تم تو عیسائیوں سے بھی گئے گزرے ہو وہ کم از کم اہل کتاب اور اہل نبی تو ہیں تمھارا نہ تو کوئی نبی ہے نہ کوئی کتاب۔ تم جسے اپنا نبی کہتے ہو وہ کذاب ہے شیطان۔ بے غیرتو شرم کرو۔ توبہ کرو شائید اللہ تعالی جل شانہ کو تم پر رحم آ جائے اور وہ تمہیں معاف فرما دے۔۔

    1. اتنا غصہ نہ کرو یار۔ حکومت پاکستان کی اور کون سی بات اسلامی ہے کہ ان قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق سمجھ لیا جائے۔ جبر اور ظلم قوم کی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے۔ توبہ کرو کہ اللہ تمہیں بھی اور قوم کو بھی ہدائت دے اور امام مہدی کو ماننے کی توقیق دے۔

  2. منظور صاحب آپ تو غصہ میں اخلاقیات سے بھی گر گئے لیکن آپ کا قصور نہیں ہے آپ کی تربیت کا قصور ہے۔ آپ کی اخلاقی حالت دیکھ کر آپ کے تربیت کرنے والے والدین اور علماؑ کی حالت کا بھی خوب اندازہ ہو رہا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جہاں دلیل ختم ہو گالی شروع ہو جاتی ہے۔ جس آئین پاکستان پر تنقید کرنے پر آپ غلاظت بک رہے ہیں یہ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے جس پر تنقید نہیں ہو سکتی بلکہ جس اسمبلی نے یہ آئین بنایا ہے اُس کے ممبران کی اکثریت آپ جیسے اخلاق سے گرے ہوئے لوگوں کی تھی۔ اور آج بھی آپ کی آدھی سے زیادہ اسمبلی جعلی ڈگری والوں پر مشتمل ہے۔ جیسی قوم ویسے حکمران۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s