متفرق · پاکستان

اردو ناول، پیر کامل پر تبصرہ

عمیرہ احمد کا نام میرے لئے نیا ہے۔ اردو ناول نویسی سے تو عرصہ ہوا مایوس ہو چکا ہوں۔ شائد آخری قابل توجہ ناول مستنصر حسین تارڑ صاحب کا راکھ تھا۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ اردو جیسی ہمہ جہت، خوبصورت زبان میں کہانی لکھنا مشکل ہو چکا ہے۔

لیکن اردو پڑھنے والے کروڑہا صارفین کے لئے عامیانہ سے ڈائجسٹ رہ گئے ہیں اور ان میں لکھنے والے چربہ نویس جو مفت پیسے بٹور رہے ہیں۔

عمیرہ احمد صاحبہ کو چربہ نویس تو نہیں، البتہ فارمولا لکھاری کہا جا سکتا ہے۔ شادی، گھریلو مراسم، رومانوی جوڑ توڑ، کالچ یونیورسٹی میں پڑھنے والے کرداروں کی مڈل کلاس زندگیوں پر مبنی افسانے جو آسانی سے ڈراموں میں بدلے جا سکیں۔ یہ ہے ان موصوفہ کا فن۔ اپنے سب سے کامیاب ناول میں ان خاتون نے جماعت احمدیہ کو بھی موضوع بنایا ہے اور اس سلسلہ میں کہانی میں سنسنی خیز قسم کے جھوٹ لکھ کر اپنے کرداروں کو پاکستانی ذھنیت کے لئے آسان کر دیا ہے۔ خدانخواستہ کون منحوس اسلام دشمنوں سے ہمدردی کر سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ’اس فرقہ’ کا نام بھی نہ لیا جائے اور ان کے ‘اپنے نبی’ کے بارہ میں جو جھوٹ دستیاب ہوں اپنے کرداروں کی زبانی کہلوا دیئے جایئں۔ اور خبردار جو کہ ‘اس فرقہ’ کی جانب سے ایک بھی معقول بات بھی لکھو۔ عوام کے دین ایمان کا مسئلہ ہے۔

بدقسمتی سے ایسا ادب پاکستانی اردو میں نیا نہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے ایک ناول نما خودنوشت کو حقیقت بنا کر پیش کیا اور اکثریت اس کو گویا ایک صحیفہ کی طرح مقدس سمجھتی ہے۔ ممتاز مفتی بھی تائب ہوئے اور اشفاق احمد کا تو پیشہ ہی اسلامی کہانی رہی۔

اپنے قارئین کی مذھبی عقیدت کا سہارہ لے کر کہانی بیچنا ایک قدیم روائت ہے ۔ داستان امیر حمزہ کو ہی لے لیں، یا رومان سکندری کو، جو ایک قدیم مسیحی کہانی ہے۔ لیکن مذھبی منافرت کی بنیاد پر کہانی بیچنے کا قبیح طریق کم ہی نظر آتا ہے۔ یہ کتاب اس زمرہ میں آتی ہے۔

مصنفہ کو خوب معلوم ہے کہ ان کے قاری رومانوی ناول بھی باوضو پڑھنا چاہتے ہیں۔ عامر لیاقت کے فلمی مکالموں کی طرح ہر بات حلال  کر کے مذھبی رنگ میں سنی جائے تو باعث ثواب ہوتی ہے۔ اس بات سی مجھے کوئی غرض نہیں کہ کون کس طرح کا لٹریچر پڑھنا چاھتا ہے، کس قسم کے ٹی وی پروگرام پسند کرتا ہے۔ لیکن ایک معاشرے میں نفرت کے بیوپاری مسجد کے منبر پر ہی مناسب ہیں۔ ان کو وہیں رہنے دیں۔ آپ کے قارئین سمجتے ہیں کہ یہ ایک سبق آموز کہانی ہے۔

ان کو کون بتائے کہ اس ناول میں نفرت پیدا کرنے کی غرض سے جھوٹ لکھے گئے ہیں۔ اور ایک جعلی دنیا میں ایک جعلی کردار کو ‘مسلمان’ کرکے جیسے بڑا معرکہ سر کیا ہےٴ اس سے تو اچھی مایا خان ہوئی۔ ایک سچ مچ کے ہندو کو ٹی وی پر مسلمان کیا۔ یہ اور بات ہے کہ بیچارہ بعدمیں پچھتایا۔ اس ناول کا تفصیلی معائینہ یہاں انگریزی میں تحریر کیا ہے۔ پڑھ کر خود ہی اندازہ لگائیں کہ اس معاشرہ کا کیا حال ہے جہاں جھوٹ موٹ کی کہانیوں کے اندر بھی جھوٹ موٹ کی کہانیاں ہوتی ہیں۔

 
http://lutfislam.blogspot.ch/2012/09/peer-e-kamil-islamic-romantic-novel.html

Advertisements

2 خیالات “اردو ناول، پیر کامل پر تبصرہ” پہ

  1. Vey nicely concluded … The so-called "facts” are narrated in the story with a tone of research and conviction for the awaam who love to get their knowledge about everything life and Islam from such fictitious novellas and magazines; without actually contributing their time towards reading and seeking the message of Allah.

    When this novel was being printed in episodes in a women’s urdu digest – Khawateen Digest – some 10 or so years back, I wrote the editor a 10 page letter with excerpts from Hadhrat Maseeh e Mauud’s books and poetry telling of his love for our beloved prophet Hadhrat Muhammad SAWW and the way love for him is instilled in our hearts from the day we are born. She completely ignored the letter and dint give even one single voice a place in her letters part of the digest; nothing but praise for the writer obviously.

    What’s sad for me is how this story will create even more doubts in the minds of youth who read these novels and who are never the ones to go and actually see what Ahmadis have to say.

    Nevertheless, its Allah’s jamaat and we have nothing to fear about. Our minds and hearts are alhamdolillah clear when it comes to our beliefs and our love for the Holy prophet SAWW, unlike Imama and umera obviously.

  2. آسمان پر تھوکنے والے خود اپنے ہی منہ پر گند ڈالتے ہیں۔۔۔اللہ خود دکھا رہا ہے ان کو اسی اسمبلی کی حالت جہاں پر خدائی فیصلہ کیا گیا ۔۔
    کیا خوب فرمایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے۔۔۔۔۔یہ تو سب شکل ان کی ، ہم تو ہیں بس آئینہ دار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s