متفرق

خوش اخلاقی بھی کفر ہے –

 

کچھ عرصہ سے عالمی مجلس ختم نبوت کے پرچوں میں یہ گرما گرم بحث چل رہی ہے کہ مصباح الحق یوسفی صاحب، جو دعوٰہ اکیڈمی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، قادیانی نواز ہیں لہٰذہ ان کی حرکات کا نوٹس لیا جائے اور مناسب کاروائی کی جائے۔

 

دعوہ اکیڈمی

مجلس کے سرکردہ رہنما اللہ وسایا صاحب نے اس سلسلہ میں خوب شور مچایا – بڑے بڑے مذھبی لیڈروں کو خطوط لکھ کر توجہ دلائی کہ یوسفی صاحب نے طلباء کو چناب نگر کا دورہ کروایا اور جب ان کو اس فاش غلطی کی طرف توجہ دلوائی گئی تو موصوف نے ناصحین کو کھری کھری سنا دیں۔ اور ساتھ ساتھ قادیانی کفار کے اخلاق کی تعریف بھی کر دی۔

معاملہ مزید بڑھا اور مولاناؤں کی خط و کتابت خوب رواں ہو گئی۔ لیاقت بلوچ صاحب نے بھی جماعت اسلامی کی روائت قائم رکھتے ہوئے اس قادیانیت نواز عالم کی خبر لینے کا وعدہ کیا۔ اور جمیعت علماء پاکستان نے بھی خط لکھ کر ختم نبوت کے ساتھ یکجھتی کا عہد و پیمان کیا۔

اس پر یوسفی صاحب نے بھی تلملا کر اللہ وسایا صاحب کو اپنی وضاحت بھیجی۔ یہ خط وسایا صاحب نے رسالہ لولاک میں چھاپ دیا ہے۔ اپنی جانب سے انہوں نے یوسفی صاحب کے اعتراف جرم کے زعم میں چھاپا ہے۔ لیکن خط پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یوسفی صاحب تو محض تقابل ادیان کے سلسلہ میں ایک کوشش کر رہے تھے کہ ان کے طلباء، جو اکثر سند یافتہ مولوی ہوتے ہیں، ان کو دعوہ اکیڈمی کے کورس کی صحیح روح کے مطابق تمام ادیان، بشمول ادیان باطلہ کا تقبلی جائزہ کرایا جائے۔ چناب نگر چونکہ قادیانی جماعت کا مرکز ہے، اسلئے وہاں جانا بھی مناسب سمجھا گیا۔ اور وہاں بھی، اکثر وقت ختم نبوت کی مسجد میں گزرا- یوسفی صاحب نے اس خط میں اپنے پکے سرکاری مسلمان ہونے کی یقین دھانی بھی کروائی اور عقیدہ ختم نبوت کی اثاثی حیثیت کا کلمہ بھی گردانا۔ لیکن ان کی تحریر میں مجھے کوئی شائیبہ بھی نہیں ہوا کہ موصوف احمدیوں سے کو عقیدت رکھتے ہیں۔

ہاں اتنا ضرور معلوم ہوا کی موصوف اچھے اخلاق کے مالک ہیں اور اعتقادی اختلافات کے باوجود ایک بے نصیب ملاں کی طرح بدزبان نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ بات چیت نہ ہو تو معاشرہ میں اصلاح کیسے ہو – دعوت کیونکر ہو۔ اور تقابل ادیان کیا اپنے فرقہ کی کتب پڑھ کر ہی سیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن وسایا صاحب کے دماغ میں عقل نہیں بستی۔ اللہ نے ایک بہیم سا ‘وسا‘ کر مسلمانوں پر بطور عذاب وارد کر دیا ہے۔ ان کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ مدرسہ حقانیہ اسلام آباد میں اجلاس بلوایا گیا۔ پتہ چلا کہ اسلامی یونیورسٹی کے ڈایرکٹر صاحب نے غور کا بعد اور اپنے خدا کا فرمان سن کر یوسفی صاحب کو اس کورس سے ہی علیحدہ کر دیا ہے۔ اور ان کے خدا سعودی گورنمنٹ کے کوئی عالم ہیں۔ ان کی ہدائت آئے تو مجال ہے کہ بندہ انکار کرے۔

بیناوں میں اندھے راجے

خیر اس نیک عمل پر ملاں مبارک وصول کر رہے ہیں۔ ان کی صفوں میں سے ایک خوش اخلاق غلطی سے کھڑا ہو گیا تھا – یہ کون گوارا کر سکتا ہے کہ سچا مسلمان ، عاشق رسول ہو، سرکاری طور پر قبول یافتہ ہو اورخوش خلق ہو۔ لا حول ولا قوۃ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s