پاکستان · جماعت احمدیہ اسلامیہ · حالات حاضرہ · عقائد

ایسے بزدل ہمدردوں سے دشمن اچھے

baad-az-khuda
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا ایک نعتیہ شعر
ہمارے کچھ احباب ایسے بھی ہیں جنہیں احمدیوں کے حق میں بات کرنے کے بعد غسل طہارت کرنا پڑتا ہے۔ ان کے کالم ، بلاگ اور اخباری بیانات دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اظہارہمدردی کے معا”بعد ان حضرات نے فورا”کان پکڑ کر دس دس بیٹھکیں لگائی ہوں گی اور کفارے کے روزے رکھے ہوں گے۔ نکاحوں کی تجدید کروا کر گھروں میں داخل ہوئے ہوں گے۔
معلوم نہیں کہ کیوں مجھے ایسے حضرات کی ہمدردی سے گھن آتی ہے۔ مناسب تو یہ ہے کہ ان کی اس لولی لنگڑی انسانیت کو قبول کیا جائے لیکن صاحب ایسے بزدل ہمدردوں سے دشمن اچھے۔ کم از کم کھل کر وار تو کرتے ہیں۔
چکوال میں بلوائیوں کی ننگی دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے۔ ایک کرم فرما خواجہ کلیم نے سرخی افتخار عارف کے شعر کی لگائی کہ
‘امت سید لولاک سے خوف آتا ہے‘۔
وہی افتخار عارف جو چند ماہ قبل ایک نہایت نفرت آمیز ڈاکومینٹری میں احمدی مخالف خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔
خواجہ کلیم صاحب کا بلاگ یا تو ان کےپوتر شدھ اسلامی عقائد کی گواہی دیتا ہے یا پھر احمدیوں کو آئین کی ترمیم نہ ماننے کا مجرم بتاتا ہے۔ اگر تھوڑا اور غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم احمدی تو اس بدبخت کوڑا ڈالنے والی بڑھیا کی قبیل کے لوگ ہیں جنہیں معاف کرنا ہی اصل سنت رسول (ص) ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اس سے ایک دو روز پہلے خورشید ندیم صاحب کا کالم بھی پڑھنے کو ملا جو ختم نبوت کے عقیدہ کے سماجی پہلووں پر روشنی ڈال کر اپنے گذشتہ کالم کا کفارہ ادا کر رہے تھے۔ ان کو پوچھتا ہوں کہ محترمی، علامہ اقبال کا فلسفہ خودی جو نطشے کےنظریہ سپر مین سے سرقہ شدہ ہے، اول تو اپنی اصل میں انتہائی غیر اسلامی ہے۔ دہریت اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو خودی خودی کے الاپ شروع کر دیں۔ آجکل کے ملحدین کو بھی یہی سوجھی ہے کہ انسان نے خدا کو ایجاد کیا جب تک کہ سائینس نے اسے خدا کی ضرورت سے بے نیاز کردیا۔ خودی بلند ہوگئی نا۔
مرحوم اقبال تو اسلام کے عقیدہ مسیح و مہدی کو بھی مجوس کے اوہام مانتے تھے۔
اور آپ فرماتے ہیں کہ ختم نبوت کا عقیدہ انسانی ارتقا کی معراج کی نشانی ہوا۔ اگر اس نبوت کے تمام فضائیل اور کمالات پر ملائیت کی دھول اٹ گئی ہو تو معاشرہ میں علمائے سوء کا راج ہو جاتا ہے۔ پچھلی کئی صدیوں سے تمام اسلامی معاشرے اس مرض کا شکار ہو کر مرجھا گئے – اب ان میں زندگی وحی الٰہی کی بارش کے طفیل ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ صدہا صوفیاء نے وحی و الہام کا دعویٰ کیا ہے۔ اقبال محی الدین ابن عربی کے بڑے مدح خوان تھے جو نہ صرف وحی و الہام کے اجراء کے قائل تھے، بلکہ غیر تشریعی نبوت کا راستہ بھی کھلا مانتے تھے۔
یہ ‘ختم نبوت‘ کی اصطلاح بھی ایک جدید اردو اختراع ہے۔ قران میں رسول اللہ (ص) کو ‘خاتم النبیین‘ کہا گیا ہے جس کا ترجمہ انبیاء کی مہر کا ہے۔ اردو دان علماء نے اس کو اختتام نبوت کا ثبوت بنا دیا ہے حالانکہ اکثر ان میں سے بھی عیسیٰ (ع) کی آمد ثانی کے قائل ہیں۔ ان بیچاروں کی خودی اور شعور ذات کی تکمیل کا کیا ہوا؟
اللہ تعالیٰ کی صفات بے حساب ہیں، لیکن ان میں سے جو ہمیں معلوم ہیں، اسکی صفت کلام کو مفقود قراد دے دینا اقبال اور آجکل کے علماء کی ہی جرات ہے-
دوسرے صاحب خواجہ کلیم صاحب بھی احمدیوں کے منکر ختم نبوت ہونے پر نالاں ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر ہم دوسری آئینی ترمیم پر ایمان کے آئیں تو سارا پاکستان ہمیں سر آنکھوں پر رکھے گا۔
پھر یہ حضرت اپنی تحریر میں رسول اللہ (ص)کی سیرت کی مثالیں بیان کر کے پاکستانی عوام کو برداشت اور اور امن کی تعلیم دیتے ہیں۔
جناب، اگر آپکی بیان شدہ مثالوں کا صحیح موازنہ کیا جائے تو بات کھل کر سامنے آ جائے گی۔
آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور اذان پر پابندی لگائی گئی۔
آپکا سماجی بایئکاٹ کیا گیا –
آپ پر سنگ باری کی گئی –
آپ (ص) اور صحآبہ چھپ چھپ کر نمازیں پڑھتے اور اجلاسات کرتے –
کچھ حبشہ ہجرت کر گئے، اور باقی مدینے کو چل دئیے۔
اس دور کے لیڈران نے بھی مشترکہ طور پر مسلمانوں کو اپنی امت سے خارج کیا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔
اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کون سا گروہ ہے جس پر یہ تمام باتیں صادق آتی ہیں؟
پھر کلیم صاحب اپنے عشق رسول (ص) کا اظہار کئی پیرایئوں میں فرماتے ہیں – سو بسم اللہ۔ لیکن ہم احمدیوں کو بھی اسی عشق رسول (ص)کا دعویٰ ہے ۔
جہاں تک عشق رسول (ص) کی بات ہے، مجھے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام سے بڑھ کر اس دور میں کوئی سچا عاشق رسول نظر نہیں آتا۔ آپ فرماتے ہیں
بعد از خدا بعشقِ محمّد مخمرّم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
آپ کی کتب اور تقاریر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حسین تذکروں سے پر ہیں۔ آپ کا شہرہ آفاق نعتیہ قصیدہ عرب و عجم میں مشہور ہے۔ اور مسیحی و آریائی توہمات اور اعتراضات جو  سیرت النبی (ص)پر اٹھائے گئے تھے ان کے مفصل اور مسکت جواب دئیے۔ نہ صرف یہ، آپ نے خود اپنی ذات کو رسول اللہ (ص) کی حقانیت کے ثبوت کے طور پر پیش فرمایا۔ مرزا صاحب کی پوری زندگی عشق رسول کی ایک اعلیٰ مثال کے طور پیش کی جا سکتی ہے۔
خواجہ حسن نظامی ایک معروف بزرگ گزرے ہیں، آپ کو احمدی جب بھی سیرت النبی (ص) کے جلسہ پر بلاتے، تو بڑے شوق سے تشریف لاتے اور خطاب فرماتے۔ جہاں تک میرا علم ہیے، خواجہ صاحب احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن انہوں نے احمدیوں کے حب رسول(ص) گواہی دی۔ اسی طرح علامہ عبدالماجد دریاآبادی نے بھی اپنے ہم مشرب علمائے دیوبند کی طعن وتشنیع بے باوجود احمدی مسلمانوں کو نہ صرف مسلمان کہا، بلکہ ان کے عقائد پر اٹھائے گئے کئی غیر معقول اعتراضات کے خود جواب دیئے۔
اگر دوست ہوں تو ایسے ہوں۔ جرات والے، حق شناس اور حق گو۔
اللہ آپ دونوں اصحاب کو ایسی ہی جرات ایمانی نصیب فرمائے۔ آمین

 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s