پاکستان · حالات حاضرہ

قصہ سات خنزیروں کا

رومی فوجیں سور پالتی تھیں۔ جنگ میں ان پر تیل چھڑک کر آگ لگا کر دشمن کی صفوں میں ہنکا دیتے تھے۔ سور خود بھی مرتے اور دشمن کی صفوں میں خوف اور افراتفری مچا دیتے۔ پھر رومی فوجی حملہ آور ہو کر ٹوٹی صفوں کو پچھاڑ دیتے۔

بچپن کا ایک واقعہ یاد آتاہے۔ بہت مبہم سی یاد باقی ہے۔ شائد پہلی جماعت میں پڑھتا تھا۔ سکول جانا شروع ہوا تو ایک بار شہد کی مکھیوں کے چھتے ٹوٹنے پر کچھ بچے زخمی ہوئے۔ میں نے مکھیوں کی یلغار اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ بچوں کو خوف اور درد سے چلاتے دیکھا۔

لیکن مکھیاں بھی چلی گئیں ۔ جن کو ڈنگ لگے، ان کے منہ پھول کر کپا ہو گئے، لیکن چند دنوں میں وہ بھی ٹھیک ہو گئے۔ میں سکول پہنچا تو میری سویٹر پر اہک مکھی پھنسی بیٹھی تھی۔ ٹیچر نے اپنے ہاتھوں سے اتار کر پرے پھینکا۔

پھر ایک دن کلاس میں بیٹھے تھے کہ خبر سنی کہ سکول میں سور گھس آیا ہے۔ کلاس کے دروازے بند کر کے سب اندر بیٹھ گئے۔ پانچ سال کے بچوں کو کیا پتہ سور کیا ہوتا ہے۔ بس یہی پتہ تھا کہ پلید ہوتا ہے۔ پلید کا مطلب اس عمر میں خوف اور دہشت کے زمرے میں آتا تھا۔

تو ہم بچے سور کے عجیب و غریب حلیے ذہن میں بنائے بیٹھے رہے۔ کیا معلوم کہ کتنا بڑا ہوتا ہے۔ کتنے ہاتھ پیرہیں، دانت کیسے ہیں، آوار کیسی نکالتا ہے۔ کس طرح بچوں کو کھاتا ہے؟

پھر سنا کہ اب سب ٹھیک ہے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے اپنی پستول سے سور کو مار ڈالا ہے۔ ہم باہر نکلے اور سیدھے گھروں کو بھیچ دئے گئے۔ خون آشام سور کی لاش کا تماشہ نہیں ہوا۔ اور یہ ہاد ایک الف لیلوی قصے کی طرح ذہن پر نقش رہ گئی۔

ہیڈ ماسٹر صاحب کا دفتر ہمارے لئے طلسم ہوشربا سے کم نہ تھا۔ ان کی بید کی چھڑی کی داستانیں سن رکھی تھیں۔ چھ فٹ لمبی چھڑی، چس کو تیل دیا جاتا ہے۔ جب چلتی ہے تو سارے سکول میں اس کی آواز گونجتی ہے۔ مضروب کی آواز بھی۔ میں نے چھڑی کا سنا بہت، لیکن کبھی چلتے نہیں دیکھی۔ ان کی پستول کا بھی یہی قصہ ہے۔ اس روز کوئی گولی چلنے کی آواز نہیں آئی، لیکن سوُر مار ڈالا گیا۔

ہیڈ ماسٹر صاحب کا رعب انسان، حیوان اور سوُر سب پر قائم تھا۔

آرمی پبلک سکول میں بھی سات سور گھس آئے اور ١٣٢ بچوں کو کچل مسل کر واصل جہنم ہوئے۔

 

لیکن میرے سکول میں آنے والا سور تو بھٹک کر آ گیا تھا۔ ان سات سوُوروں کو تو ہنکا کر لایا گیا ۔

ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب نے اس بھٹکے سور کو مارا۔ یہاں پر ملکی حکومت اور ادارے سور پالتے رہے۔ اب وہ شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہماری نسلیں تباہ کرتے ہیں ۔

خنزیر مارنے آسان ہیں ۔ ان کے پالنے پوسنے والوں کو بھی مارنا لازم ہے اس سے پہلے کہ وہ مزید آتشی سوُر ہماری صفوں میں چھوڑنے کی کوشش کریں۔ اور کاش کہ ہمارے ملک میں ایک تیل ڈوبی بید کی چھڑی کی دہشت ہی ہوتی۔ ماسٹر صاحب کے پستول کا خوف بھی ہوتا تاکہ کوئی خنزیر صفت ہمارے سکولوں کا رخ نہ کرتا۔

Advertisements

ایک خیال “قصہ سات خنزیروں کا” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s