حالات حاضرہ

جزیرہ امن برائے مہاجرین شام و عراق

مصری ارب پتی صاحب نے بحیرہ روم کا جزیرہ امن خرید کر شامی مہاجرین کو کیا دیا، تعمیراتی کمپنیوں کی چاندی ہو گئی –

 

شامی مہاجرین کا جم غفیر یورپ کی دھلیز پر۔

کورین، آسٹریلوی اور سویڈش فرموں نے فوری ٹینڈر جمع کروائے – اقوام متحدہ کی خاص کمیٹی برائے شامی مہاجرین نے ٹھیکے جاری کر دئیے – اماراتی اور سعودی اور قطری صاحبان ثروت نے دل کھول کر چندے دیئے- مہینوں میں ایک دس مربع کلومیٹر بے آباد جزیرے پر، جس پر کبھی سکندر اعظم کی بحری فوج مشقیں کرتی تھیں، پچاس منزلہ عمارتیں کھڑی کر دی گئیں۔ پہلے کوئی بھلا سا نام ہوتا ہو گا – ملالہ یوسفزئی نے نام جزیرہ امن تجویز کیا۔

 

آسٹریلیا کی وزارت داخلہ نے اپنے خاص ماہرین روانہ کئے تا کہ جزیرہ کے گرد باڑ لگا کر اس کو محفوظ بنایا جاسکے۔ ان کو ان معاملات میں خاص تجربہ حاصل ہے۔

 

مہاجرین کو یونان اور ترکی کے راستے بڑی کشتیوں پر لاد کر یہاں اتارا گیا۔ ایک طرف یونانی بحریہ نے یورپی یونین کا ناکہ لگایا اور دوسرے طرف ترکوں نے – کہ اب ان میں سے کوئی ربڑ کی کشتی پر سوار ہو کر یورپ کا رخ نہ کرے۔

 

ایک لاکھ کی آبادی ہونے میں دیر نہیں لگی۔ میڈیساں سان فرنٹیر کے ہمدردوں نے ہسپتال کھولا – یورپی یونین نے اسکول بنا دئیے – مارک زکر برگ نے انٹرنیٹ کی لائینیں لگوا دیں اور بل گیٹس صاحب نے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کی بھرمار کر دی – ہر ماہ جہاز بھر کر خوراک اور پینے کا پانی آ جاتا اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر نکال دیئے جاتے۔ بس میڈیا کی توجہ یہاں چند ہفتے بعد ختم ہوئی۔ اور واپس داعش اور بشار اسد اور ان کے مخالفین کی خانہ جنگی پر مرکوز ہو گئی۔

 

پھر پتہ چلا کہ اب آنے والے مہاجرین کی تعداد کم ہوتی ہوتی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اب شام اور عراق کی خانہ جنگی میں گھرے سویلین اپنے قصبوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ ترکی سے کئی واپس ہو چلے کیونکہ جزیرہ امن میں کوئی جانے کو تیار نہیں۔ کہتے ہیں کہ جگہ نہیں کیوں خوامخواہ جا کر اوروں کو بھی تنگ کریں۔

 

ماہ و سال گزرتے دیر نہیں لگتی – روس اور امریکہ کی نورا کشتی ابھی تک جاری تھی – داعش کے لونڈے بھی ٹس سے مس نہ ہوئے کیونکہ اصل جھگڑا تو بشار اسد کے ہونے یا نہ ہونے کا تھا۔ عوام مرتی ہے تو مرتی رہے۔

 

پھر میڈیا والوں کو پتا چلہ کہ جزیرہ امن کے کوڑے والے جہازوں میں سے بھگوڑے مہاجرین ہر ماہ نکلتے ہیں۔ ان کو پھر نہلا دھلا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

 

بی بی سی کے پینوراما پروگرام نے تفصیلی رپورٹ تیار کی – معلوم ہوا کہ سعودی، اماراتی اور قطری کرمفرماؤں نے مہاجروں کی روحانی بہبود کے لئے ثقہ علماء روانہ کئے تھے۔ جزیرے پر ماشاءاللہ سب سے اعلی عمارت جامع مسجد کی تھی -پھر کیا ہوا – پہلے تو چند گنے چنے مسیحی الگ کئے گئے – اور پھر شیعہ – کرد بھی اپنی بلڈنگ میں بند ہو گئے کہ عربوں سے ان کا کیا لینا دینا?

 

اگرچہ کی اکثر شامی پڑھے لکھے سمجھدار لوگ تھے لیکن انکے جوان بچے ان کے ہاتھ سے نکل گئے- ٹوئیٹر اور فیس بک پر باہر کی دنیا کی خبریں اور مسجد میں امام صاحب کے ڈراوے -کچھ نے تو اپنے حلئے بدلے اور گلیوں میں کھڑے ہو کر اسلامی اخلاق کی تبلیغ شروع کر دی۔ اپنی عورتوں کو بھی سنا دیتے اور دوسروں کے بچوں کو بھی مار پیٹ شروع کر دی۔ سوشل ورکر بیچارے بھی بے بس کہ کیا کریں – پولیس کا نظام بھی اقوام متحدہ کی طرح بے بس سمجھیں۔

 

کردوں نے ہنگامہ کر دیا کہ ترک ظالم داعش کے بہانے ان کے آبائی گھروں کو تہ وبالا نہ کریں – اسی دن شیعہ مظاہرین نے آہ و زاری کی کہ ان کے سنی ہمسائے ان پر تہمتیں لگاتے ہیں اور ان کے عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں –

 

صوفی عقائد کے سنی بھی بڑی تعداد میں آئے ہیں – ان کو بھی جامع مسجد کے امام کی طرف سے ملامتوں کا سامنا ہے۔ بدعتی کافر – مشرک – اسلام کے دشمن – ایک محفل سماع میں کچھ جوشیلوں نے آکر گالی گلوچ کر دی۔ صدر محفل ایک صوفی سلسلہ کے فرزند تھے۔ ان کی پٹائی بھی ہوئی۔

 

پھر سلفیوں کا ایک گروہ بھی قایم ہے۔ یہ صاحبان بھی تکفیر کے شیدائی ہیں۔ اور ایسے ویسے کہ امام مسجد بھی پکا کافر –

 

سلفیوں کی دوسری ورائٹی البتہ امام صاحب سے کچھ متفق لگتی ہے۔ شیعہ دشمنی میں شیر و شکر ہو گئے ہیں۔

 

بعض زود فہموں نے اس زہر کو پہلے ہی بھانپ کر مسجد میں جمہوری طرز کی کمیٹی بنا کر متشدد نظریات کی بیخ کنی کرنا چاہی لیکن امداد رکنے کا خدشہ دیکھ کر انہوں نے بھی چپ سادھ لی۔ اور رہی سہی کسر روز روز کے جھگڑوں نے پوری کر دی۔ معتدل لوگوں کو دھریہ اور سیکیولر جیسی گالیاں دے کر خاموش کروا دیا۔

 

پھر معلوم ہوا کہ جزیرہ امن پر بلوہ ہونے کو ہے۔ شیعہ مہاجرین نے عید غدیر پر تقریب کی جس پر چند سنی جوان برہم ہوئے۔ مسجد میں جمعہ کے روز ایران اور روافض کے خلاف خطبہ ہوا۔ یہود و ںصاریٰ بھی رگید دئے گئے – اس شام ایک اطالوی کیتھولک سوشل ورکر کی گردن سے صلیب نوچ لی گئی اور اگلے روز راشن میں ملنے والی خوراک کے خلاف مظاہرہ کیا گیا –

 

شامی مہاجرین میں سے ایک سنچیدہ مزاج اور معتدل گروہ کے اراکین نے اقوام متحدہ کے ڈائرکٹر سے ملاقات کر کے جزیرہ امن کے ختم کرنے کی استدعا کی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ جوانوں نے ایک خفیہ تنظیم بنا رکھی ہے جسے وہ دولت اسلامیہ فی الجزیرۃ المہاجرون کہتے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ جلد ہی وہ غدر برپا کر کے اس جزیرہ کو داعش کی خلافت میں شامل کر لیں۔

 

کئی ہزار کوس دور امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے خیر خواہ سیاستدان یہ حساب لگا رہے ہیں کہ کتنا عرصہ مزید یہ نورا کشتی جاری رہ سکتی ہے – فی کلسٹر بم اور ڈرون منافع بھی بہت ہے لیکن کہیں کوئی نگوڑا ایٹم بم نہ پھوڑ دے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s