جماعت احمدیہ اسلامیہ · عقائد

مخالفین احمدیت کی پسپائی

اگرچہ کہ جماعت احمدیہ کے دشمنان آغاز ہی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے لڑنے کے حیلے کرتے رہے ہیں لیکن دشمنی کا معیار پست سے پست ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ایک دور تھا کہ اپنے دور کے بڑے بڑے علماء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں اکٹھے ہو گئے تھے۔ مولوی بٹالوی، امرتسری، دہلوی، غزنوی، بریلوی، گولڑوی اور نہ جانے کتنے ہی اورعلماء سوء اللہ کے شیر کو للکارنے اٹھے اور پھر ان کو وہ ذلت دیکھنی پڑی جو مکذبین کا مقدر ہے۔  چونکہ ان اصحاب نے رسمی دینی تعلیم حاصل کر رکھی تھی اس لئے ان کے اعتراضات میں سے اکثر علمی نوعیت کے ہوتے تھے۔ اور اس میدان میں جب ان کو منہ کی کھانی پڑی تو پھر قرآن کی نشانیوں کے مطابق ان لوگوں نے گھٹیا پروپیگینڈے کا سہارا لیا۔ اسلام دشمنی کی حد تک کام کئے اور کئی مولوی تو گالی گلوچ کو عین اسلام سمجھ کر اسی شغل میں مصروف ہو گئے۔

خیر ہر نسل کا ملا اسی طریق پر چلتا رہا- جہاں علم ختم ہوتا وہاں گالی شروع ہو جاتی۔ مناظرہ اور دشنام طرازی میں فرق گھٹتا گھٹتا بس اب ختم ہی ہو چلا ہے۔ جس مولوی کو سنو، عقیدہ پر کلام کرے سے پرہیز ہی رکھتا ہے۔ ہاں مغلظات اور فحش کلامی پر ان کی مہارت قابل دید ہے۔  ایک آدھ علمی قسم کا مولوی کبھی نظر آجائے تو شکر ادا کرتا ہوں کہ کسی کی بات سننے کا وقت نکالا جا سکتا ہے۔

پھر پرانے دور کے ملا کم از کم جماعت کی کتب پڑھ لینے کی تکلیف کر لیتے تھے۔ اور بڑی عرقریزی سے حوالوں کی قطع برید کر کے ان سے اعتراض تراشتے – پھر کتابیں شائع کرتے۔ یہاں مہر علی شاہ گولڑوی صاحب کا نام منہا سمجھیں کہ پیر صاحب سرقہ کرگئے تھے۔ اب وہ دور ہے کہ ہر مولوی جو جماعت احمدیہ کے خلاف زبان درازی کرتا ہے، بلا تحقیق کرتا ہے۔ وہی پچاس سال پرانی کتب کے رٹے رٹائے اعتراضات ہوتے ہیں اور مولوی نئے۔

پھر ایک نئی رو مخالفت کی چلی ہے۔ جو ملاں کی پسپائی کا مزید ثبوت ہے۔ حسد کی آگ میں بھسم ہوئے صاحبان اب عام احمدیوں کے بارہ میں بہتان آمیز باتوں کی تشہیر کر کے اور احمدی کاروباروں کا بائکاٹ کر کے یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت کو نقصان پہنچائیں گے۔ یعنی اپنے زعم میں اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ بدظنی، بد معاملگی، بد اخلاقی، حسد، غیبت اور جھوٹ۔۔ بس یہی ان کے پاس رہ گیا ہے اب؟

کسی دشمن کی پسپائی کا یہی ثبوت کافی ہوتا ہے کہ کھلے میدان میں للکارنے سے ڈرتا ہے۔ گھٹیا اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے۔

ہمارے پیارے امام مہدی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ہمیں یہ تعلیم دی ہے۔

” مگر میں کہتا ہوں کہ ناانصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔ حق کو قبو ل کرلو اگرچہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤتو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔ سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔ جیساکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے یعنی بُتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھیؔ کہ وہ بُت سے کم نہیں۔ جو چیز قبلۂ حق سے تمہارا مُنہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بُت ہے۔ سچی گواہی دواگرچہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یادوستوں پر ہو۔ چاہیئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ باہم’’ بخل‘‘ اورکینہ اور حسد اور بُغض اور بے مہری چھوڑدو اور ایک ہوجاؤ۔قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزاسمہ‘۔ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔ اور ان حکموں کو اس نے تین درجہ پر منقسم کیاہے۔ جیسا کہ استعدادیں بھی تین ہی قسم کی ہیں اور وہ آیت کریمہ یہ ہے۔ ۔پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو ظالم نہ بنو۔ پس جیسا کہ درحقیقت بجُز اُس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں۔ کوئی بھی محبت کے لائق نہیں کوئی بھی توکّل کے لائق نہیں۔”

(ازالہؑ اوہام، حصہ دوم)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s