زمرہ کے بغیر

دجال، دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

"اب یہ شبہات پیش کئے جاتے ہیں کہ دجّال دائیں آنکھ سے کاناہو گا اور یاجوج ماجوج اسی زمانہ میں ظہور کریں گے اور دابۃ الارض بھی آئے گا اور دُخان بھی اور طلوع شمس مغرب کی طرف سے ہوگا اور امام محمد مہدی بھی اس وقت ظہورکرے گا اور دجّال کے ساتھ بہشت اور دوزخ ہوگا اور زمین کے خزانے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اورایک پہاڑ روٹیوں کابھی ساتھ ہوگا۔اورایک گدھابھی ہوگا اور دجّال اپنے شعبدے دکھائے گا اورؔ آسمان اور زمین دونوں اس کے حکم میں ہوں گے جس قوم پر چاہے بارش نازل کرےاور جس قوم کو چاہے خشک سالی سے ہلاک کردے۔

اور انہیں دنوں میں قومیں یاجوج اورماجوج کی ترقی پر ہوں گی اور زمین کو دباتی چلی جاویں گی اورہر یک بلند زمین سے دوڑے گی اور دجّا ل ایک جسیم آدمی سُرخ رنگ ہوگا۔ یہ تمام علامتیں اب کہاں پائی جاتی ہیں۔ اِن شبہات کا ازالہ اس طرح پر ہے کہ یک چشم سے مراد درحقیقت یک چشم نہیں۔اللہ جلَّ شَانُہٗ قرآن کریم میں فرماتاہے و من کان فی ھٰذہ اعمٰی فھو فی الآخرۃ اعمٰی کیا اس جگہ نابینائی سے مراد جسمانی نابینائی ہے بلکہ روحانی نابینائی مراد ہے اورمطلب یہ ہے کہ دجّال میں دینی عقل نہیں ہوگی اورگودنیا کی عقل اس میں تیز ہوگی اور ایسی حکمتیں ایجادکرے گا اور ایسے عجیب کام دکھلائے گا کہ گویا خدائی کا دعویٰ کررہا ہے لیکن دین کی آنکھ بالکل نہیں ہوگی۔ جیسے آج کل یورپ اور امریکہ کے لوگوں کاحال ہے کہ دنیا کی تدبیروں کا انہوں نے خاتمہ کردیاہے۔

اورحدیث میں جو کَاَنِّی کا لفظ موجود ہے وہ بھی دلالت کر رہا ہے جو یہ ایک کشفی امر اور لائق تعبیر ہے جیساکہ ملّا علی قاری نے اسی کی طرف اشارہ کیاہے۔ اورؔ یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہوچکا ہے جو یہ دنیاکی دو بلند اقبال قومیں ہیں جن میں سے ایک انگریز اوردوسرے روس ہیں۔ یہ دونوں قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کررہی ہیں یعنی اپنی خداد اد طاقتوں کے ساتھ فتحیاب ہوتی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کی بدچلنیوں نے مسلمانوں کو نیچے گرادیا۔ اور اُن کی تہذیب اور متانت شعاری اورہمت اوراُلوالعزمی اورمعاشرت کے اعلیٰ اصولوں نے بحکم و مصلحت قاد ر مطلق ان کو اقبال دے دیا۔ان دونوں قوموں کا بائبل میں بھی ذکر ہے۔ اور دآبۃُ الارض سے مراد کوئی لایعقل جانورنہیں بلکہ بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ آدمی کا نام ہی دآبۃُ الارض *ہے۔

اور اس جگہ لفظ دآبۃُالارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کامراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندرنہیں رکھتے لیکن زمینی علوم و فنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کرکے بجان و دل خدمت شریعت غرّا بجا لاتے ہیں۔سو وہ چونکہ درحقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں۔ اور آسمانی روح کامل طور پر اپنےؔ اندرنہیں رکھتے اس لئے دآبۃُالارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے اورنہ کامل وفاداری۔ اس لئے چہرہ اُن کا انسانوں کاہے مگر بعض اعضاء اُن کے بعض دوسرے حیوانات سے مشابہ ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جلَّ شَانُہٗ اشارہ فرماتاہے 3333 ۱؂ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدّر قریب آجائے گا توہم ایک گروہ دابۃالارض کا زمین میں سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کاہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اورفلسفہ میںیدِ طولیٰ ہوگا۔ وہ جابجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طورپر مشارق مغارب میں پھیلائیں گے اور اس جگہ اَخْرَجْنَاکا لفظ اس وجہ سے اختیار کیاکہ آخری زمانہ میں اُن کا خروج ہو گا نہ حدوث یعنی تخمی طور پر یا کم مقدارکے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر یک زمانہ میں وہ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ پیدا ہوںؔ گے اورحمایت اسلام میں جا بجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہوجائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے۔ واضح ہو کہ یہ خروج کا لفظ قرآن شریف میں دوسرے پیرایہ میں یاجوج ماجوج کے لئے بھی آیا ہے اور دخان کے لئے بھی قرآن شریف میں ایسا ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے معنوں کا ماحصل خروج ہی ہے اور دجّال کے لئے بھی حدیثوں میں یہی خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سو اس لفظ کے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ چیزیں جو آخری زمانہ میں ظہور پذیرہوں گی وہ ابتدائی زمانوں میں بکلّی معدوم نہیں ہوں گی بلکہ اپنے وجود نوعی یامثالی کے ساتھ جو آخری وجود کا ہمرنگ اور مماثل ہوگا پہلے بھی بعض افراد میں ان کا وجود متحقق ہوگالیکن وہ وجود ایک ضعف اور کمزوری اورناکامی کی حالت میں ہوگا۔

مگر دوسرا وجود جس کو خروج کے لفظ سے تعبیر کیا گیاہے اس میں ایک جلالی حالت ہوگی یعنی پہلے وجود کی طرح ضعف اور کمزوری نہیں ہوگی اور ایک طاقت کے ساتھ اس کا ظہورہوگا جس کے اظہار کے لئے خروج کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔ اِسی بنا پر مسلمانوں میں یہ خیال چلا ؔ آتا ہے کہ مسیح دجّال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے موجود ہے اور پھر اُن کے خیالات میں ایسی غلطی پک گئی ہے کہ ابتک مسیح ابن مریم کی طرح اس کو زندہ سمجھا ہوا ہے۔ جوکسی جزیرہ میں مقید اورجکڑاہوا ہے اور اس کی جساسہ بھی اب تک زندہ ہے جو اس کو خبریں پہنچارہی ہے افسوس کہ یہ لوگ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غلط فہمی کر کے کیسی مصیبتوں میں پھنس گئے۔ ایسا ہی یہ لوگ یاجوج ماجوج کو بھی وجود شخصی کے ساتھ زندہ سمجھتے ہیں یعنی بقا ء شخصی کے قائل ہیں۔

اب جبکہ دجّال اور اس کی جساسہ اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا آدمی اور دابۃ الارض اور بقول بعض ابن صیّاد بھی اب تک زندہ ہیں تو حضرت مسیح اگر زندہ نہ ہوں تو ان کی حق تلفی ہے۔ میرے نزدیک بہت سہل طریق ثبوت کا یہ ہے کہ مولوی صاحبان کوشش کر کے کوئی یاجوج ماجوج کا آدمی یا دجّال کی جساسہ یا ابن صیّاد کو ہی کسی جنگل سے پکڑ کرلے آویں پھر کیا بات ہے سب مان جائیں گے کہ اسی طرح حضرت مسیح بھی آسمان پر زندہ ہیں اور مفت میں فتح ہوجائے گی۔

حضرات ! اب ہمت کیجئے کہیں سے دجّال شریر کی جساسہ کو ہی پکڑؔ یئے حوصلہ نہ ہاریں آخر یہ سب زمین پر ہی ہیں۔ابن تمیم کی حدیث کو مسلم میں پڑھ کر اسی پتہ سے جساسہ دجّال کا سُراغ لگائیے یا خبیث دجّال کو ہی جو زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے بچشم خود دیکھ کر پھر اَوروں کو دکھلائیے۔ بات تو خوب ہے۔انگریزوں نے ہمت اور کوشش کر کے نئی دنیا کا سُراغ لگا ہی لیا۔ آپ اس ایک ناکارہ کام میں ہی کامیابی دکھلائیے شاید ان لوگوں میں سے کسی کا پتہ چلے بہر کارے کہ ہمت بستہ گردد۔ اگر خارے بود گلدستہ گردد۔ اور اگرایسا نہیں کرو گے تو پھر خیر اس میں ہے کہ ان بیہودہ خیالات سے بازآجائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی جاندار اس وقت سے سو برس تک زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر آپ ناحق ان سب جانداوں کو اس زمانہ سے آج تک زندہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق اور تدقیق کا زمانہ ہے اسلام کا ایسا خاکہ کھینچ کر نہ دکھلائیے جس پر بچہ بچہ ہنسی کرے۔ غور کرکے سوچئے کہ یہ کروڑہا انسان جو صدہا برسوں سے زندہ فرض کئے گئے ہیں جو اب تک مرنے میں نہیں آتے کس ملک اور کس شہر میں رہتے ہیں۔ تعجب کہ معمورۂ دنیا کیؔ حقیقت بخوبی کھل گئی اورپہاڑوں اور جزیروں کا حال بھی بخوبی معلوم ہو گیا اور تفتیش کرنے والوں نے یہاں تک اپنی تفتیش کوکمال تک پہنچادیا جو ایسی آبادیاں جو ابتدا ءِ دُنیا سے معلوم نہ تھیں وہ اب معلوم ہوگئیں مگر اب تک اس جساسہ اوردجّال اورابن صیّاد مفقود الخبر اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا انسانوں کا کچھ پتہ نہیں ملتا۔ سو اَے حضرات ! یقینًا سمجھو کہ وہ سب جاندار جو انسان کی قسم میں سے تھے اس دنیا سے کوچ کرگئے پردۂ زمین میں چھپ گئے اور مسلم کی سو برس والی حدیث نے اپنی جلالی سچائی سے موت کا مزہ اُنہیں چکھا دیا۔ اب ان کی انتظار آپ کی خام خیالی ہے۔ اب تو اِنّا للّٰہ کہہ کر ان کورخصت شدہ سمجھئے۔”

حاشیہ صفحہ 369:
(آثارالقیامہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے پوچھا گیا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دآبۃُالارض آپ ہی ہیں تب آپ نے جواب دیا کہ دآبۃ الارض میں تو کچھ چارپایوں اور کچھ پرندوں کی بھی مشابہت ہو گی۔ مجھ میں وہ کہاں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ دآبۃ الارض اسم جنس ہے جس سے ایک طائفہ مراد ہے۔ منہ)

(ازالہ اوہام، صفحہ 369-372)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s