متفرق · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

علامہ عمار خان ناصرکو جواب

ایک معروف شیعہ بلاگ  Let us build Pakistan میں  علامہ عمار خان کی ایک تحریر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کو بطور ہتھیار مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے پہلے استعمال کیا اور اس کے جواب میں پادریوں اور ہندو پنڈتوں نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے۔

یہ الزام پڑھ کر حیرت ہوئی- شائد عمار صاحب کو جماعت احمدیہ کی تاریخ کا علم نہیں – یا اگر ہے تو ایسا محدود جیسا کہ ایک عام لکیر کے فقیر مولوی سے توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن دیکھا تو معلوم ہوا کہ موصوف روشن خیال طبقہ میں اپنی رواداری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ تکفیر سے نفرت کرتے ہیں اور بھائی چارے کا سبق دیتے ہیں۔ ایک تحریر میں تو آپ باقاعدہ تحریک ختم نبوت کے کھڑپینچوں سے احمدیوں کے بائیکاٹ کے بارہ میں اختلاف کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ پھر یہ لاعلمی کیسی?

چلیں کچھ میں مدد کر دیتا ہوں۔ کچھ امید ہے کہ عمار صاحب مطالعہ کر لیں گے۔

انیسویں صدی کے وسط میں جب مسیحی مشنریوں نے ہندوستان کی جانب نظر کی تو انہیں ایک مہربان حکومت اور فرقوں میں بٹی ہوئی ہندو اور مسلم اقوام کی صورت میں ایک شاندار فتح کے خواب نظر آنے لگے۔

لیکن چرچ سوسائیٹی کی مطبوعہ ڈارئریاں اور پادریوں کے احوال پتہ دیتے ہیں کہ انہیں جہاں ابتدائی کامیابیاں نصیب ہوئیں، وہیں انہیں پراپیگینڈے کے بل پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو اپنے مذہب سے متنفر کرنے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی۔

اس سلسلہ میں اعتراضات  یورپی مناد اور مناظر عام جلسوں اور مباحثوں میں سناتے رہتے تھے۔ ان کا جواب دینے کے لئے مسلمانوں میں  رحمت اللہ کیرانوی صاحب آگے بڑھے – اگرچہ کہ ان کی جوابی کاروائی سے مسلمان اشرافیہ کی کچھ ڈھارس تو بندھی لیکن کم علم اور غریب مسلمانوں میں ارتداد کی رو چل پڑی جس کو روکنا محال ہو گیا۔

پھر وہ دور بھی آیا کہ اپنی ابتدائی کامیابیوں کے گھمنڈ میں انہیں پادریوں نے اپنے لٹریچر میں باقاعدگی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو بگاڑ کر غلیظ الزامات شامل کرنے شروع کر دئیے۔ آریہ سماجی پنڈت دیانند سرسوتی نے بھی اس غلاظت میں حصہ ڈالا۔ یعنی 1857 کے غدر کے بعد شکست خوردہ مسلمان ہر طرف سے آزار پاتے تھے۔ اپنے علما کو دیکھتے تو وہاں بھی خاموشی اور شرمندگی دکھائی دیتی – اشرافیہ کو دیکھتے تو وہاں بھی مذہب سے لاعلمی اور خود غرضی نظر آتی۔حکومت وقت بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتی اور ہندو ہمسائے بھی ان پر ٹھٹھے کرتے- پادری پنجاب اور شمالی ریاستوں اور بنگال کے مسلم اکثریتی گلی کوچوں میں ببانگ دھل فتح کے اعلان کرتے پھرتے تھے۔

اس موقع پر قادیان سے ایک تن تنہا آواز اٹھی، اور چند سالوں میں ہی اس غیور پہلوان نے تمام اسلام مخالف پراپیگینڈے کا قلع قمع کر دیا۔ حضرت مرزا غلام احمد، مسیح موعود علیہ السلام نے ان تمام شبہات کو رفع فرمایا جو ان کتب میں اٹھائے گئے تھے اور اسلام کی بالادستی ثابت کی۔

ساتھ ہی ان گھٹیا اعتراضات کو بھی رد فرمایا جو عیسائی اور ہندو مصنفوں نے شائع کئے تھے۔ کس موقع پر نرمی کی ضرورت تھی وہاں پر نرمی سے بات سمجھائی – جہاں بازاری ذہنیت کو سبق سکھانا تھا، وہاں ان کے مناسب حال سخت جواب دئیے لیکن کبھی بھی حقائق سے ہٹ کر بات بیان نہیں فرمائی۔

عمار صاحب  جدید فکر کے شیدائی ہیں اور جاوید احمدغامدی صاحب سے منسلک ہیں۔ لیکن دوسری طرف موصوف اپنے آباو اجداد کے دیوبندی مسلک کو بھی تعارف کا حصہ رکھتے ہیں۔

ان کے اس بلاگ کے مطابق گاندھی جی نے  احمدی مناظرین کو توہین مذہب کے فتنے کو شروع کرنے کا ملزم ٹھہرایا تھا۔ اس کا حوالہ بھی پیش کرتے ہیں جو 1942 کے ایک اخبار کا ہے۔

لیکن علامہ صاحب کو اپنے دیوبندی ماضی سے بھی کچھ پڑھ لینا چاہیئے تھا۔ 1942 سے پہلے کی تاریخ مسلم دشمن قوتوں کی گھٹیا حرکتوں سے بھری پڑی ہے۔ خود علمائے دیوبند نے بھی شدھی اور سنگھٹن کے پر فتن دور میں جماعت احمدیہ کے مجاہد علما کے کردار کو سراھا تھا۔ اور اس سے پہلے کے ادوار میں اسلام کے دفاع میں جماعت احمدیہ کے بانی، حضرت مرزا غلام احمد کی انتھک کاوشوں کو سراہا تھا۔

لیکن بلاگ  لکھتے ہوئے موصوف نے انصاف کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقایق چھپا کر ایک نہایت معاندانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔

علامہ صاحب یقینا اس بات سے بے خبر معلوم ہوتے ہیں کہ پادری فینڈر کی میزان الحق مطبوعہ 1866 میں یہ لکھا تھا کہ پیغمبر اسلام عورتوں کے رسیا تھے? (نعوذباللہ)

ان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ گاندھی جی ابھی چند سال کے بچے ہی تھے جب سوامی دیانند سرسوتی نے ستیارتھ پرکاش مطبوعہ 1875 میں مسلمانوں کے مذہب کو پراگندہ اور ان کے نبی کو جعلساز قرار دیا۔

ان صاحب کو یہ بھی اطلاع دیتے چلیں کہ پاردری عماد الدین، جو کبھی مولوی عمادالدین ہوتے تھے، نے درجنوں کتب میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔

اور بھی کئی کتب اس دور میں شائع ہوئیں جو اسلامیان ہند کے لئے سخت تکلیف دہ اور معاشرے میں فساد کا موجب ہو سکتی تھیں۔ ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں (بحوالہ الا سلام ڈاٹ آرگ)

(۱)دافع البہتان مصنفہ پادری رانکلین ۔ (۲) رسالہ مسیح الدجال مصنفہ ماسٹر رام چندر عیسائی۔ (۳) سیرت المسیح والمحمد مصنفہ پادری ٹھاکر داس ۔ (۴) اندرونہ بائیبل مصنفہ ڈپٹی عبداللہ آتھم۔ (۵) کتاب محمد کی تواریخ کا اجمال ۔ مصنفہ پادری ولیم ۔ (۶) ریویو براہین احمدیہ مصنفہ پادری ٹھاکر داس ۔ (۷)سوانح عمری محمد صاحب ۔ مصنفہ اورنگ واشنگٹن ۔ (۸)اخبار نور افشاں ۔ امریکن مشن پریس لودھیانہ ۔ (۹)تفتیش الاسلام مصنفہ پادری راجرس ۔ (۱۰)نبی معصوم ۔ مطبوعہ امریکن پریس لودھیانہ ۔ وغیرہ وغیرہ

یہ سب باتیں پہلے وقوع پذیر ہوئیں۔ جماعت احمدیہ کے جواب بعد میں آئے۔ اور سب جواب عقلی اور نقلی دلائل پر مبنی تھے۔ ان میں مسیحی لٹریچر کے بر عکس دشنام طرازی اور تہمت بازی کا کوئی شائبہ بھی نہ تھا۔  ہاں، اظہار حق ضرور تھا، جو اس سے قبل کے اہل سنت علما نے بھی کیا۔

رحمت اللہ  صاحب کیرانوی نے بائیبل کے حوالہ جات سے ازالۃالاوہام میں لکھا کہ یسوع کو جادوگر کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے معجزات میں کوئی ایسا کمال معلوم نہیں ہوتا۔ اس کتاب میں، جو تمام اہل سنت مکاتب فکر میں ریفرنس کا درجہ رکھتی ہے، بہت سے الزامی جواب ہیں جن کو اگر عمار صاحب کی سوچ پر پرکھا جائے تو لگتا ہے کہ بر صغیر میں اصل فتنہ کی بنیاد بیچارے کیرانوی صاحب نے رکھی۔

جہاں تک رہی گاندھی جی کی بات، تو ان کے ایک دوست آریہ سماج کے لیڈر سوامی شردھانند جو دیانند کے جانشین تھے، کی شدھی اور سنگھٹن تحریک سے شروع کرتے ہیں۔ سوامی جی نے مسلمانوں کو ‘شدھ‘ ہندو بنانے کی تحریک کی اور سن 1920 کی دھائی میں سارے ملک میں فتنہ بپا ہو گیا۔ جماعت احمدیہ نے اپنے مبلغ بھیج کر اس تحریک کے اثر کو زائل کر دیا۔ دیگر مسلمان علما بھی اپنے اپنے طور پر کوششیں کرتے رہے۔ لیکن سوامی جی کو ایک جاہل نے قتل کر دیا۔ قاتل مسلمان تھا، احمدی نہیں تھا۔ اس کے رد عمل میں آریوں نے گالی گلوچ کا بازار گرم کر دیا۔ اور توہین رسالت کی شرمناک مثالیں رقم کیں۔ ورتمان اور رنگیلا رسول اسی دور کی پیداوار ہیں۔ جواب میں بعض بےوقوف غیر احمدی مسلمانوں نے بھی پمفلٹ بازی کی۔

امام جماعت احمدیہ نے سیرت النبی کے جلسے منعقد کرنے کی تحریک ضرور کی تاکہ ان گالیوں کا جواب دیا جا سکے ۔ کہیں بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے نفرت آمیز لٹریچر یا تقریر نہیں پھیلائی گئی۔ ہاں البتہ غیر احمدیوں کی طرف سے ایسی باتیں ضرور ہوئیں۔

امام جماعت احمدیہ نے تو کھلے الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ احمدیوں کے نزدیک شری رامچندر جی اور مہاراج کرشن جی نبی ہیں اور ہندو مسلم فسادات کو صلح صفائی سے حل کرنا دونوں اقوام کی ذمہ داری ہے۔ یہاں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ احمدی مسلمان کبھی بھی شاتم رسول لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے۔

گاندھی جی کو اگر کوئی بات بیس سال بعد یاد آئی بھی تو انہوں نے بڑی آسانی سے احمدیوں کو الزام دے دیا اور اپنے حمائتی احراری دیوبندیوں کو مکھن سے بال کی طرح نکال لیا۔ یہ ہوتی ہے سیاست!

واپس آتے ہیں علامہ صاحب کے بلاگ کی طرف۔

ان کے مطابق گستاخ رسول پادریوں اور پنڈتوں کو سخت الفاظ میں جواب دینا گویا توہین مذہب کے زمرہ میں آتا ہے۔ حالانکہ عقل سے کام لیں تو سمجھ آئے گی کہ اس قسم کے فتنہ پروروں کو جاہل، سخت دل، بےنصیب، چور کہنا نہ صرف مناسب ہے بلکہ بالکل حقیقت حال ہے۔

اب کسی شاتم رسول کو علامہ صاحب دوست سمجھیں تو یہ ان کے ایمان کا معاملہ ہے۔ احمدی مسلمان کی غیرت ایسا گوارا نہیں کرتی۔

اور ویسے بھی ایسے القابات کیسی بھی نیت سے کہے جائیں توہین مذہب نہیں کہے جا سکتے- ان کو ذاتی اہانت ہی سمجھا جاتا ہے۔ تو اس کے لئے انگریز عدالتوں میں جا کر ہرجانے کا دعویٰ کیا جا سکتا تھا – اور ایسے واقعات بھی تاریخ میں ملتے ہیں۔

آپ اپنے بلاگ میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ، خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی تکفیر کی۔ یہ بھی ایک الزام ہے چس کی کوئی حقیقت نہیں۔ تکفیر کرنا جماعت احمدیہ کا شیوہ نہیں۔ جو خود کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے۔ ہاں جو امام وقت کو نہ مانے وہ اپنے ایمان میں ناقص ہے اور اللہ کے حضور جوابدہ۔

اور مسلمانوں کے بیچ کے معاملات میں توہین مذہب کا پہلو کہاں سے آیا? یہاں تو ہر کوئی دوسرے کو کافر کہتا ہے۔ ان پر بھی کوئی تبصرہ فرمایئے۔

ان کو کیا کہیں جو نہ صرف احمدیوں کو کافر کہتے ہیں بلکہ اصرار کرتے ہیں کہ احمدی بھی خود کو غیرمسلم کہیں اور سمجھیں۔ دیوبند تحریک میں جہاں مولانا آزاد، عبیداللہ سندھی، عبدالماجد دریاآبادی جیسے روشن خیال وجود گزرے ہیں وہاں انورشاہ کشمیری، عطااللہ شاہ بخاری  اور دیگر احراریوں جیسے تکفیری بھی بہت ہیں۔

خلاصہ یہ کہ علامہ عمار خان  ناصر نے بہت لاعلمی اور بغض کا ثبوت دیا ہے۔

مجھے اس ویب سائٹ کے مقاصد سے غرض نہیں، لیکن جو بھی بین المذاہب ہم آہنگی اور ظلم کے خلاف بولے، میری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ اس بلاگ میں موجود مسخ شدہ تاریخ کو فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علامہ صاحب کو یہ گوارا نہیں تو کم از کم ویب سائٹ انتظامیہ نیک نیتی سے کام لے اور اس تحریر پر نوٹ لکھ کر وضاحت پیش کرے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s