متفرق · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

روزنامہ امت کی فتنہ پردازیاں

روزنامہ امت کی نظریاتی جڑیں اسی میلے ، متعفن پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جہاں سے احراری، مودودوی اور اسی قسم کے اور زقومی پودے پھوٹے اور اپنی موت آپ مر گئے۔ لیکن ان گند اب بھی دنیا کو آلودہ کر رہا ہے۔

آج 15 ستمبر کے شمارے میں‌امت کے رنگین صفحے پر احمد نجیب زادے بے جھوٹ اور تلبیس کی انتہا کر دی۔ یہ حضرت لکھتے ہیں‌کہ حالیہ توہین آمیز فلم کے معاملے میں جماعت احمدیہ امریکہ کے ساتھ ہے۔ اور اس سلسلہ میں‌ کوئی براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا اور ایک بار پھر احمدیہ ٹائمز کو بھی امریکہ کی حمایت کا الزام دیا ہے۔

اس کے بعد کی باقی تمام خبر اس توہین آمیز فلم اور اس کے بارہ میں‌اسلامی دنیا کے ردعمل پر مبنی ہے۔ لیکن سرخی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مصنف اور اس اخبار کا بس نہیں‌چل رہا کہ کسی طریق سے جماعت احمدیہ کے خلاف عوام کو مشتعل کر دیا جائے۔  عوام تو ویسے بھی پروپیگینڈے کی وجہ سے احمدیوں سے متنفر ہیں۔ اور چونکہ جماعت احمدیہ پر ضیا دور کے کالے قانون کیوجہ سے اپنے دفاع کی اجازت نہیں، امت اور اس کی قبیل کے اور جریدے پاکستان کی اردو پڑھنے والے قارئین کو بیوقوف بناتے رہتے ہیں۔  ٰکہ سنگ وخشت مقید ہیں اور سگ آزاد۔

ماضی میں جنگ اخبار کے یورپی ایڈیشن میں ڈینش خاکوں‌کو بھی جماعت احمدیہ سے جوڑا گیا۔ بعد میں‌قانونی چارہ جوئی کے بعد جنگ گروپ کو معذرت کرنی پڑی۔ لیکن خبر کا اثر یہ ہوا، کہ جب سانحہ لاہور کا دہشت گرد پکڑا گیا تو اس نے بھی یہی وجہ بتائی کہ احمدی خاکے بنانے کی سازش میں ملوث تھے ۔لا حول ولا قوۃ الا با اللہ

اصل حقیقت تو اس کے بر عکس ہے۔ امام جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر باراسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں سب سے موثر اور جامع جواب آتا ہے۔ ڈنمارک کے اخبار کی جسارت کے بعد بھی حضرت خلیفۃ المیسح نے خطابات کے ایک سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ اور سیرت مطہرہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ تاکہ وہ غلط تاثر جو ایسی حرکات کے ردعمل کیوجہ سے پیدا ہو کر اسلام کو مزید بدنام کرتا ہے اس کا مداوا کیا جاسکے۔ ڈچ دشمن اسلام کو بھی اللہ کی پکڑ کا انذار حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نے ہی کیا۔ 

موجودہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ اسلام دشمنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کو نشانہ بنایا ہو۔ راج پال، رشدی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ اور ان جیسے کئی اور بھی۔ جن کو مکمل اور جامع جواب دینے کی توفیق صرف جماعت احمدیہ کو ہی ملی۔ باقی رہا تشدد اور انتقام کا معاملہ، تو اسلام اس کی اجازت ہی نہیں دیتا ۔ ملا کو اگر کشت وخوں‌سے لگاؤ ہے تو ہوتا رہے۔ ہمیں تو بہر حال سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیاری ہے۔

سنت رسول یہ ہے کہ جہلا اور سفہا کی محفلوں‌سے دور رہا جائے۔ ان کی دشنام طرازی کا جواب نہ دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہی ان کا فیصلہ کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاندین برے ناموں سے پکارتے تو آپ اپنے صحابہ کو یہی فرماتے کہ میرا نام محمد ہے، یعنی تعریف کیا گیا۔ اور تاریخ‌گواہ ہے کہ آج تک کسی انسان کی اسقدر تعریف نہیں کی گئی جتنی آپ کی- لاتعداد نعتیں اور قصائد لکھے اور پڑھے گئے ہیں۔ اور پڑھے جاتے رہیں گے۔ اللھم صل علی محمد و بارک وسلم انک حمید مجید۔

خیر روزنامہ امت کا یہ کہنا کہ جماعت احمدیہ امریکہ کی حمایتی ہے سرا سر جھوٹ ہے۔ جماعت فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلام اور حمایتی ہے۔ اور اس غلامی کا مطلب آپ کی سنت کریمہ پر عمل کرنا بھی ہے۔ امریکہ کے ایک شہری کی گستاخی کو اس ملک کی گستاخی نہیں کہا جا سکتا۔ بالکل اسی طرح جیسے اسامہ کی دہشت گردی کا الزام سب مسلمانوں کو نہیں‌دیا جا سکتا- اور لیبیا میں جو ہوا سراسر ظلم اور جبر تھا۔ ایک ملک کے سفیر کو تو بدترین جنگی حالات میں بھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جو سفارت خانے کو دی گئی ضمانت کو پامال کرکے قتل کے مرتکب ہوئے؟

اگر اس فلم کا موثر جواب دینا ہے تو امت کو چاہئے کہ وہی کرے جو جماعت احمدیہ سالوں سے کرتی چلی آ رہی ہے۔ جب مصری پادریوں نے اسلام پر حملے شروع کئے تو ان کا جواب دینے کی توفیق عرب احمدی علما کو نصیب ہوئی۔ اس کا اعتراف دنیائے عرب کے طول و عرض میں سب مسلمانوں‌نے کیا۔ پھر جب ٹیری جونز نے قرآن کی بے حرمتی کا منصوبہ بنایا تو جماعت احمدیہ کے ٹی وی چینل نے اس کو فون کر کے پوچھا کہ کیا اس نے قرآن پڑھا بھی ہے۔ جواب میں وہ بولا کہ نہیں پڑھا۔ پس اس طرح کی مختصر اور موثر کاروائی سے اس شخص کا جہل دنیا پر کھل گیا۔

اللہ نہ کرے ۔ لیکن روزنامہ امت کو خؤب معلوم ہے کہ اس قسم کی صحافت پاکستان میں کیا نتائج پیدا کرتی ہے۔ حامد میر، عامر لیاقت اور مہر بخاری اسی طرح لوگوں‌کے قتل میں شریک ہیں جسطرح‌ان کے قاتل۔ روزنامہ امت بھی ایسے کالے کرتوتوں میں ماہر ہے۔

اسلام کی اصل تعلیمات کا چہرہ تو صرف آپکو جماعت احمدیہ میں نظر آئے گا۔ لیکن روزنامہ امت کی یہ مذموم کوشش کہ بجائے اس بات کا اعتراف کرنے کے، جھوٹ اور ملمع سازی سے کام لیتے ہوئے عوام کو اشتعال دلا رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ‌ان کے مکر دنیا پر کھول دے اور ان کے بد عزائم ناکام ہوں ۔ آمین۔

Advertisements

ایک خیال “روزنامہ امت کی فتنہ پردازیاں” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s