1974 · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

حمزہ علی عباسی کی سادگی

sinbad_the_sailor

مولانا پیر تسمہ پا ٴ ۔ پاکستان کی گردن سے پیوستہ

 

حمزہ علی عباسی نے وہی فاش غلطی دھرائی جو ان سے پہلے بھی بہت سے پاکستانیوں نے آزما کر کانوں کو ہاتھ لگایا۔

کئی بار ایسا ہوتے دیکھا ہے کہ ایک صاحب بڑے اھتمام سے انسانی حقوق، آزادئ مذھب اور اظہار خیال کے پیرائے میں احمدیوں کی حمایت میں بیان دے کر ابھی بیٹھا ہی چاہتے ہیں کہ فتووں کی بوچھاڑ سے سہم کر کرسی کے پیچھے دبک جاتے ہیں۔

’یہ کون ہوتا ہے اسلام کے دشمنوں کی حمائت کرنے والا؟‘
’قادیانی ہو گا‘۔
’اگر توبہ نہ کرے تو پھانسی لگا کر واصل جہنم کرو!‘
’مرتد!‘
’زندیق‘!

انگلستان میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن صاحب نے گذشتہ برس احمدیہ جلسہ سالانہ میں تقریر کرتے ہوئے اپنے سیاسی مرشد بھٹو کے سن چوہتر کے سیاسی فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔ چند روز بعد اخبارات میں ان کا ندامت بھرا بیان پڑھنے کو ملا جس میں موصوف نے ختم نبوت پر مکمل اور غیر متزلزل ایمان کی یقین دھانی کروائی۔

شیری رحمان صاحبہ نے اس سال بھٹو صاحب کی برسی کے موقع پر اخبار کو ایک کالم لکھ بھیجا ۔ اس کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے اخبار نے ازراہ ثواب بھٹو مرحوم کے تاریخی اسلامی کارنامہ کو بھی اس کالم کی زینت بنا ڈالا۔ محترمہ کو معلوم ہوا تو ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ ان کے لبرل خیالات سے کون واقف نہیں؟ سوچا کہ اس سے بہتر موقع اور کیا ہوگا اس اخبار کی بے ایمانی اور بد دیانتی کو بے نقاب کرنے کا۔ اور لگے ہاتھوں دوسری آیئنی ترمیم کی مذمت جو غالباً بھولے سے رہ گئی تھی وہ بھی ہو جائے گی۔ لیکن شیری صاحبہ نے اخبار کو سہو کتابت کی لنگوٹ عنائت فرمائی اور بات آئی گئی ہو گئی۔

عمران خان صاحب تحریک انصاف والے، حمزہ عباسی صاحب کے خوب واقف ہیں۔ انہوں نے بھی عام انتخابات کے دنوں میں قادیانی عقائد سے بھرپور بیزاری کا اظہار فرما کر ثواب دارین حاصل کیا۔ کچھ ماہ بعد دھرنوں کے دوران بھی عوام کو اپنے سو فیصد شدھ عقائد کا یقین دلاتے رھے۔

ہم سب کے محبوب مستنصر حسین تارڑ صاحب بھی ربوہ کے ہائیکنگ کلب سے مراسم کے جرم میں پکڑے گئے۔ انہوں نے بھی آیندہ نہ جانے کا وعدہ کیا ہے۔ 

حمزہ صاحب کا ابتدائی سوال بالکل موزوں تھا ۔

’کیا ریاست کواحمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا حق ہے؟‘

جواب دیتے ہوئے ان کے سامنے بیٹھے ہوئے علما کروٹیں بدلتے معلوم ہوئے۔ کرسی سے اٹھ کر اس کی اوٹ میں پناہ لینے کے منصوبے بناتے یا جھوٹ بولتے؟ گھر والوں کو فون کر کے نقل مکانی کا کہتے یا داڑھی منڈا کر برقع اوڑھے کسی حلوے کی دیگ میں روپوش ہو جاتے؟ دونوں نے گول مول جواب دے کر جان خلاصی کروائی۔

عباسی صاحب موصوف کو البتہ فتووں کی یلغار اٹھتی نظر نہیں آئی۔ اس سادگی کے کیا کہنے۔

محترم، ریاست کو کسی کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ جب چوھتر میں ایک لبرل سیاستدان کی اکثیرتی لبرل حکومت نے ملا کے آگے گھٹنے ٹیکنے کا فیصلہ کیا، تو ملاں نے ریاست کو سند باد جہازی کی گردن سمجھا اور اس کے کندھے پر پیر تسمہ پا کی طرح ایسے شوق سے شکنجہ کس ہوئے کہ اب وہ ریاست کا جزوبدن ہی سمجھے جاتے ہیں۔

اگست ۱۹۷۴ میں پارلیمنٹ کے بند کمرہ کے اجلاس میں احمدیہ وفد نے اسی بنیادی نکتہ پر یحییٰ بختیار اور ان کی سوالیہ کمیٹی کو لاجواب کیا تھا ۔ ریاست اگر کوئی گورا صاحب کے جمخانہ کلب کی قبیل کی چیز ہے تو مان لیتے ہیں کہ اس میں کم درجہ کے کسانوں کا، عورتوں کا، سیاہ فاموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ یا یہ کہ یہاں کھانے کی میز پر ٹائی کوٹ ہی قابل قبول لباس ہے ۔

بھٹو صاحب نے پاکستان کو ایک سنی العقیدہ جمخانہ بنا کر چھوڑ دیا ۔ کلیدی عہدے اب صرف ریاست کے منظور نظر مسلمان ہی حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس وقت سے محکموں کے ڈائرکٹر اور فوج کے جرنیل اور کمانڈنگ افسران، وزرا اور ان کے چیلے، سب ملی بھگت سے احمدیوں کی حق تلفی میں مشغول ہیں۔ پھر اگر شکایت کریں تو کہتے ہیں کہ اسلام دشمنی کی یہی سزا ہونی چاہیے۔ پاکستان میں اسوقت احمدی مسلمان پر ظلم ایصال ثواب کی خاطر کیا جاتا ہے۔

ضیاالحق نے احمدیوں پر قران پڑھنا اور آذان دینا بند کر دیا ۔ اسلام وعلیکم اورانشااللہ کہنے پر قید ہے اور جرمانہ بھی۔ اور اگر کوئی سرکاری مسلمان زیادہ برا منا جائے تو توہین رسالت کا پرچہ کٹتے دیر نہیں لگتی۔

اس ماحول میں حمزہ عباسی صاحب کا سوال اٹھانا بر محل ہے ۔ لیکن یہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والی بات ہے۔ پاکستان کا لبرل طبقہ بھی چوھوں کی مجلس عاملہ ہے۔

یہاں مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی اور احمدیوں کے عقائید کی تحقیق کرنا بھی ناقابل معافی گناہ ہے۔ بند کمرہ کی کاروائی میں احمدیہ نقطہ نظر ایک محضرنامہ کی صورت میں پیش کیا گیا تھا۔ وہ بھی پاکستانی قوم کے پہنچ سے دور ہے۔ احمدی ویب سائیٹس بلاک ہیں اور رسائل و جرائد پر پابندیاں ہیں۔ آپ تو ایک احمدی نمائندہ بھی اپنے پروگرام میں لانے سے عاجز ہیں۔

اپنی وضاحتی ویڈیو میں عباسی صاحب کچھ سہمے سہمے معلوم ہوئے۔ لگتا ہے ملک سے ہجرت کا ارادہ نہیں ہے۔ اللہ ان کو شر پسندوں سے محفوظ رکھے۔

اب سوال ریاست کی نا جائز دخل اندازی سے تنزلی پا کر احمدیوں کی پاکستانیت پر آ گیا ہے۔

یہ کچھ قابل برداشت موضوع ہے۔ کچھ احمدی ایسے بھی ہیں جن کی صلاحیتوں کی روشنی میں لبرل چوہوں کے سائے بھی لمبے نظر آتے ہیں ۔

اب پروفیسر عبدالسلام ، سر ظفر اللہ، عبید اللہ علیم ، قلندر مومند ،جنرل اختر ملک کو پاکستانی نہ کہیں تو کیا کہیں؟

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s