پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ · عقائد

جاوید چودھری صاحب کے نام

مکرم جاوید چودھری صاحب، اسلام و علیکم،

آپ کا کالم زیرو پوائنٹ پڑھا جس میں آپ نے بانئ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی موعود (علیہ السلام) کی طرف ایک غلط عقیدہ منسوب کیا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر اس دور کے فتنہ پرداز علماء کی تعریفیں کی ہیں۔

آپ کی تصحیح کے لئے عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کا دعویٰ امتی نبوت کا تھا۔ آخری نبوت کا نہیں۔ جماعت احمدیہ کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں اور آپ کی نبوت تا قیامت قائم ہے۔ اس لئے آپ کے بعد کسی نبی کے ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

مزید آپ نے لکھا کہ جماعت احمدیہ کے عقائد گویا توہین رسالت کے زمرہ میں آتے ہیں۔ یعنی فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ جو بھی قادری کی طرح ثواب کمانا چاہے تو سو بسم اللہ۔

آپ کی تحریر میں تضادات ہی تضادات ہیں۔ ایک طرف تو آپ خلفاء راشدین کے اسوہ بیان کرتے ہوئے مدعیان نبوت کی سزا قتل تجویز کرتےہیں۔ حالانکہ مسیلمہ کذاب وغیرہ کا جرم بغاوت تھا۔ اگر دعویٰ نبوت کی سزا دینی ہوتنے تو رسول اللہ (ص) خود سزا دیتے جن کی حیات مبارک میں ہی انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

پھر آپ ہندوستان کے ان علماؑ اور مشائخ کا ذکر کرتےہیں جنہوں نے قادیان کی طرف لانگ مارچ کئے۔ لیکن افسوس کہ وہ صحابہ اور خلفاءراشدین کی سنت کا اظہار نہ کر سکے اور احمدی مسلمانوں کی جانیں بچی رہیں۔ کیسے عالم تھے کہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تقریریں تو کرتے رہتے لیکن اسلام کی روح کو قائم نہ کر سکے۔ نہ ان سے مرتد قتل ہوئے نہ ان کی عورتیں قبضہ میں آئیں، نہ ہی ان کی جائدادیں قابو ہوئیں۔

آپ کہتے ہیں کہ کسی جید عالم نے احمدیوں کے خلاف کوئی فتویٰ قتل نہ دیا۔ حالانکہ تاریخ ان فتووں سے بھری پڑی ہے۔ اصل میں مسئلہ تو مولوی کی منافقت اور بزدلی کا تھا۔ انگریز کے ہوتے ہوئے دبے لفظوں فتوے جاری ہوتے لیکن ان پر عملدرامد کراتا کون؟ پاکستان بننے کی دیر تھی۔ پھر احراریوں کو کھلی چھٹی ملی-حکومت اور ادارے یرغمال ہوئے اور احمدیوں کے جان و مال بھی حلال ٹھہرائے گئے۔

1947 سے قبل احمدی افغانستان میں شہید ہوئے جہاں ظالم امراء کا تسلط تھا۔  1940 میں ایک احمدی خاندان کو انبالہ میں شہید کیا گیا۔ یہ احرار کے پر فتن دور کا عروج تھا۔ آپ کے امیر شریعت قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے جہاد میں مشغول تھے۔ نہ جانے کوئی فتویٰ تھا یا کھیل کود۔ لیکن ان مولوی صاحبان کو خون کی آرزو ضرور تھی۔

پاکستان کا قیام ہونا ہی تھا کہ ہر سال احمدی قتل ہونا شروع ہوئے۔ 1948 میں سات احمدی شہید ہوئے۔ اس کے بعد کوئی سال ایسا نہیں گزرا جس میں کوئی احمدی شہید نہ ہوا ہو۔ یہ ظلم انڈونیشیا اور افریقہ میں بھی شروع ہو گئے – حتیٰ کہ امریکہ میں بھی ایک احمدی شہید کئے گئے۔

28 مئی 2010 کے سانحہ سے قبل تک سینکڑوں احمدی شہید کئے جا چکے تھے۔ اور اس واقعہ کے بعد سات اور احمدی شہید ہو چکے ہیں۔ آج تک ایک قاتل بھی سزایاب نہیں ہوا۔

آپ کہتے ہیں کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے کا مقصد گویا احمدیوں کی جان ومال کا تحفظ تھا۔ ذرا خود ہی دیکھ کر بتائیں کہ کیا اس فیصلے کا احمدیوں کی حفظ و امان پر کوئی مثبت اثر ہوا؟ آپ کے امیر شریعت صاحب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن اقدام قتل کا مقدمہ چونکہ سنگین ہوتا ہے اس لئے منافقت دکھا گئے اور دل کی بات گھٹیا لطیفوں اور گندے جملوں میں گول کرتے رہے۔  منیر کمیشن رپورٹ میں ان کی حرکتوں کی تفصیل موجود ہے۔  اور پھر اخیر عمر میں یہ موصوف اپنی ہی زبان کو ملامت کرتے رہے۔

معلوم نہیں آپ کیا بنیاد بنا کر عوام کو کس قسم کا اسلام سکھا رہے ہیں۔ اگر یہ عطاؑ اللہ شاہ بخاری اور مہر علی شاہ وغیرہ کا اسلام ہے تو عوام  ٹھیک ہے کہ قادری پر پھول نچھاور کرکے ثواب کما رہی ہے۔ تاریخ میں منافقین اور علماء سوء کی کمی نہیں۔ سارے کے سارے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کے ذمہ دار ہیں۔ مودودی کیا تو بخاری کیا۔ سب مجرم ہیں اور اسلام میں شدت پسندی کے ذمہ دار بھی۔

آپ کو مشورہ ہے کہ اپنی معلومات براہ راست حاصل کریں۔ نہ ہی جماعت احمدیہ کے عقائد خلاف اسلام ہیں اور نہ ہی اسلام میں کوئی جبر ہے۔ توہین رسالت کا قانون بھی ظالمانہ ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان کے خلاف ہے۔

اور جہاں تک ملک کے قبرستان بننے کا تعلق ہے۔ جب تک آپ احراری طاقتوں کوہیرو اور اسلام کے ٹھیکیدار بنا کر پیش کرتے رہیں گے، ہمارا ملک اس جاہلانہ تاریکی میں ڈوبتا چلا جائے گا۔ خدارا ہوش کرلیں۔

واسلام،

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s