پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ

بخدمت عالی جناب محمد نواز شریف

abdus_salam

بخدمت عالی جناب محمد نواز شریف، وزیر اعظم، اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔

چشم بددور – (سلام مسنون سے بوجہ صدارتی آرڈینینس 20 قاصرہوں۔ )

مبارک صد مبارک۔ پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کی تمام افواہیں غلط ثابت ہو گئی ہیں۔ میں بھی عرصہ دراز سے اس مغالطہ کا شکار تھا کہ ہم احمدیوں پر پاکستان میں زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ کبھی جسٹس کرم شاہ الازھری تو کبھی جسٹس جاوید اقبال انسانی حقوق کمیشن جنیوا کے سامنے جا کر اس منفی پراپگینڈے کا جواب دیتے تو مجھ جیسوں کو معلوم ہوتا کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ بھلا کرے ہمارے عادل مزاج وزیر اعظم کا – انہوں نے آنکھوں سے پردہ اٹھا دیا۔

جناب وزیر اعظم, آپ نے کمال بہادری اور انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو ایک مشکوک العقیدہ جرنیل کو فوج کی کمان سونپی۔ وہ احمدی نہیں، لیکن احمدی ہونے کا شک تو تھا۔ اللہ سلامت رکھے وزیراعظم صاحب کو، انہوں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، انہیں کو سپہ سالار اعظم بنایا۔ اب مکرم چیف صاحب میلاد کی محافل کروائیں گے، اور دیگر اسلامی اعمال بجا لا کر اپنا دور اچھے مسلمان کے طور پر گزاریں گے۔

احمدی بھی ان کے مشکور نہ ہوں تو کیا ہوں، عزت مآب وزیر اعظم نے تقریری یا تحریری طور پر کسی جرنیل سے اپنی قادیانیت دشمنی ثابت کرنے کا مطالبہ نہیں فرمایا۔

اس پر طرہ یہ کہ پروفیسر عبدالسلام صاحب جو ہمارے قومی ہیرو ہیں، ان کی بیسویں برسی پر حضرت عالیجناب نے انہیں یاد فرمایا اور اب قائد اعظم یونیورسٹی کا ایک شعبہ ان کے نام سے موسوم ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ نوے کی دھائی کے وزیر اعظم نوازشریف اپنی مادر علمی پنجاب یونیورسٹی یا گورنمنٹ کالج میں ایک تقریر میں سابق معروف طلباء کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر سلام صاحب کا نام لینا بھول گئے۔ دیکھیں بیس سال بعد کیسے یاد رکھا ہے – ایسی بے ضرر سی غلطیوں کا مداوا کرنا یقینا عظیم لوگوں کا وطیرہ ہے۔

مجھ سے کم ظرف کو یہ کہنا بھی شائید مناسب نہ ہو کہ مرحوم پروفیسر صاحب (آپ آنجہانی پڑھیئے) بڑے اصرار سے خود کو محمد عبدالسلام لکھتے تھے ۔ ان کا پورا نام جو ہوا۔ خود کو مسلمان(آپ غیر مسلم پڑھئے) کہتے اور سمجھتے تھے۔ یہ عاجز تو یہی کہتا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے – اب اگر قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کے باہر جڑی نقرئی تختی پر ان کا پورا نام لکھ کر آدھے پر لکیر کھینچ دی جائے تو کیسا بھدا معلوم ہوگا۔ مرحوم ضیاالحق نے، جو آپ کے پیر ومرشد رھے ہیں، کیا کمال کا قانون امتناع قادیانیت بنا چھوڑا۔ اب آپ سے توقع کہ اس پر نظر ثانی فرما لیں ناجائز بات ہے۔ ہمارے ملک میں ایسی نایاب تختیاں خراب ہوتی ہوں تو ہوتی رہیں۔ اور اگر حضور ان کے نام کی تخفیف مناسب سمجھیں تو مرے ہوؤں کو کیا پروا۔ آپ کا ملک ہے – جو چاہیں کریں۔

ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین، اور کلیدی عہدوں کے حلف نامہ جات اور پاسپورٹ فارم اگر ہم احمدیوں کو قابل نفرین قرار دیں تو اس میں حضور وزیر اعظم کاکوئی قصور نہیں۔ اس مینڈیٹ سے بھی کوئی گلہ نہیں جو اعلیٰ حضرت کو دو مرتبہ عطا ہو چکا۔ اپوزیشن بھی ندارد اور عوام تک رسائی بھی اسقدر آسان – لیکن آئین کی اسلامی شقوں پر نظرثانی کرنے کو کون کافر کہہ سکتا ہے۔ کافر ہی ہیں جو ایسی گستاخی کریں اور آئین پاک سرزمیں کی ایسی بےحرمتی کے مجرم ٹھہریں۔

نیشنل ایکشن پلان بھی قبلہ حضور کا رقم کردہ معلوم ہوتا ہے۔ ملک میں نفرت اور دھشت کے خاتمے کا بہت اعلیٰ منصوبہ ہے۔ آپ کے برادرخورد، ہمارے ہر دلعزیز خادم اعلیٰ اور شریف خاندان کے ذہین و فطین چشم و چراغ، اس قانون کا بجا استعمال کرتے ہیں۔ کہاں جھنگ میں ایک معروف تکفیری کے انتخاب کا مسئلہ، اور کہاں ربوہ (آپ چناب نگر پڑھیئے) میں ہمارے چند قدرے سادہ مزاج احمدی احباب کی غلطی۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ تعلیمی اور تبلیغی کام اب دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اپنے دفاتر میں سی ٹی ڈی پولیس کے چھاپے کے بعد معلوم ہوا کہ حضور والا نے یہ بھی حکم صادر فرمایا ہے ۔ قسم لے لیجئے، اس احقر کو وہم بھی نہ تھا کہ میرے بھائی بندوں کو ایسے گھناونے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چار گرفتار ہیں، ایک زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں۔ حضور، یہ تو پتہ تھا کہ قرآن پڑھنا اور اس کی اشاعت کرنا پاکستان میں ہم احمدیوں کو منع ہے – اور کیوں نہ ہو – ہمارے اور آپ کے منتخب کردہ نمائندوں اور ڈکٹیٹروں کے اعمال صالحہ ہیں – آپ ہی ان کے نگہبان ٹھہرے – اللہ توفیق دے۔

لیکن جس دفتر پر ریاستی اہلکاروں نے چھاپہ کی زحمت فرمائی اسے دفتر تحریک جدید کہتے ہیں۔ یہاں ہماری جماعت کے احباب اپنے روزمرہ کے کام کرتے ہیں – یقینا پس پردہ اسلامی اعمال بھی بجا لاتے ہوں گے – قرآن کی تلاوت اور درس و تدریس، نماز پنجگانہ وغیرہ۔ اور لٹریچر کی تیاری اور مبلغین کے معاملات بھی دیکھتے ہوں گے – عالی جناب کو تو اچھی طرح معلوم ہے کہ ملک کے اکثر احمدی عادت اور خصلت سے مجبور ہیں۔ یہ معمولی جرائم تو ہم کمزوروں سے روز سرزد ہوتے ہیں۔ سرکار اور سرکار کے کارندے اگر چاہیں تو سارے پاکستان کے احمدیوں کو قید فرما لیں – یہ تو آپ کا بیمثال رحم اور شفقت ہے کہ ہم جیسے گنہگار قانون کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کو دھشت گردی سمجھنا میری موٹی عقل کے بس سے باہر ہے۔ شائد عالی جناب وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے اذھان اس قانون کی کنہوں اوراس چھاپے اسباب سے بہتر واقف ہوں۔

عرض ہے کہ پروفیسر محمد (آپ بیشک نہ پڑھیں) عبدالسلام بھی نمازی تھے، نوبل انعام وصول کرنے گئے تو تقریر میں قرآن کی تلاوت کے مرتکب بھی ہوئے – یہ سویڈن کی حکومت کی بے بسی ہی سمجھیں کہ ان کو ایسی گستاخی سے باز نہ رکھا – اگر قرآنی علوم کی اشاعت ملک کے قوانین کے برخلاف بھی سمجھیں اور احمدیوں کو شعائر اسلام سے دور رکھنا ہی آپ کو منظور ہو، تو کم از کم اس نقرئی تختی پر ایک معمولی سا اضافہ ضرور فرما لیں۔ اس سے کئی کم سمجھوں کو ٹھوکر نہیں لگے گی۔ امید ہے حضور اس عاجز کی معمولی رائے کو شرف قبولیت بخشیں گے۔ عبارت کچھ یوں ہو تو مناسب ہے۔

‘ آنجہانی ہر گز مسلمان نہ تھے۔ کسی قسم کی اسلامی مطابقت برخلاف قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ، جس کا ہمیں افسوس ہے‘۔

مجھے امید ہے کہ آپ جیسے صاحب الرائے اور عالم شناس لیڈر کی نظر میں ایسی عبارت عوام الناس کے لئے فائدہ کا باعث ہوگی۔ اور مجھ جیسے کم نظر احمدیوں کے لئے یادھانی کا باعث رہے گی کہ ہم آپے سے باہر نہ ہو جائیں۔

جزاکم اللہ (آپ چاھے نہ پڑھیں)۔

Advertisements

4 خیالات “بخدمت عالی جناب محمد نواز شریف” پہ

  1. بہت عمدہ طریقہ سے آپ نے ہم سب کے دل کی بات کہہ دی تحریر میں چھپا کرب صرف احمدی ہی محسوس کر سکتے
    جزاکم اللہ احسن الجزا

  2. Asalam Alaiqum Ahmadi Dostu. Baqi Sarqari Muslmanu Adaab, Hello.Namastay.
    Bohat Ala Mazmoon Hai Agar Shaid Sarqari Muslmanu ko Samajh Aiey. Magar Maslah ye Hai kay Sarqari Muslmanu ko Parnay ki Aur Tahqeek ki Ejazat Nai.
    Wasalam

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s