متفرق · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ

قصہ احمدیوں کے جلسے کا

جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ ہر سال منعقد ہوتا ہے – سینکڑوں ملکوں میں بھانت بھانت کے لوگ اپنے ملکی حالات کے مطابق عموماٌ تین روز کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں – تقریریں پڑھی جاتی ہیں، نماز باجماعت اور درس قراں و حدیث کا انتظام ہوتا ہے – تہجد بھی باقاعدہ جماعت کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں – عورتوں کے لئے پردہ کا بندوبست ہوتا ہے اور اکثر مقامات پر ان کے اپنے اجلاسات بھی جلسہ کے دوران ہوتے ہیں ۔

 

یہ رسم جلسہ کی بانی جماعت احمدیہ نے اپنے دعویٰ کےفوراٌ بعد ہی شروع کر دی تھی۔ پہلے سال دسمبر کی تعطیلات میں پچہتر لوگ آئے تھے۔ رفتہ رفتہ تعداد بڑھتی گئی۔ 1983 میں ربوہ کے جلسہ میں کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ لوگ شریک ہوئے تھے۔

بر صغیر ایک وسیع خطہ ہے – موسم بھی متنوع ہے اور قوموں کے مزاج بھی۔ لیکن جلسہ میں دیکھا جاتا ہے کہ سب لوگ یک رنگ ہوجاتے ہیں۔ کشمیری، پٹھان، بہاری اور بنگالی، پنچابی اور مراٹھی، انگریز اور جرمن، افریقہ کے مشرق کی قومیں ہوں یا مغرب کی، یا پھر سرزمیں عرب کے ابدال – سب قادیان اور ربوہ پہنچ کر گویا ایک ہار میں پروئے جاتے ہیں۔ ان کے اخلاق اور مذاق، مصافحے اور معانقے، کھانے پینے اور اٹھنے بئٹھنے کے اطوار، سب یگانہ ہو جاتے ہیں۔

یہی رنگ انگلستان کے جلسہ کا ہے۔ سن چوراسی سے تو پاکستان میں جلسہ کروانا جرم ٹھہرا – مرشد ہمارے لند ں آ کر بس گئے اور اپنے ساتھ جلسہ کی رونقیں بھی لیتے آئے۔ 30 سال ہونے کو آئے – اب پرطانیہ کا جلسہ بھی شائید وہی ماحول بناتا ہے جو ربوہ میں دیکھا جاتا ہو گا۔

Twitter - 0147

جہاں پہلے بیس پچیس قوموں کی حاضری ہوتی تھی اب اس سے کئی گنا زیادہ ہے – کہاں پرالی اور خیموں میں شب باشی ہوتی تھی – اب اس سے بہتر مستقر مہیا ہیں – معلوم نہیں کہ ان جلسوں میں کتنی بیعتیں وصول کی جاتی تھیں، اب تو لاکھوں روحیں خلافت حقہ کی غلامی کا وعدہ کرتی ہیں –

Twitter - 0022

اور کیا کہنے اس ماحول کے – وہی رکوع و سجود سے معطر شب و روز، وصل یار کے دیوانہ کیا بچے کیا بوڑھے، کیا زن و مرد – سب ہی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب رہتے ہیں – پھر ان کا مرشد جب بولتا ہے تو حریصوں کی طرح ایک ایک لفظ گویا گھول کر پیتے ہیں – کئیوں کو دیکھا کہ نصیحت کی بات ہو تو اسی وقت زیر لب دھراتے ہیں کہ یاد رہے۔ انعامات کا ذکر ہو تو شکر الحمدللہ کا ورد کرتے ہیں – نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہیں۔

اور مہمانان کا بھی حال سن لیں – جو بھی غیر آتا ہے – دیکھتاہی رہ جاتا ہے۔ اظہار خیال کرتے ہوئے کئی ضبط کا دامن چھوڑ کر دل کی بات کہ جاتے ہیں – کچھ تو پکے پھلوں کی مانند ظیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ بیعت کا وقت آتا ہے تو وہیں لڑی میں خود کو پرو کر عہدوفا دہرا بیٹھتے ہیں۔

پھر جلسہ کی رونق وہ بزرگان ہیں جو سالوں کی مشقت اور جہاد کTwitter - 0073ے بعد خمیدہ کمر، سن یاس میں بھی اپنے موجود ہونے کا احساس دلاتے ہیں –

پھر تعارف کیسے ہوتے ہیں۔ یہ صاحب افریقہ کے جنگلوں میں جوانی گزار آئے – یہ پاکستان کی جیلوں میں اتنا عرصہ محبوس رہے – ان صاحب کو فلاں جگہ معاندیں نے پیٹا تھا – ان محترمہ کا وہ عزیز لاھور میں مارڈالا گیا ۔ ان کے دادا شہید تھے تو ان کے نانا – اور یہ تو فلاں صحابی کی نسل سے ہیں- ہمارے یاں تعارف شہیدوں اور صحابیوں اور مبلغین کے توسط سے ہوتے ہیں۔ قوم اور نسل تو محض رسم کے طور پر ہی رہ گئے ہیں۔

شاموں کا کیا پوچھتے ہو – خلیفۃ المسیح وفود سے ملاقاتیں کر تے ہیں – ایسے ایسے مہمان ملنے کو آتے ہیں کہ بڑے بڑے دنیا شناس بھی حیران ہوتے ہیں – یہ قادیان سے اٹھنے والی آواز اب گوئٹےمالا بھی جا پہنچی – یہ صاحب قزاقستان سے آئے ہیں – ان سے ملئے یہ حرم شریف کے معزز عرب ہیں اور خطرات کے باوجود ملنے کو آئے ہیں – وہ دیکھیں افریقہ کے اشانتی قبیلہ کے بادشاہ بھی آتے ہیں – اور فلاں ملک کے سفیر بھی- اور یہ ایک معزز دانشور ہیں – ایک اعلٰی اخبار کے صحافی بھی انٹرویو کو پہنچے ہیں-

ہر کوئی چاہتا ہے کہ خلیفۃالمسیح اس کو دنیا کے مسائل کا حل بتائیں – بہت سے لوگ حل سن کر سر ہلاتے ہیں- آسان تو بہت ہے حل -بس خودغرضی مارنی ہو گی اور کامل انصاف قائم کرنا ہوگا- لیکن کم ہی ہیں جو اس حل کو آزمانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

بالآخر یہ امام مہدی کا ہی کام ہے کہ وہ دنیا کو انصاف سے بھر دے گا ۔ اور اس کے مددگار سعید فطرت لوگ فوج در فوج آتے ہیں – ہر قوم سے ہر نسل سے آتے ہیں- وہ وقت دور نہیں جب یہ ہدائت یافتہ قوم دنیا کو فتح کر لے گی- انشاْاللہ

Twitter - 0042

https://storify.com/JalsaUK/jalsauk-2015

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s