1974 · پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

آؤ قادیانی قادیانی کھیلیں

میرے لبرل پاکستانی سرکاری مسلمان دوستو – ذرا سنبھل کر پڑھنا۔ معاملہ نازک ہے اور کچھ مزید روشن خیالی کا طلبگار بھی ہے۔
پاکستان کا اگلا آرمی چیف، باقی تمام گذشتہ آرمی چیوف کی طرح سرکاری مسلمان ہی ہو گا۔ ان میں جنرل میسروی اور گریسی شامل نہیں جو شائد اینگلیکن مسیحی تھے اور برطانوی فوج کی باقیات تھے۔
اس مسئلہ پر اصولی بحث کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہ مفروضہ انتہائی غیر مناسب ہے کہ ‘احمدی ہوا تو کیا ہوا‘۔ البتہ یہ کہنا عین حق ہے کہ اس ملک میں احمدی ہو اور فوج کا جرنیل بن جائے – ناممکن بات ہے۔
کوئی ایسی بات کرے تو مندرجہ ذیل جواب مناسب ہے۔
‘کیوں مذاق کرتے ہو بھائی۔ عقل گھاس چرنے گئی ہے- آج بھنگ پکوڑوں کا ناشتہ تو نہیں کیا صاحب ۔ احمدی اور ریگولر فوج کا کلیدی افسر۔ کوئی کرنے والی بات کرو۔ اچھا میڈیکل کور کا ہو شائید۔’
‘یہ قادیانی بھی کیا ہیں۔ ڈاکٹر کمال کے بنتے ہیں۔ ملک کے تمام امتحانوں میں اول، دوئم، سوئم بھی یہی آتے ہیں۔ شائید امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے پیسے کے ساتھ ساتھ عقل سلیم بھی آتی ہوگی۔ اللہ کا فضل بھی لگتا ہے انہیں سازشوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قادیانی کو کلیدی عہدہ درکنار ان عہدوں کے آس پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتے الحمدللہ۔ اسی لئے تو ملک میں شرافت اور خوشحالی کا راج ہے۔ چلو جاؤ اب – کام کرو اپنا۔ ‘
اب ذرا میری بپتا بھی سن لیں
راقم کے خاندان کو پاکستان کی فوج سے کچھ تعلق ہے۔ والد صاحب مرحوم سن اکہتر میں کمشنڈ آفیسر بنے – سن چوہتر کی بدنام زمانہ دوسری آئینی ترمیم کے بعد ان پر پہلا امتحان آیا- فوج نے کہا – کپتان صاحب ریکارڈ کی تصحیح کرا لیں اور چپ چاپ مذہب کے خانہ میں خود کو غیر مسلم لکھوا لیں۔
والد صاحب ٹی آئی کالج ربوہ کے گریجوئٹ تھے- انتہائی لائق اور ذہین ، اونچے قد کاٹھ والے اور خوش لباس بھی بلا کے۔ مقولہ ہے کہ دنیا ایسے ہی جوانوں کے تسخیر کرنے کے لئے بنی ہے۔ لیکن انہوں نے اس معاملہ میں وہ فیصلہ کیا کہ ساری عمر کے لئے ان کے گلے کا طوق بن گیا۔ انہوں نے ایک بیان حلفی لکھ کر اپنے کور کمانڈر کو جمع کرا دیا کہ وہ خود کو پکا مسلمان سمجھتے ہیں اور ریکارڈ میں، آئین کی رو سے بھی انہیں خود کو غیر مسلم لکھنا گوارا نہیں۔
سالانہ کارکردگی رپورٹ ایک فوجی افسر کا نامہ اعمال ٹھہری اور اس میں نافرمانی کا نوٹ ہائی کمان کو ہر سال اس کی یاد دلاتا رہا۔
اب احمدی ہونا اور فوجی ہونا اب مشکل کام تھا۔ گئے وہ دن جب افتخار جنجوعہ کے نام لیوا ان سے اپنے تعلق کو باعث افتخار سمجھتے تھے۔ جو اخترملک اور عبدالعلی ملک کے ساتھ فتح مند جنگیں لڑے وہ بھی خاموش ہو گئے۔ آئین کی ترمیم سے پہلے ہی فوج کو احمدی جرنیلوں کے کارناموں کو فراموش کرنا پڑا- افتخار جنجوعہ شہید ہو گئے ورنہ آرمی کو انہیں چیف بنانے کے سوا چارہ نہ ہوتا- اختر ملک کو بھی 65 کی جنگ میں فتح مند ہونے کا صلہ بیرون ملک منصب کی صورت میں دیا گیا – اگر ملک میں رہتے تو آرمی چیف کی کرسی ان کے نام بھی ہو سکتی تھی۔ اختر ملک بھی ترکی میں کار کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔
74 کے بعد جنرل بننا بھی سرکاری مسلمانوں کا شیوہ ٹھہرا۔ میرے والد صاحب تو اوائل کیریر میں ہی دینی غیرت کو ترجیح دے کر اس دوڑ سے باہر بیٹھ گئے۔ لیکن امید تھی کہ اپنی رجمنٹ میں ترقی کی تمام منازل تو طے کر ہی لیں ۔ پھر سنا کہ ضیاء دور میں احمدی افسروں کے لئے خاص پروموشن پالیسی وضع کی گئی۔ ان کی فائلوں کو سرخ روشنائی سے نشان کیا گیا۔ سٹاف کورس میں شرکت کی راہ میں روڑے اٹکانا بھی معمول بن گیا۔ جو اکا دکا افسر سر جھکا کر یس سر یس سر کرتا، اپنے مذہبی معاملات کو یکسر بھول کر کام میں جتا رہتا وہ گھسٹ گھسٹ کر پروموشن پا لیتا- لیکن کسی یونٹ کی کرنیلی ان کے لئے بھی ناممکن تھی۔ ایسے بیچاروں کو دفتری معاملات میں ڈال کر ریٹائرمنٹ کی راہ دکھا دی جاتی۔
مجھے یاد ہے کہ چونکہ چھاونیوں میں احمدی مساجد نہیں ہوتیں، آس پاس کے احمدی فوجی اور غیر فوجی ہمارے گھر آکر جمعہ ادا کرتے۔ کبھی کبھی گھر کے باہر ملٹری انٹیلیجنس والے آکر سائکلیں اور باہر پڑےجوتے گن جاتے۔ کیا معلوم والد صاحب کو سرزنش بھی ہوئی ہو کہ اپنے گھر مذہبی اجتماع سے گریز کریں۔ کیونکہ کچھ عرصہ بعد ہم ایک اور صاحب کے گھر جا کر جمعہ پڑھنے لگے۔ لیکن چند ماہ بعد یہ سلسلہ ہمارے گھر پھر شروع ہو گیا- دینی فرائض کو ترجیح دینا ہمیشہ ان کا شیوہ رہا۔
ضیاء دور کے بعد کی جمہوریت بھی فوج کے کلچر میں کوئی فرق نہ لا سکی۔ مذہبی قدامت پسندوں نے ہر شعبہ میں پنجے گاڑ لئے تھے۔ کچھ لوگوں کو وہ ناکام بغاوت بھی یاد ہو گی جس میں کئی اعلی رینک کے افسران ملوث تھے۔ سب کے سب مذہبی جنونی نکلے۔
والد صاحب کو کرنل رینک نہیں دیا گیا- ہر جگہ ان کو تعصب کا سامنا رہا لیکن ان کی محب الوطنی میں میں نے کوئی فرق نہیں دیکھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب نواز شریف حکومت نے ایٹمی دھماکے کئے تو انہوں نے وزیر اعظم ہاوس میں مبارکباد کا خط لکھا اور یادگاری دن کے لئے نام بھی تجویز کیا۔ وزیر اعظم صاحب کا جوابی خط میرے پاس شائد اب بھی محفوظ ہو۔
والد صاحب ریٹائر منٹ کے کچھ عرصہ بعد انتقال کر گئے۔ ان کے بعد ان کی اولاد میں ایک ہی کو فوج کی راہ ملی۔ میرے بھائی نے مشرف دور میں طالبان کے خلاف آپریشنز میں کئی سال گزارے۔ اس کے ایک کمانڈنٹ نے ایک مرتبہ اسے پارہ چنار ایک آپریشن میں شامل ہونے سے روک دیا اور کہا کہ یہاں چونکہ سنی شیعہ مسئلہ ہے اور تم قادیانی ہو اسلئے یہاں تمہارا کوئی سروکار نہیں۔ برخوردار کو میں نے فوج چھوڑنے کا مشورہ دیا جو اس نے طوعا” و کرہا” قبول کر لیا۔
لیکن ربوہ میں اب بھی کبھی کبھی سبز پرچم میں لپٹے تابوت آتے ہیں۔ فوج کی طرف سے پھول چڑھانے افسر بھی آتے ہیں – سلامی والے بندوق بردار بھی قطار لگا کر سلامی دیتے ہیں۔ ان شہیدوں کو ربوہ والے اسی فخر سے وصول کرتے ہیں جیسے وہ ملک کے دیگر گلی کوچوں میں گرنے والے احمدی شہیدوں کو وصول کرتے ہیں۔
اب قصہ یہ ہے کہ ملک میں مولوی قادیانی قادیانی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنے الو سیدھے کر رہے ہیں۔ لیکن اس قوم کو شائد یہ اندازہ نہیں کہ ہماری گھٹیا ذہنیت کے ‘چیک اینڈ بیلینس‘ نے احمدیوں کی ترقی کو سرکاری اداروں میں عرصہ دراز ہوا ناممکن بنا دیا ہے۔ اگر کوئی افسر ترقی کر بھی جائے تو یقینا” ایسے تکنیکی میدان میں کرتا ہے جہاں کوئی سرکاری مسلمان اس کی گرد کو نہ پہنچتا ہو۔
جنرل ضیاء کو جب آنکھ کا آپریشن کرانا پڑا تو ایک احمدی ماہر امراض چشم کو چنا- ملک کا سب سے اچھا سرجن جو ہوا۔
عمران خان کو جب ملک کی معیشت سنوارنے کی فکر ہوئی تو دنیا کے سب سے لائق پاکستانی ماہر معیشت دان پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا کہ احمدی ہے تو فوار” جان بخشی کے لئے مولویوں کی منت سماجت شروع کر دی۔
اگر آپکو بھی فیس بک پر احمدیوں کی لسٹیں نظر آرہی ہیں تو جان لیجئے کہ ان میں سے اکثر احمدی نہیں ہیں۔ جو ہیں وہ تو فوت شدہ ، سن چوھتر سے قبل کے افسران ہیں۔ باقی بیچارے تو دور پارکی رشتہ داری میں مارے جا رہے ہیں۔ یا پھر لبرل اور مولوی مخالف مزاج کی وجہ سے زیر عتاب ہیں۔
قمر جاویدصاحب بھی اس سیاسی کھیل کے فٹبال ہیں۔ اس سے قبل پرویز رشید، معین قریشی، جنرل مشرف، عاصمہ جہانگیر اور کتنے ہی اور قادیانی قادیانی کے کھیل میں دائیں اور بائیں بازو کی ٹیموں میں یکساں ٹھکرائے گئے ہیں۔
لیکن بھائی بندو، عقل کے ناخن لو۔ کوئی ایک تو ایسا شریف پاکستانی لیڈر نظر آ جائے جو صرف یہ کہ سکے کہ احمدی ہوا تو کیا ہوا – پاکستانی تو ہے۔
اس کے بعد اس بات کی فکر کی جائے کہ وہ طبقہ جس نے ملک کو ہر شعبے میں محب الوطن ہیروں اور لعلوں سے نوازا ہے اس کی ایسی بھی احسان فراموشی نہ کی جائے کہ نالائقوں اور احمقوں کو خود پر مسلط کرکے قوم کو مزید برباد کر دیں۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s