زمرہ کے بغیر

جلسہ سالانہ ربوہ ۔

جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ برطانیہ امسال 7 تا 9 ستمبر کو ہمپشائر کے نواح میں منعقد ہوا۔ اس سال بھی حاضری 30،000 کے قریب رہی۔ ان میں 88 ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ اس جلسہ میں‌عالمی بیعت کی تقریب بھی ہوئی، جس میں‌کل دنیا سے پانج لاکھ سے زائد نئے افراد جماعت احمدیہ میں‌شامل ہوئے۔

خیر یہ جلسہ بھی ماضی کے جلسوں کی طرح کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ لیکن امسال پاکستان سے ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پہلی بار ٹوئٹر کی وساطت سے سینکڑوں نوجوان احمدیوں نے اپنے جذبات کا احساس کیا۔ جب بھی امام جماعت احمدیہ کا خطاب شروع ہوتا، ٹوئٹر پر پاکستان میں JalsaUK# ٹرینڈ ہونا شروع ہو جاتا۔ یعنی گویا کئی لاکھ پاکستانیوں کے لئے برطانیہ میں منعقد ہونے والی ایک مذھبی مجلس ایک شہ سرخی بن گئی۔ لیکن اس پر بھی کسی ‘روشن خیال’ کے کان پر جوں نہیں‌رینگی۔ کہ پتہ تو کریں یہ جلسہ کیا ہے۔ کیوں اس قدر شور برپا ہے۔

تو صاحبان عرض‌ہے کہ یہ جلسہ تو ربوہ کے شہر میں ہوتا تھا۔ 1983 میں اڑھائی لاکھ نفوس اس میں‌شامل ہوئے۔ پھر ضیاُ دور کی ظلمتوں‌کا آغاز ہوا اور احمدیوں‌پر ہر قسم کی پابندیاں‌لگا دی گئیں۔ اس وقت کے امام جماعت احمدیہ بھی ملک سے رخصت ہوئے۔ تب سے جلسہ سالانہ پاکستان میں حکومت نے بند کر رکھا ہے۔ اور پرطانیہ اور دیگر دنیا میں ہر سال کئی جلسے پوری آب و تاب سے ہوتے ہیں۔ ایم ٹی اے کے توسط سے پاکستان کے مظلوم احمدی بھی اس میں‌دور سے شامل ہوتے ہیں لیکن دل میں احساس محرومی بھی رکھتے ہیں۔  اصل میں تو اس کو #JalsaUK  نہیں #JalsaRabwah ہونا چاہئے تھا۔ لیکن ہمارے سیاسی ملاؤں‌نے ربوہ کا نام بھی غیرقانونی کر دیا۔
 
ہر سال جلسہ سالانہ آتا ہے اور پاکستان سے چند احمدی ظلم کی نئی داستانیں‌لئے اس میں شامل ہونے برطانیہ آتے ہیں۔ ہر سال اس جلسے میں دنیا بھر میں‌نئی مساجد کے افتتاح اور نئی جماعتوں کے قیام کی خوشخبریاں ملتی ہیں، لیکن پاکستان سے مسجدوں کے مسمار کرنے، قبروں کی بے حرمتی، قید و بند اور شہادتوں کی خبریں آتی ہیں۔

اس سال ٹوئٹر پر پاکستانی احمدیوں کے جلسے کی خبر پڑھ کر کم از کم یہ تو سوچیں کہ جس ملک میں نفرت کے بیوپاری ملا، جھوٹ کے ماہر سیاستدان اور ان کے چیلے روز جلسے جلوس نکالتے ہیں۔ کبھی بجلی چوری کر کے تو کبھی سرکاری اور قومی املاک کا نقصان کرکے منتشر ہونے ہیں۔ وہاں ایک امن پسند، محب وطن اور خاموش طبع مسلمان جماعت کو اپنے اکثریتی قصبہ میں‌اجتماع کی اجازت نہیں۔ یہ تو کجا، خود کو مسلمان کہلانے کی اجازت بھی نہیں۔ یہ ٹوئٹر ٹرینڈ دراصل ایک خاموش احتجاج ہے۔ اگر اس پر بھی آپ کی ہمدردی نہیں جاگی تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔ ۔

اس سلسلہ میں ایک انگریزی تحریر یہاں ملاحظہ فرمائیں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s