متفرق

تبلیغی ادارہ کے اجزاء کی تحلیل ۔ مولانا ظفر علی خان کے حقّہ کے دھوئیں میں!

بشکریہ الاسلام ڈاٹ آرگ 

’’ظفرالملک والدین‘‘ مدیر زمیندار مولانا ظفر علی خان کی ہنگامہ پرور زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ برصغیرپاک و ہند کے نامورادیب و صحافی جناب چراغ حسن حسرت کے قلم سے:

 

’’ایک دن زمیندار کے دفتر میں کسی نے کہا کہ چین، جاپان ، جرمنی اور فرانس کے لوگ مسلمان ہونے پر آمادہ ہیں لیکن انہیں تبلیغ کون کرے؟ اس پر مولوی ظفر علی خان صاحب نے فرمایا ’’ بات تو آپ نے ٹھیک کہی۔ اچھا سالک صاحب اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کیجئے۔ کہ اگر ہم ایک تبلیغی ادارہ کھول لیں تو کیسا ہے ۔ ذرامہر صاحب کو بھی بلوائیے۔ آ گئے مہر صاحب! ہاں تو میں کہہ رہاتھا کہ اگر یہاں لاہور میں ایک مرکزی تبلیغی ادارہ کھول لیا جائے اوراس کی شاخیں ساری دنیا میں پھیلا دی جائیں توکیا حرج ہے؟ کوئی دس لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے۔ سات کروڑ نہیں آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہوگی اگر ہر مسلمان سے ایک ایک پیسہ وصول کیاجائے تو کتنے روپے ہوئے؟ ریاضی کا سوال تھا کسی سے حل نہ ہوا۔ سب ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگے۔ اتنے میں مولانا نے کہا، آٹھ کروڑ پیسے ہوتے ہیں نا۔ آٹھ کروڑ کو ۶۴ پر تقسیم کیجئے ساڑھے بارہ لاکھ روپے ہوئے ۔ چلئے دس لاکھ ہی سہی۔ دس لاکھ بہت ہے یہ مرحلہ تو طے ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ تبلیغ کا کام کن لوگوں کے سپرد کیا جائے لیکن مبلغ بھی چوٹی کے آدمی ہوں۔ مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد فرانس جرمنی وغیرہ میں تبلیغ کریں او رڈاکٹر اقبال کو چین بھیج دیا جائے۔ سالک صاحب اورمہر صاحب مل کے اخبار سنبھالئیے میں تو اب تبلیغ اسلام کا کام کروں گا۔ کچھ دیر تو دفتر بھر میں سناٹا رہا۔ آخر ایک صاحب نے جی کڑاکر کے کہا کہ مولانا اس میں کوئی شک نہیں کہ تجویز بہت خوب ہے لیکن روپیہ جمع کیسے ہوگا؟ آخر مسلمانو ں سے دس لاکھ روپیہ جمع کرنے کے لئے ایک لاکھ روپیہ چاہئے۔ آپ کہیں سے ایک لاکھ روپے کا انتظام کر دیجئے۔ باقی کام ہم سنبھال لیں گے۔ مولانا نے فرمایا ہاں بھئی یہی تو مشکل ہے ۔ یہ کہہ کر منہ پھیر کر حُقّہ کی نَے سنبھالی ۔ انگوٹھا انگشت شہادت پر نیم دائرہ بناتا ہوا گھومنے لگا۔ اوراس تبلیغی ادارہ کے اجزاء حقہ کے دھوئیں کے ساتھ فضا میں تحلیل ہو کے رہ گئے‘‘

(مردم دیدہ صفحہ ۱۵۴ تا ۱۵۶ از چراغ حسن حسرت کاشمیری، دارالاشاعت پنجاب لاہور۔ ۱۹۳۹ء) ۔ ؂

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s