متفرق · پاکستان · حالات حاضرہ

علامہ طاہر القادری ایک بار پھر؟

علامہ طاہر القادری ایک معروف مذھبی لیڈر ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں سے پاکستان میں ان کی مقبولیت درجہ بدرجہ بڑھتی ہی رہی ہے۔ موصوف کو تصوف کے درجات میں ترقیات کے حصول کے اشتہار لگانے کا بہت شوق ہے۔ اور انہیں کارناموں کی وجہ سے ان کے مریدوں میں آپ شیخ الاسلام اور مجدد امت وغیرہ کے القابات سے بھی جانے جاتے ہیں۔ مجددیت کا دعویٰ‌البتہ مبہم ہے۔

بدقسمتی سے پنجاب کا خطہ ایک خاص قبیل کے مولوی سے اٹا پڑا ہے۔ یہ وہ حضرات ہیں جو فن خطابت میں‌مہارت حاصل کر کے عوام الناس میں‌مقبول ہو جاتے ہیں۔ ہر مذھبی جماعت اس قسم کے لیڈران کے بل پر چلتی ہے۔ احسان الٰہی ظہیر، حق نواز جھنگوی وغیرہ کی مقبولیت کا راز ان کی پرجوش تقاریر تھیں- یہ احراری لیڈران کی وراثت ہے جو اب بھی جاری ہے۔

طاہر القادری صاحب طالبعلمی کے زمانہ ہی سے ایک ماہر مقرر تھے۔ اور اس فن میں انہیں واقعی مہارت حاصل ہے۔ اوائل ہی میں‌انہیں شریف خاندان کی مالی اور اخلاقی اعانت حاصل رہی جس کی وجہ سے آئی جے آئی دور میں موصوف مقبول ہوئے۔ پھر امام جماعت احمدیہ کو مباہلہ کے چیلنج کا ڈرامہ کرکے مزید شہرت کمائی۔ 

یکایک قادری صاحب نے پینترہ بل کر شریفوں کی اعانت سے مونہہ موڑا اور الٹا انہیں کو اپنی جان کا دشمن ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔ عدالت نے انہیں ایک قاتلانہ حملہ کا ڈرامہ رچانے اور جھوٹ‌بولنے پر سخت ڈانٹ‌پلائی۔ خیر مباہلہ کی جسارت بھی نتائج خیز ہوتی ہے۔ اور 1988 سے لے کر آج تک علامہ صاحب کو ہر طرف سے جھوٹ، دھوکہ، ڈرامہ بازی اور اس قسم کے اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کو پریلوی فرقہ کے کئی حلقوں میں‌بھی ناپسند کیا جاتا ہے-دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ تو ویسے ہی ان کے مخالف ہیں۔ علامہ صاحب اپنی مجالس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے قصے سنانے میں مشہور ہیں۔ اور انہیں زیارتوں کے بل پر چندے بٹورتے ہیں اور منہاج القران فاؤنڈیشن چلاتے ہیں۔

آج کل موصوف مغربی حکومتوں کو اپنا گرویدہ کرنے کے چکر میں طرح کے جتن کر رہے ہیں۔ اور اسی کوشش میں‌ایک اور دھوکہ دھی میں‌پکڑے گئے ہیں۔ آپ نے کچھ عرصہ قبل ہی خود کو قانون توہین رسالت کا بانی ثابت کیا اوراب نہ جانے کس امید میں اس دعوے سے مکر رہے ہیں۔ قارئین خود ہی ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں۔ 

(یو ٹیوب سے یہ ویڈیو کاپی رائٹ کے دعویٰ کیوجہ سے ہٹا دی گئی ہے۔)

 

تازہ ترین: ١٤ ستمبر٢٠١٢: یہ ویڈیو اور اس کی طرح کی مزید ویڈیوز منہاج القران فاونڈیشن نے کاپی رائٹ کے بہانہ سے ہٹا دی ہیں۔ لیکن علامہ صاحب کا چھوٹ پکڑا گیا ہے۔ اگر کوئی ویڈیو دستیاب ہوئی تو لنک یہاں مہیا کر دیا چائے گا۔

Click here for the video

اس ویڈیو کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں طاہر القادری صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کا قانون توہین رسالت انہی کے مرہون منت ہے۔ علامہ صاحب نے یہ بات اپنے بقول تحدیث نعمت کے طور پر بتائی۔ ان کے مطابق توہین رسالت کا مرتکب جو بھی ہو وہ موت کا حقدار ہے۔ لیکن حال میں ایک ڈینش ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوے موصوف صاف اس بات سے مکر گئے۔ اور فرمانے لگے کہ توہین رسالت کا قانون غیرمسلموں پر لاگو ہی نہیں ہوتا۔ اب آپ خود ہی بتایئے کہ ایک طرف یہ ڈینگ کہ قانون بنایا ہی انہوں نے اور پھر مغربی دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔

 

١٦ ستمبر : ویڈیو پھر آگئی ہے۔ دیکھئے کب تک رہتی ہے۔

١٦ ستمبر ٢٠١٢:ڈاکٹر صاحب کی جگ ہنسائی جو ہوئی سو ہوئی، ڈینش ٹی وی والوں‌نے مزید وضاحت کے لئے پھر طاہر القادری صاحب کو مدعو کیا، کہ اگر کوئی غلط فہمی ہو تو دور کی جائے۔ یہ پورا انٹرویو دیکھنا ہر ذی شعور مسلمان کے لئے تکلیف دہ امر ہو گا۔ چاہے آپ توہین رسالت کی دنیاوی سزا کے حق میں ہیں‌یا نہیں، ایک عالم دین کو اسطرح سچ سے اجتناب کرنا زیبا نہیں دیتا۔  مہذب دنیا میں قانون توہین رسالت کیوجہ سے اسلام کا نام بدنام ہو رہا ہے اور طاہر القادری صاحب جیسے نام نہاد عالم اس قانون کے حق میں‌مضحکہ خیز توجیہات پیش کرکے سمجھتے ہیں کہ اسطرح اسلام کا نام روشن ہوگا۔ اس انٹرویو میں ٹی وی اینکر نے کئی بار ایک سیدھا سوال پوچھا کہ کیا ڈاکٹر صاحب اس جرم کی سزا قتل سمجھتے ہیں۔ جس پر انہوں نے بار بار سیدھا جواب دینے سے اجتناب کیا اور وہی شعبدہ بازی دکھانے کی کوشش کی جو صرف ان کے مرید ہی مان سکتے ہیں۔

Advertisements

5 خیالات “علامہ طاہر القادری ایک بار پھر؟” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s