متفرق · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · عقائد

اکابرین دیو بند اور جماعت احمدیہ

دیوبند مسلک میں بہت شریف النفس علماء بھی تھے جنہوں نے اعتقادی اختلافات کے باوجود جماعت احمدیہ سے تعلقات رکھے۔ مثلا 1913 میں اشاعت اسلام ٹرسٹ قائم ہوا ۔ علامہ اقبال کی صدارت میں اس کے اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ یہ حکیم نورالدین، خلیفۃالمسیح اول کے دور کی بات ہے۔ اور اس ٹرسٹ کے بانیان احمدی تھے۔ ٹرسٹ کے سرپرستوں میں مولانا محمد علی اور شبلی نعمانی کا نام آتا ہے۔ ایک احمدی (لاہوری فرقہ والے) اور دوسرے دیوبند مسلک کے اعلیٰ لیڈر تھے۔ یہ کہنا کہ مولانا شبلی جیسے متبحر عالم کو جماعت احمدیہ کے عقائد کا علم نہ تھا، حماقت کی بات ہو گی۔

اس کے علاوہ عبید اللہ سندھی بھی مولانا نورالدین کے علم قرآن کے معترف تھے۔ آب بارہا قادیان ملاقات کے لئے آتے۔ دیر تک قرآن کی تفسیر پر تبادلہ خیال کرتے۔ اور اس بات پر سندھی صاحب کو دیوبندیوں نے ملامت بھی کی اور شائد اسی وجہ سے وہ ان سے علٰحدہ بھی ہو گئے۔ مولانا سندھی صاحب کے ملفوظات میں مولانا نورالدین کا ذکر آیا ہے۔ آپ نے ایک دفعہ صحن کعبہ کی ایک مجلس میں مولانا نورالدین کے علم قرآن کو سب سے اعلیٰ قرار دیا ۔

مولانا ابولکلام آزاد تو خود قادیان مرزا صاحب کی زیارت کو گئےتھے۔ اور آخر عمر تک کوئی تکفیر کا کلمہ بانئ جماعت کے بارے میں نہ نکالا۔ اس کے بر عکس یہ تحریر ان کی ملتی ہے۔

’کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی نظر نہیں آتا ۔ وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی ۔ غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے بلحاظ اخلاق و عادات اور کیا بلحاظ خدمات و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز ، برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا ۔‘ (اخبار وکیل امرتسر ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء)

ابوالکلام کے بڑے بھائی ابو نصر آہ مرحوم بھی قادیان آئے۔ ان کی یہ تحریر بھی اخبار وکیل میں موجود ہے۔

’’میں نے اورکیا دیکھا؟ قادیان دیکھا۔ مرزا صاحب سے ملاقات کی ، مہما ن رہا ۔ مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرناچاہئے۔ میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔ مرزا صاحب نے (جب کہ دفعتاً گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے ) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی ‘‘۔

’’آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ (جو خود ان ہی کی ملکیت ہے) میں قیام پذیر ہیں ۔ بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی قریباً تین ہزار آدمیوں کی ہے ۔ مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے ۔ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے ۔ راستے کچے اور ناہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آتی ہے۔ یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی‘‘۔ ’’اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا‘‘

۔ اکرا م ضیف کی صفت خا ص اشخاص تک محدود نہ تھی ۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا ساسلوک کیا۔ اور مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولانا عبدالکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھو م ہے ۔ مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔ جناب میر ناصر نواب صاحب دہلوی جو مرزا صاحب کے خسر ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے ۔ ایل ۔ایل۔ بی ، ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ، مولوی یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم ۔ جناب شاہ سراج الحق صاحب وغیرہ وغیرہ پرلے درجہ کی شفقت اور نہایت محبت سے پیش آئے ۔افسوس کہ مجھے اور اشخاص کا نام یاد نہیں ورنہ میں ان کی مہربانیوں کا بھی شکر یہ ادا کرتا۔ مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندارہے جس کا اثر بہت قوی ہوتاہے ۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے ۔ طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔ مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا اور بردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیاہے۔ گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گویا متبسم ہیں رنگ گورا ہے بالوں کوحنا کا رنگ دیتے ہیں ۔جسم مضبوط اور محنتی ہے سر پرپنجابی وضع کی سپید پگڑی باندھتے ہیں۔ سیاہ یا خاکی لمبا کوٹ زیب تن فرماتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے ۔ عمر قریباً چھیاسٹھ سال کی ہے‘‘۔

’’مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔ میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی۔ اور بے حد عقیدت مند تھے ‘‘۔ ’’مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا۔’’ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھرآئیں اور کم از کم دوہفتہ قیام کریں‘‘۔ (اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے)۔

’’میں جس شوق کو لے کر گیا تھا ساتھ لایا۔ اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے حسن خُلقکَ وَلَو مَعَ الکُفٖار۔۔۔ میں نے اور کیا دیکھا بہت کچھ دیکھا مگر قلم بند کرنے کا موقع نہیں سٹیشن جانے کا وقت سر پر آ چلا ہے پھر کبھی بتاؤں گا کہ میں نے کیا دیکھا ۔راقم آہ دہلوی‘‘۔( الحکم ۲۴؍ مئی۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰)

یہ شرافت ہی ہے کہ بوجود اختلافات کے، ان اصحاب نے حقیقت بیان کی اور بغض اور عناد سے اپنے ایمان کو مجروح نہیں کیا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s