متفرق · پاکستان

قادیانیت، اسلام اور سائنس کے کٹہرےمیں

مخالفین احمدیت نے گھٹیا لٹریچر کی بھرمار کر رکھی ہے اور اس کو اسلام کی خدمت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ مصنف اور اس کے ہمنواؤں نے اسلامی اخلاقیات کو بھول کر ہی ایسی گندی ذہنیت اختیار کی ہے جس کا جواب نہیں ۔

مذکورہ بالا کتاب ایک ‘سابق’ احمدی برق صاحب کی لکھی ہوئی ہے اور انٹرنیٹ پردستیاب ہے۔ میں نے اس غرض سے کھول لی کہ سائینس کی بات ہورہی ہے، دیکھیں تو سہی۔ لیکن ایک سرسری مطالعہ سے ہی علم ہو گیا کہ اس کتاب میں اتنی ہی سائینس ہے جتنی ایک عام ملا کو مدرسے میں سکھائی جا سکتی ہے۔

کتاب کی لمبی چوڑی تمہید پڑھی تو اس میں ویسے ہی خیالی مناظرے اور مکالمے ملے جو ملاں مزے مزے سے اپنی مجلسوں میں بیان کرتے ہیں۔ بلی کو خواب چھیچھڑوں کے۔ ایسے جتنے بھی بیان سننے کو ملے سبھی میں ایک زبان دراز ملاں مجمعے کو گپیں سناتا ہی ملتا ہے۔ داد وصول کرتا ہے۔ گھٹیا جملے بازی، جھوٹ اور گند کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ یہ کتاب بھی ایسے ہی طبقہ کے مولویوں کے زیر اثر اور زیر سایہ لکھی گئی ہے۔

مصنف کہتا ہے کہ قرآن ہی سائینس کا منبع ہے۔ جماعت احمدیہ کا لٹریچر قرآنی تعلیمات کے عقلی اور سائینسی دلائل سے پر ہے۔ اس لئے ہمیں بھی اس رائے سے اتفاق ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ جس سائینس کو قرآن کے زیر نگیں کرتی ہے، وہ حقیقی سائینس ہے جس کو ثبوت اور تحقیق کے بعد دنیا تسلیم کرتی ہے۔ برق صاحب نے اس اصول کو پس پشت ڈال کر بلا تحقیق ہی لکھ مارتے ہیں کہ فرانسیسی سائینسدان جیک کوسٹو مسلمان ہو گئے تھے۔ حالانکہ اس افواہ کی تردید وہ بارہا خود بھی کر چکے تھے اور فوت ہونے پر ان کی آخری رسومات نوٹرڈیم کے گرجا میں ادا کی گئیں۔ معلوم نہیں ان مولویوں کو اس قسم کے جھوٹے تمغے سجانے کا کیا شوق ہے؟  جھوٹے کی نشانی تو یہی ہوتی ہے کہ بلا تحقیق بات آگے کر دیتا ہے۔

پہلا باب بھی اس کتاب کا سایئنسی تحقیق کا شاہکار ہے۔ چہرہ شناسی کی سائینس تو سب کو معلوم ہے۔ واہ جی۔ شعبدہ بازوں اور فریبی ‘پروفیسروں’ نے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ہوتی ہے۔ قیافہ شناسی ایک قدیم علم ہے اور کئی تہذیبوں میں اس کا وجود ملتا ہے۔ عربوں میں بھی قیافہ کا علم معروف تھا لیکن اس کو کبھی سائینس کا درجہ نہیں دیا گیا۔ کسی مدرسہ میں نہیں پڑھایا گیا، کیونکہ اس علم کا تعلق انسان کے لاشعور سے ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی قیافہ شناس ہے اور اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر لوگوں کے چہرے مہرہ کو جانچتا پرکھتا ہے۔ ہم تو اس بارہ میں کبھی سوچتے بھی نہیں لیکن روزانہ کتنے چہروں کو پڑھ جاتے ہیں۔ ارتقائی سایئنس بتاتی ہے کہ قدیم سے ہی ہمارے لاشعور دوست دشمن کا فرق بتانے کے لئے بہت سے حساب کتاب کرتے ہیں۔ چہرہ، ڈیل ڈول، آواز اور بات چیت، لب و لہجہ، سب کچھ ذہن کے کمپیوٹر میں سے گزر کر ہمیں بتاتا ہے کس کا اعتبار کیا جائے اور کس کا نہیں۔

مصنف نے ایک کتاب کے حوالہ سے لکھا کہ بالوں کی کمی گویا کمزوری کی علامت ہے۔ موصوف ذرا اسلامی تاریخ دیکھ لیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے بال بھی کم تھے اور ان کی شجاعت اور قوت کے کتنے واقعات محفوظ ہیں۔

پھر اپنے ذہن کا آوارہ پن اس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ نیم وا نظریں تو خود اعتمادی کی کمی کی نشانی ہیں۔ اگر ان صاحب کو سیرت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا علم ہوتا تو یہ گستاخی ہر گز نہ کرتے۔

لیکن یہ سب باتیں بھی دیکھنے والے کے ذہن پر منحصر ہیں۔ اچھا ذہن اچھا گمان رکھتا ہے۔ اور سعادتمند سچائی کو دیکھ کر پیچان لیتا ہے۔ اسی لئے تو بے شمار ایسے احمدی ہیں جو حضرت مسیح موعود (علیہ اسلام) کی شبیہ دیکھ کر ایمان لے آئے۔ اور یہ باتیں تو روز کا معمول ہیں۔

خیر اس باب میں ایک آدھ بات اور دیکھی جو قابل غور ہے۔ احمد رضا بریلوی کا ذکر آیا تو عرض کر دوں کہ ‘اعلیٰ حضرت’ موصوف بڑے شدومد سے زمین کو ساکن مانتے تھے اور اس سلسلہ میں کتابیں بھی لکھیں۔ اور یہ بھی کہ کشش ثقل نا معلوم کس چڑیا کا نام ہے۔ بریلوی صاحب اس سے بھی انکاری تھے۔ سائینس اگر ان سے سیکھیں تو ایسی کتابیں ہی چھپیں گی۔ غالبا اسی لئے باب کا اختتام مہر علی شاہ گولڑوی کی ڈینگ سے کرتے ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کو بادشاہی مسجد کے مینار سے چھلانگ لگانے کا چیلنج دیا تھا۔ اگر کشش ثقل آب کے مسلک میں حرام ہے تو چھلانگ لگانا کیا مشکل ہوا؟

یہ کتاب سائینس کا کٹہرا تو نہیں، جعلساز، شعبدہ باز پروفیسروں کا سرکس ضرور ہے۔ پہلے باب کے قیافہ شناس دیکھ لئے۔ اگلے باب میں ماہریں صحت ملاحظہ کریں۔

ہرنام داس کویراج، سو سال قبل کے گھٹیا لچر لٹریچر میں ان کا نام بھی ملتا ہے۔ تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔ البتہ غذا اور صحت کے بارہ میں بھی لکھا۔ سائینس کا ان کو دور کا علاقہ بھی نہیں۔

ڈاکٹر نارمن پیل – شاید مصنف کو علم نہیں کہ یہ موصوف پادری تھے۔ اور مسیحی عقائد کی حمایت میں نفسیات کو استعمال کرتے تھے۔ ان کے بارہ میں بھی رائے یہی ہے کہ قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کو گرویدہ کر لیتے۔

رالف والڈو ٹراین – مبہم امریکی ماہر سماجیات۔ جن کی تحاریر بھی سائینس نہیں کہلائی جا سکتیں۔

اس کے علاوہ ایک عیسائی راہب کا ایمان افروز تذکرہ بھی اسی باب میں ہے۔

دوسرا باب بھی مغلظات سے بھرا پڑا ہے۔ ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ المختصر ثابت یہ کیا گیا ہے کہ بیماریاں انسان کے گنہ گار ہونے کا نتیجہ ہوتی ہیں اور اس کو سائینسی طور پر مسیحی عقائد کے محافظوں سے تقویت دی گئی ہے جن کے مطابق انسان ازلی گنہ گار ہے ۔

اگلا باب حضرت مسیح موعود (علیہ السلام ) کی تحریروں کے نام پر لکھا گیا ہے لیکن سایئنسی موضوع پر کوئی اعتراض نہیں ملا۔ ہاں وہی گھسے پٹے حوالے بغیر سیاق وسباق کے جو ہر احمدی دشمن ویبسائٹ پر باسانی دستیاب ہیں اور ان کے جوابات بھی بارہا دیئے جا چکے ہیں۔

باقی کتاب بھی ایسا چوں چوں کا مربہ ہے کہ پڑھنے کی کوشش کے باوجود ناکامی ہوئی ہے۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے اس پوری کتاب میں ایک بھی حقیقی سائینسی حوالہ موجود نہیں۔ مصنف نے اعتراض اکھٹے کئے ہیں اور اپنے ذہن کا گند گھولا ہے۔ اس کے علاوہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مصنف کی علمی وسعت اس گلی تک محدود ہے جہاں غیر معیاری لٹریچر انگریزی سے ترجمہ کر کے بیچا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنی مدد آپ کے طریقے، غذا سے صحت کا حصول، بغیر آپریشن علاج، ٹیلی پیتھی وغیرہ وغیرہ۔ ایسی سائینس آپ کو مبارک۔

فکر کی بات یہ ہے کہ کئی باتیں طب نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام عوام میں ایسی رایج کر دی گئی ہیں جو ایسے ہی مولویوں کی کم علمی کا نتیجہ ہیں۔ اسی کتاب میں طب نبوی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ پاگل پن اور کئی اور امراض پائنچے دراز اور کالر کے استعمال سے ہوتے ہیں۔ واہ ملا جی!

ایک اور جگہ ایک "تحقیق” پیش کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں ہر قسم کے امراض دیگر قوموں کی نسبت کم ہیں۔ یہ ایسے شخص کے قلم سے کھا گیا ہے جو پاکستان میں رہتا ہے۔ جہاں ہیپیٹایٹس سی، ڈینگی، ملیریا، تپ دق اور ٹایفائڈ عام ہے ۔ ہر سال نئی نئی بیماریاں سر اٹھاتی ہیں اور یہ صاحب یہود وںصاریٰ کو بیماریوں کے عذاب میں مبتلا سمجھتے ہیں۔

اس ساری کتاب کا نچوڑ یہ ہے۔ ملا ں آپ کی صحت کے لئے مہلک ہے ۔ اس سے اتنا دور رہیں جتنا یہ علم سے دور ہے۔

واسلام۔

Advertisements

2 خیالات “قادیانیت، اسلام اور سائنس کے کٹہرےمیں” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s