متفرق · جماعت احمدیہ اسلامیہ · عقائد

مسیح موعود اور ذوالقرنین میں مماثلت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں،

مجھ سے ایک صاحب حکیم مرزا محمود ایرانی نام نے آج ۲؍ستمبر ۱۹۰۲ء ؁ کو بذریعہ ایک خط کے دریافت کیا ہے کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں وجدھا تغرب فی عین حمئۃ (سورۃ الکھف آیت 87) ۔پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے۔ لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کومشخص کرتی ہے۔ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرن عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں۔ اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہوگا اُس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دو صدیوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ میرا وجود اسی طرح پر ہے۔ میرے وجود نے مشہور و معروف صدیوں میں خواہ ہجری ہیں خواہ مسیحی خواہ بکرماجیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دو صدیوں پرمشتمل ہے صرف کسی ایک صدی تک میری پیدائش اور ظہور ختم نہیں ہوئے۔ غرض جہاں تک مجھے علم ہے میری پیدائش اور میرا ظہور ہر ایک مذہب کی صدی میں صرف ایک صدی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دو صدیوں میں اپنا قدم رکھتا ہے۔ پس ان معنوں سے مَیں ذوالقرنین ہوں۔

چنانچہ بعض احادیث میں بھی مسیح موعود کا نام ذوالقرنین آیا ہے۔ اُن حدیثوں میں بھی ذوالقرنین کے یہی معنے ہیں۔ جو مَیں نے بیان کئے ہیں۔ اب باقی آیت کے معنے پیشگوئی کے لحاظ سے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قومیں بڑی ہیں جن کو مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے۔ اور مسیحی دعوت کیلئے پہلے انہیں کا حق ٹھہرایا گیا ہے۔ سو خدا تعالیٰ ایک استعارے کے رنگ میں اس جگہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے اپنی سیر میں دو قوموں کو پائے گا۔ ایک قوم کو دیکھے گا کہ وہ تاریکی میں ایک ایسے بدبو دار چشمے پر بیٹھی ہے کہ جس کا پانی پینے کے لائق نہیں اور اس میں سخت بدبو دار کیچڑ ہے اور اس قدر ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہہ سکتے۔ یہ عیسائی قوم ہے جو تاریکی میں ہے جنہوں نے مسیحی چشمہ کو اپنی غلطیوں سے بدبو دار کیچڑ میں ملا دیا ہے۔ دوسری سیر میں مسیح موعود نے جو ذوالقرنین ہے ان لوگوں کو دیکھا جو آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور آفتاب کی دھوپ اور اُن میں کوئی اوٹ نہیں۔ اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ اس سے بدن اُن کے جل رہے ہیں اور اوپر کی جلد سیاہ ہوگئی ہے۔ اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجز جلنےؔ کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا۔ یعنی اُن کو توحید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی۔ یعنی دینداری کی سچی خوبصورتی اور سچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصّب اور کینہ اور اشتعالِ طبع اور درندگی کے چلن ان کے حصہ میں آگئے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس پیرایہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور اُن کے حصّہ میں صرف ایک بدبو دار کیچڑ ہوگا۔ جس کو عربی میں حمأ کہتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے ہاتھ صرف خشک توحید ہوگی جو تعصّب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے۔ اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہوگی۔ اور پھر مسیح جو ذوالقرنین ہے ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہوگی اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور اُن کی طبیعتیں سعادتمند ہوں گی۔ اور وہذوالقرنین سے جو مسیح موعود ہے مدد طلب کریں گے تا یاجوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور تاوہ اُن کے لئے سدِّ روشن بنادے گا۔ یعنی ایسے پختہ دلائل اسلام کی تائید میں ان کو تعلیم دے گا۔ یاجوج ماجوج کے حملوں کو قطعی طور پر روک دے گا۔ اور اُن کے آنسو پونچھے گا۔ اور ہر ایک طور سے ان کی مدد کرے گا۔ اور اُن کے ساتھ ہوگا۔ یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قبول کرتے ہیں۔ یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ اور اس میں صریح طور پرمیرے ظہور اور میرے وقت اور میری جماعت کی خبردی گئی ہے۔

پس مبارک وہ جو ان پیشگوئیوں کو غور سے پڑھے۔ قرآن شریف کی یہ سنّت ہے کہ اس قسم کی پیشگوئیاں بھی کیا کرتا ہے کہ ذکر کسی اَور کا ہوتا ہے اور اصل منشاء آئندہ زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی ہوتی ہے۔ جیسا کہ سورۃ یوسف میں بھی اِسی قسم کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ یعنی بظاہر تو ایک قصّہ بیان کیا گیا ہے مگر اس میں یہ مخفی پیشگوئی ہے کہ جس طرح یوسف کو اوّل بھائیوں نے حقارت کی نظر سے دیکھا مگر آخر وہی یوسف اُن کا سردار بنایا گیا۔ اس جگہ بھی قریش کے لئے ایسا ہی ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ردّ کر کے مکّہ سے نکال دیا۔ مگر وہی جو ردّ کیا گیا تھا ان کا پیشوا اور سردار بنایا گیا۔ بڑا تعجب کا مقام ہے کہ اس قدر بار بار مسیح موعود یعنی اس عاجز کی نسبت قرآن شریف میں پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں مگر پھر بعض ایسے لوگ جو اپنے اندر بصیرت کی رُوح نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ لوگ اُن عیسائیوں کی طرح ہیں جو اب تک کہتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بائیبل میں کوئی پیشگوئی نہیں۔

چشم باز و گوش باز و ایں ذ کا      خیرہ ام از   چشم   بندئ    خدا

ایں کمان  از تیرہاُ   پر   ساختہ       صید نزدیک است دور انداختہ

(لیکچر لاہور، روحانی خزائین، جلد 20، صفحہ 200)

Advertisements

ایک خیال “مسیح موعود اور ذوالقرنین میں مماثلت” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s