پاکستان · حالات حاضرہ

پاکستانی لبرل طبقہ، نازی جرمنی اور قانون توہین رسالت

سلمان تاثیر کے ظالمانہ قتل نے پاکستانی معاشرہ کا رہا سہا پردہ بھی اٹھا دیا۔ ایسی بے حیائی سےعوام نے اپنے سفلی اور بہیمانہ جذبات کا اظہار کر دیا ہے کہ دنیا انگشت بدنداں ہے۔ ویسے پاکستان سے آنے والی ہر خبر پہلے سے زیادہ حیران کن اور تشویشناک ہوتی ہے، لیکن اب تو ساری دنیا کے ماہرین نفسیات بھی سوچتے ہوں گے کہ یہ کیا ہوا ۔

سلمان تاثیر صاحب کی ناگہانی موت یقینا ایک اندوہناک خبر تھی لیکن ملک کی عوام اور انٹرنیٹ پر مصروف جوان نسل کے ردعمل نے ذہن ماؤف کر دیا ہے۔ قاتل کو غازی علم دین بنایا جا رہا ہے۔ غازی صاحب نے راجپال کو قتل کیا۔  وہ دور اور تھا۔ علم دین نے برٹش دور کے رویوں کے خلاف ایک جذباتی فیصلہ کیا اور پھر عیسائی بادشاہ سے رحم کی اپیل بھی کی۔ جرم قتل کا تھا  اور مسلمان طبقہ کی طرف سے قانون شکنی پر کم ہی لوگوں نے اظہار ندامت کیا۔ ﷺقائد اعظم اگرچہ کہ علم دین کے وکیل بھی رہے اور  لیکن 295-اے قانون کے متعلق ان کے تحفظات بھی تھے کہ اس کی وجہ سے آزادی اظہار اور علمی مباحثوں پر بے جا پابندی لگ سکتی ہے۔  بعد میں اسی قانون کی ترمیم کرکے ضیاءالحق نے ایک ظالمانہ اضافہ کیا اور پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

مزید یہ کہ سلمان تاثیر صاحب کے ہمدرد لبرل طبقہ نے ان کی موت پر شدید احتجاج تو کیا لیکن کہیں کہیں ایسے فقرے بھی سننے کو ملے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو وہ خود گولی ماریں گے۔ یا ایسے بد بخت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جانا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔

گذارش ہے کہ قانون توہین رسالت تو محض دو دہائی پہلے ایک منحوس ڈکٹیٹر نے بنایا۔ اس قانون کی بنیاد ضعیف روایات پر ہے اور قرآن کریم اور ثابت شدہ سنت سے اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔  یہ قانون محض ملا کی بدمعاشی اور دیوثی کو تقویت دینا ہے۔

لبرل طبقہ کو ضرورت اس بات کی ہے کہ اصولوں پر قائم رہیں۔ آدھے ادھر اور آدھے ادھر ہونے سے بات نہیں بنتی۔ قرآن کریم فساد فی الا رض اور قتل عمد کی سزا موت مقرر کرتا ہے۔ رسول اللہ (ص) کا اسوہ مجسم قرآن تھا۔ کیا بعض خون کے پیاسے ملاؤں کی خواہشات پوری کرنے کے لئے پاکستانی قوم سیرت نبی (ص) پر نفرتوں کی گرد چڑھا رہی ہے۔ خدارا، اسلام کو ایسا مسخ کر کے دنیا کے سامنے پیش نہ کریں۔  غازی علم دین کے شیدائی تاثیر صاحب کے والد بھی تھے۔ احرار جیسی ظالم جماعت سے ان کے خاندانی روابط تھے۔ اسی طرح بھٹو صاحب جیسے ذہین اور روشن خیال وزیر اعظم نے مولوی سے صلح کرنے کے لئے مسلمان کی نئی تعریف ایجاد کی۔ اور پھر اسی ملا نے ان کو تختہ دار تک پہنچایا۔

ملک کی تاریخ میں اصول پسند لبرل لیڈران کی بھی ویسی ہی کمی ہے جیسے امن پسند علمائے دین کا کال ہے۔ ایسی افراط وتفریط کا شکار قوم کو کسی اعلیٰ یونیورسٹی کے سائنسدان نفسیات کے اصولوں کے تحت سمجھنے کی کوشش کریں تو شائد ناکام ہو جائیں۔  ویسے جرمن نازی پارٹی اور اس کے کالے کرتوتوں کو پھر بھی سمجھ لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اندھادھند فرمانبرداری نے پورے جرمنی کو ایک متشدد قوم بنا دیا تھا۔ انہیوں نے نازی پارٹی کی اتباع میں کتنے ہی معصوموں کو قتل کیا، بے گھر کیا اور ساری دنیا میں فساد برپا کیا۔ اور جرمن اصلاح پسند طبقہ خاموش رہا اور دو کشتیوں کا مسافر۔ یعنی کمیونزم سے بچنے کے لئے اور معاشی ترقی کے لئے نازی پارٹی کی حمائت کی اور دبے لفظوں اقلیتوں کے قتل عام کی مذمت۔ حالانکہ ہر حال میں اس ظالمانہ فلسفہ کی مخالفت کرنی چاہیے تھی جس نے پوری دنیا کو دس سال عذاب میں مبتلا رکھا۔

پاکستانی روشن خیال طبقہ بھی دو کشتیوں کا مسافر ہے۔ اور اس کے مدمقابل وہ ظالم اور اصل شاتم رسول ہیں جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے سمجھدار شہری اس قانون کی کھلے عام مخالفت کریں۔  مولوی کی اندھا دھند فرمانبرداری سبھی کرتے ہیں۔ ورنہ قتل کو کسی صورت بھی جائز نہ کہتے۔  یہ وقت ہے کہ ملا کا راج قوم کے دل و دماغ سے ختم کیا جائے۔ ہر ظلم کو روکا جائے- ایک ظلم تو یہ ہے کہ پڑھے لکھے پاکستانی اور ان پڑھ طبقہ دین کی سمجھ بوجھ میں ملا کا محتاج ہے۔ مسجد کا لاؤڈسپیکر  جائز و ناجائز کلمات کو عین اسلام بنا دیتا ہے۔ کئی لوگوں کو کہتے سنتا ہوں کہ "جناب قرآن میں لکھا ہے  کہ مرتد کو مار دو، یافلاں کو سنگسار کر دو یا کافروں سے جنگ کرو”۔۔ حالانکہ قرآن میں ایسا تو کچھ نہیں لکھا۔ جب پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ "مولوی صاحب کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے”۔۔ راقم کے تجربہ میں ایسے صاحبان خود کو لبرل یا آزاد خیال کہتے ہیں۔

 

Advertisements

2 خیالات “پاکستانی لبرل طبقہ، نازی جرمنی اور قانون توہین رسالت” پہ

  1. کھوکھر صاحب بہت بہت شکریہ۔ جزاکم اللہ۔ اللہ تمام مسلمانوں کو اسلام کی صحیح اور حقیقی تعلیم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور مزہب کے نام پر خون خرابہ کرنے والے ملاؑ سے دنیاں کو نجات عطا فرمائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s