متفرق · پاکستان · حالات حاضرہ

محمد حنیف کی کافر فیکٹری

محمد حنیف انگریزی ناول نگار اور اردو صحافی ہیں۔ ان کی کتاب A case of exploding mangoes بہت مقبول ہوئی۔ اس میں حنیف نے جنرل ضیاالحق کی منافقت کو طنز کا نشانہ بنایا ہے اور دلچسپ پیرائے میں‌پاکستان میں مذھبی اور سیاسی معاملات پر کہانی بیان کی ہے۔ آج کل ان کی دوسری کتاب Our lady of alice bhatti کی دھوم ہے۔ سنا ہے کہ پڑھنے کے لائق ہے۔

انگریزی زبان میں‌پاکستان کا لبرل طبقہ کسی نہ کسی طریقے سے ملاں ذھنیت کو دبے لفظوں برا بھلا کہتا رہتا ہے۔ وہ بھی جب کہیں ظلم و جبر کی انتہا ہو جائے۔ اردو اخبارات اور جرائد البتہ اس قسم کے جسارت سے دور رہتے ہیں۔ لیکن محمد حنیف نے دلیری کا ایسا مظاہرہ کیا کہ میں‌حیران ہوں۔ یہ دلیری ان خاص لوگوں‌کو نصیب ہوتی ہے جو پاکستانی معاشرہ کے اندرونی منافقت سے واقف بھی ہوتے ہیں اور بیرون ملک ان کو پذیرائی بھی مل جاتی ہے۔ یعنی ملاں اور ان کے پیروکار ان کا نقصان نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی سیاستدان یا مقامی دانشور ایسی حرکت کرے تو اس کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ قادیانی کا لیبل، بعض اوقات قادیانی ہونے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

جب 2010 میں سانحہ لاہور کا اندوہناک واقعہ رونما ہوا، تو جہاں پاکستانی میڈیا اپنا وقت اور توجہ مسجد کو عبادتگاہ  کہنےاور احمدیوں کے غیرمسلم ہونے پر مرکوز کئے ہوئے تھا، محمد حنیف نے بی بی سی اردو کے لئے اپنا مضمون ‘کافر فیکٹری’ لکھا۔ اور دو سال بعد ایم کیو ایم کے ایک جلسہ پر پڑھ کر سنا دیا۔ اس بات کی داد دینی پڑتی ہے کہ ایک قلم کار اخلاقی دلیری کا ایسا شاندار مظاہرہ بھی کر سکتا ہے۔ وہ بھی پاکستان میں، ایک ایسے مجمع کے سامنے جس کی اکثریت حنیف صاحب کے ایمان پر دل ہی دل میں فتوے جاری کر چکی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ حنیف صاحب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s