متفرق · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

احساس کمتری کا تڑکا اور تقدیر کا ڈسٹ بن

١٨٥٧ کے غدر کی وجوہات میں ایک وجہ مسلمان قوم کا احساس زیان بھی تھا۔ ایک طاقتور حاکم قوم آہستہ آہستہ محکوم ہو گئی۔ تہذیبی نرگسیت تو ہر شکست خوردہ قوم کی بیماری ہے۔ فاتح اقوام میں ترقی پسند طبقہ اعتدال پسند ہوتا ہے اور پچھڑی ہوئی تہذیبوں میں معتدل مزاج ملنےمشکل ہوتے ہیں۔ سرسید بیچارے ایک شکست خوردہ قوم کے وکیل تھے۔ جو بھی عذر اور توجیہات آپ نے پیش کیں، ان میں معقولیت تو بے شک تھی، لیکن احساس کمتری کا تڑکہ لگا کر۔

بعد کی نسلوں میں عالمگیر اسلامی قوم پرستی کے علمبرداروں نے معقولیت کو بھی پرے ڈال دیا، اور احساس کمتری کو احساس زیاں سے بدل ڈالا۔ یعنی، جو غدر چند ماہ میں انگریزوں نے کچل کر ابنی حکومت پکی کر لی تھی، وہی غدر اب ساری دنیا میں بپا ہے۔ اور عالمی طاقتیں اپنی حکومتیں پکی کر رہی ہیں۔

کوں سمجھایے ان داعش کے جنگجو لونڈوں کو، اور طالبان کے لڑاکے اوباشوں کو ٴ کہ پان اسلام ازم جس روپ میں بھی آئے گا، منہ کی کھائے گا۔ اسلام کا کوئی ایک سیاسی روپ مقرر کرنا ایسا ہی ہے، جیسے ایک ہر فن مولا جینئیس انسان کو کولہو کے بیل کی جگہ جوت دیا جائے۔ ایسا کرنے والے کو اول درجہ کا احمق اور غبی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ذرا سوچیں، کہ وہ دیں جو اپنے ماخذ کو براہ راست خدا سے ملانے کا بلند بانگ دعوٰی کرتا ہے ٴ اس کو ہر دور میں عقل کے پیمانے پر پرکھنا بھی لازم ہے۔

مولوی آپ کو ایمان بالغیب کی لوری سناتا ہے۔ سرسید فرماتے ہیں کہ عقل جو قبول نہ کرے اس آیت کی وہ تاویل کرو جو اس دور کے فلاسفروں کو ہضم ہو جائے۔ داعش اور ظالب کہنے ہیں، جو نہ مانے اس کو مار ہی ڈالو۔ خلافت کے داعی کہنے ہیں کہ بس ایک خلیفہ مقرر کر لو، پھر ایسے دن پھریں گے کہ کیا یاد کرو گے۔

قدامت پسند سلفی ساتویں صدی عیسوی سے نکلنے سے ہی انکاری ہیں۔ یہ سب تہذیبی نرگسیت کے شاخسانے ہیں۔ اس دور مین سایئنس اور مواصلات کے سامنے ہر مذہب گھٹنے ٹیک چکا ہے، یہ دھریت کا زمانہ ہے۔ اور کم ہی ہیں جو سائینس اور فلسفہ پڑھ کر دھرئیت اختیار کرتے ہیں۔ اکثر کٹر دہریئے اپنے مذہب کے ملاں کے ظلم اور اذیئت سے فرار ہوکر دین سے کنارہ کش ہوتے ہیں۔

جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پڑھتا ہوں تو ان میں مجھے بار بار دھریت کے فتنہ کا ذکر ملتا ہے۔ دجالی طاقتیں وہ ہیں جو دنیا کو اللہ سے دور لے کر جانے والی ہیں ۔ چاہے وہ مسیح کی الوہیت اور گناہوں کے کفارہ کے روپ میں ہوں، یا ان مولویوں کے، جو عقل اور فہم کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ یا وہ قتالی ‘جہادی’ جو عقل کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی خواص سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں۔

پد داعش کے لونڈے ہوں یا طالبان کے سدھائے ہوئے بندر، یہ سب ایک عالمی غدر میں ملوث ہیں، اور بے شمار معصوموں کا خون ان کے ہاتھوں پر ہے۔

اسلام کی نشاۃ ثانیہ ایک روشن خیال، سلیم الطبع اور مہذب قوم کے ذریعہ رونما ہوگی جو خدا سے ہمکلام ہونے کا شوق رکھتی ہے۔ کسی فلسفے اور سایئنسی انقلاب سے نہ مرعوب ہے نہ ہی اس سے نالاں، بلکہ دنیا کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے پر عزم ہے۔ جنگ سے نہیں، بلکہ علم سے ۔ ہمارے تہذیبی ناسٹالجیا کے مریض یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلام عقل اور سائینس اور فنون لطیفہ کے بل پر ایک عالمی تہذیب بنا تھا۔

جنگ و جدل سے رغبت، جدید فکر سے بے رخی ارتقائی جنگ میں شکست کی علامت ہونی ہے ٴ اور دیکھئے خدا کی قدرت، کسطرح ادنیٰ درجہ کے گروہ اپنے آپ کو کالر سے پکڑ کر تقدیر کے ڈسٹ بن میں گھسیٹ کر لے آتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s