متفرق · پاکستان · حالات حاضرہ

مودودیت کا شجر زقوم

(زقوم :ايک قسم کا خار دار پودا،ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا،تھوہڑ کا پودا جو خاردار اور کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے،دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے،زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنی ،ناگ پھَنی ،ہر کڑوی ،ہیج دھارا،یہ پودا ڈنٹھل دار بے برگ اور خاردار ہے)
ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳۔۱۹۷۹) نے برصغیر پاک وہند کے مڈل کلاس مسلمان طبقہ پر دوررس اثرات چھوڑے ہیں۔ آپ چاھے لبرل ہوں یا قدامت پسند، فوج کے افسر ہوں یا افسر شاہی کے رکن، پرائیویٹ کمپنی میں ماھوار کے ملازم ہوں یا پھر مقامی ادارہ جات کے سرکاری و نیم سرکاری افسر ۔ اگر آپ مرد ہیں، سنی ا لعقیدہ مسلمان ہیں اور کالج یونیورسٹی کے دور سے بوجہ اپنی مڈل کلاسیت گزرے ہوں تو مودودی صاحب کی جماعت اسلامی یا ان کے اثرزدہ لٹریچرنے آپ کی دینی اور سیاسی سوچ پر ضرور اثر ڈالا ہے۔ آپ نے اس کو کتنا قبول کیا، یہ تو آپ کوہی معلوم ہوگا۔ ان اثرات سے صرف وہی بچتے ہیں جو بوجہ دینی عقیدہ (شیعہ احمدی وغیرہ)، لادینی عقیدہ ، سیاسی وابستگی یا نسلی و لسانی وجوہات کی وجہ سے مودودی پراپیگینڈہ اور اسکے ہمخیالوں سے دور دور رہتے ہیں۔
اس متشدد تنظیم کی جڑ  اس شجر زقوم کی جڑ ہے جسے مودودی نے بیجا، اس کی مٹی تہذیبی نرگسیت کے کچرے کا ڈھیر ہے جس پر بغاوت اور نمک حرامی کے متعفن پانی کی آبیاری کی گئی ۔ اس کے پھل ہم نے پاکستان بننے کے بعد ہی ٹوکروں کے ٹوکرے اتارے۔ پہلے کشمیر کے معاملہ میں مودودی صاحب کا فتویٰ کہ وہاں جہاد حرام ہے ۔ پھر قادیانی مسئلہ لکھ کر ملک بھر میں قتل وخون کا بازار گرم کردیا۔ یہاں سے فرصت ہوئی تو اپنے ساتھ کے بازاری ملاوں سے قطع تعلق فرمایا ۔ جب ان پر تکفیر کی گئی تو معصوم ہو کر بولے کہ جو خود کو مسلمان کہے اسے مسلمان جانو۔ (قادیانیوں کو چھوڑ کر)۔
مودودی صاحب نےباقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں فرمائی. آپکی علمی اور دینی تعلیم میں کانگریسی سیاست کا بڑا ہاتھ تھا۔ آپ کانگرس کے حامی مسلمان علما کے ساتھ اسلامی جرائد کی ایڈیٹری کرتے رہے۔ نیازفتحپوری صاحب سے بھی بہت سیکھا۔ اردودان اور زودنویس تو تھے ہی، مسلم اشرافیہ میں ایک مقام حاصل کر لیا۔ جماعت احمدیہ کے تنظیمی ارتقا سے بھی متاثر نظرآتے ہیں۔ رسالہ طلوع اسلام نے تو یہاں تک کہ دیا تھا کہ مودودی صاحب دراصل مرزا غلام احمد صاحب کی پیروی میں ایک جماعت کا قیام چاھتے ہیں۔ مرزا صاحب نے تو کہا تھا کہ اگر اصل دین دیکھنا ہے تو ان کی بیعت کی جائے ۔ مودودی صاحب بھی اسی کے متمنی تھے۔ لیکن طلوع اسلام اور مودودی صاحب دونوں جانتے ہوںگے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت کا تھا۔ مودودی صاحب لگتا ہے بلا دعویٰ نبوت کے متلاشی تھے۔
مودودی، غلام احمد پرویز، سلیمان ندوی، ڈاکٹر اقبال، ابوالکلام آزاد اوران کے کئی اورہم عصرعلماء اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے نسخہ کیمیا کی تلاش میں عمریں گزار گئے۔ ایک کیمیا گر کی طرح انہیں سونا بنانے کا شوق توبہت تھا، مگر نبوت کے سنگ پارس سے اسی قدر نفرت تھی جس کا وعدہ قرآن اور حدیث دونوں میں بہت وضاحت سے ملتا ہے۔ بلا نبوت نہ خلافت قائم ہوسکتی ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں وہ انقلاب آسکتا ہے جس کے یہ تمام لیڈر انتہائی متمنی تھے۔
جنگ عظیم اول اور خلافت عثمانیہ کے اختتام کے بعد ہندوستان سے کئی مسلمان یورپ گئے اور وہاں کے نیشنلسٹ سوشلزم سے متاثر واپس لوٹے۔ ان میں خیری برادران بھی تھے جن سے مودودی صاحب کی خوب علیک سلیک تھی۔ خیری برادران کوبدنام زمانہ ڈاکٹرگوئبلز کے خاندان سے بھی تعارف حاصل ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے جرمنی میں قیام کے دوران گوئبلز کی ایک بہن نے اسلام بھی قبول کر لیا۔  انڈیا واپسی پر ان اصحاب نے نے ایک تحریک کی بنیاد رکھی جس کو نازی ازم سے بہت مماثلت حاصل تھی۔ مودودی صاحب اس میں باقاعدہ شریک تو نہ ہوئے لیکن جب انہوں نے اپنی تحریک کی بنیاد رکھی تو اس کا نام وہی خیری برادران والی تنظیم کا رکھا۔ جماعت اسلامی۔
جماعت اسلامی نے ابتدائی اثر رسوخ انڈین پنجاب میں حاصل کیا اور خوب ڈٹ کر پاکستان کی مخالفت کی۔ قیام پاکستان کے بعد مودودی بھی پاکستان چلے آئے اور متوسط طبقہ میں اسلام کے نام پر اپنی سیاست شروع کی۔ اگرچہ کہ ملک کے ارباب اختیار سے مودودی صاحب کو انتہائی بغض تھا لیکن درپردہ دوستیاں یاریاں بھی تھیں۔ ایسے ہی ایک دوست کی فرمائش پر رسالہ قادیانی مسئلہ تحریر کیا جس کے بل پر مجلس احرار نے کشت خون کا بازار گرم کر دیا۔ مودودی کونمائشی طور پر سزائے موت سنائی گئی جوشاہ فیصل کی سفارش پر معاف کر دی گئی اور یہ صاحب عوام کی نظر میں مقبول ہوگئے۔
مودودیت کا بنیادی طریقہ واردات پراپیگینڈا ہے ۔ اسلام کی اساس سے اس کا دور کا بھی لینا دینا نہیں ہے۔ روحانیت، تصوف، طریقت سے کوسوں دور، خارجی اور انارکی فکر اور عقائید کا ملغوبہ ہے۔ دین کے معاملہ میں متشدد اور ملک کے لئے نقصان کا باعث ہے۔ مودودی صاحب اپنے فہم قرآن کی سند خود ہی کو بتاتے ہیں ۔ تنقیحات میں لکھا کہ قرآن کی تفسیرکے لئے پروفیسری کی قبیل کی سوچ کافی ہے۔ یعنی تقویٰ، زھد، تاریخی تفاسیر اور احادیث کا علم بے معنی سمجھتے تھے۔ دین کی فہم سے خوف خدا نکال دیں تو سراسر شیطانی اور بوالہوسی رہ جاتی ہے ۔ مودودیت کو بھی اسی شیطانی مردودیت کا ایک پرتو سمجھیں۔
مودودی صاحب کی سیاست انارکزم اور فاشزم کی سیاست ہے۔ اور اس فکر کی ترویج کے لئے اسلامی جمیعت طلبہ کو ہٹلر یوتھ کا درجہ حاصل ہے۔ اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی، اداروں کے قواعدو ضوابط کے خلاف ایجیٹیشن، اور اپنے مخالف گروہوں اور ان کے حامیوں پر دھونس دھمکی، گھونسہ طمانچہ والا سلوک۔
یونیورسٹی اور کالجوں کی سطح پر مودودی فکر کی داعی اسلامی جمیعت طلبہ کی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے باقاعدہ اراکین تو پکے جماعتیے ٹھہرے، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بھی رنگ لگ ہی جاتا ہے۔ لبرل قسم کے کھلنڈرے نوجوان بھی کبھی کبھی جماعتیے ہوتے ہیں ۔ سگریٹ، پان اور چرس کے شیدائی بھی بھائی لوگوں کے ساتھ جھک کر مصافحہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ رعب داب مفت حاصل نہیں ہوتا، اس کے پیچھے ایک خونی داستان ہے جو ملک کی ہر بڑی جامعہ میں کرداروں اور واقعات کے تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ کئی بار دہرائی گئی ہے۔
اس نرسری سے نکلے ہوئے کچھ نظریاتی لوگ معاشرے میں ضم ہو نہیں پاتے۔ ان کے لئے پاکستان کے عوام جاہلوں کا ٹولہ، اسلام سے بے بہرہ کفار کا ایک انبوہ عظیم ہے جسے مسلمان کہنا شرمندگی کا باعث ہے۔ یہ افراد القاعدہ کے حوالے ہو جاتے ہیں، جن کے کئی ثبوت ہم نے حالیہ برسوں میں بدرجہ حق الیقین دیکھ لئے ہیں ۔ اسامہ بن لادن کا جہادی نظریہ مودودیت اور قطبیت کا عملی مظاہرہ کرنا تھا۔ القاعدہ کے سرکردہ دہشت گردوں کی پاکستان کے مختلف علاقوں سے بازیابی ہوتی ہے تو ان کے میزبان جماعت اسلامی سے منسلک ثابت ہوتے ہیں۔ جب القاعدہ کے ترجمان سلیمان ابوالغیث کو اسلام کے نام پر صحیح جہاد کرنے کی ترغیب کا خیال آتا ہے تووہ کسی عربی، سلفی یا وہابی عالم کی تحریرات کا حوالہ دینے سے پہلے مودودی صاحب کا نام لیتا ہے۔
دوسرے درجے کے وہ بےوقوف ہیں جو مودودی فکر کی سیاسی تشریح پر ایمان لے آئے ہیں۔ یہ ہمارے درجہ دوم کے علاقائی سیاستدان ہیں، یا پھروکلاء اور تاجر اور دیگر مڈل کلاسی مودودیئے ہیں۔ موجودہ جماعت اسلامی تو ایک ناکام سیاسی تنظیم ہے، لیکن مودودی سوچ اس جماعت سے کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے۔ مودودی تفسیرقران شائد اس وقت مڈل کلاس سنی طبقہ میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تفسیر ہے۔
ان صاحبوں کو جماعت اسلامی کی رکنیت کلمہ شہادت پڑھوا کر دی گئی ہے اور بقول مودودی، جماعت اسلامی سے پھرنا ارتداد سے کم نہیں اور جہنم ایسوں کا ٹھکانہ ہے۔ اور جماعت اسلامی کا اول و آخر مقصد ہی اقتدار کا حصول ہے۔ اب اس نامراد تنظیم سے وابستہ رہ کر ملک پر حکومت تو ناممکن رہی، اپنے اپنے حلقہ اثر میں رعب داب تو قائم رکھا جائے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس دور کے بہت سے کامیاب سیاستدان جمیعت کے گریجوئیٹ ہیں۔
باکسنگ کے اکھاڑوں میں پنچنگ بیگ (punching bag) ہوتے ہیں، جمیعت کے اکھاڑے میں اسلام کا نام ہوتا ہے۔ اس پر ہاتھ صاف کر کے خوب مہارت سے ملک و قوم کی خدمت کا شوق ملکی سیاست میں پورا کیا جاتا ہے۔ وکلاء تنظیموں کے کھڑپینچ ہوں یا تاجر برادری کے لیڈر، کالج دور میں جماعتیے ہونا ایک یقینی بات ہے۔ یہی لیڈران آپ کو ممتاز قادری پر گلپاشی کرتے اور احمدی مساجد کے خلاف جلوسوں میں بھی پیش پیش نظر آئیں گے۔
maudoodi
مودودی صاحب کا مقصد زندگی مذھبی لیڈرشپ حاصل کرنا تھا۔ جوانی میں داڑھی مونچھ صاف، سوٹ بوٹ پہنے شہری بابو ہوتے تھے۔ صحافت سے شغف تھا۔ دین کا شوق بھی انڈین مسلم مڈل کلاس میں ندرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ ہر کوئی کالج پڑھا لکھا مستشرقین کے لٹریچر کی ہوا کھا لیتا ۔ یورپی سیاست میں نازی اور انارکی سوچ کی شروعات تھی اور انڈیا میں خلافت کی تحریک جوبن پر تھی۔ یہاں مودودی صاحب کو گاندھی جی سے عشق ہو گیا۔ گاندھی کی سوانح بھی لکھی اور ان کے اس نظریہ سے بھر پور اتفاق بھی کیا کہ اسلام کا کلچر قتال اور جہاد کا کلچر ہے۔
مودودی فتنہ کی اصل رسالہ الجہاد فی الاسلام کی اس عبارت میں عیاں ہوتی ہے

جب وعظ وتلقین کی ناکامی کے بعد داعئ اسلام نے تلوار ہاتھ میں لی تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی اور شرارت کا رنگ چھوٹنے لگا۔

اس رسالہ میں عیاں شیطنت کے باوجود ندوۃالعلماء نے مودودی صاحب کی تحاریر کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ندوہ کے رسالہ معارف میں آپکے مضامین بڑی باقاعدگی سے چھپائے جاتے۔ ایک طرف تو یہ قدرے ترقی پسند دیوبندی ادارہ جہاد کی غلط تشریحات کو زائل کرنے میں مصروف تھا اور دوسری طرف مودودی صاحب اس رسالہ کی بدولت معروفیت حاصل کرتے جاتے تھے۔ پھر وہ دور آیا کہ مودودی صاحب کو اپنی الگ جماعت بنانی پڑی جس نے مسئلہ جہاد کو مسئلہ فساد بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
 مودودی صاحب رسالہ اسلامی ریاست میں فرماتے ہیں کہ اگر ریاست کے اسلامی ہونے پر عوام کو شبہ ہو، تو منظم ہو کر بغاوت بپا کی جائے اور بزورشمشیر حکومت چھین کی جائے۔
یہ باغیانہ روش مودودیت کی گھٹی میں پڑی ہے۔ کوئی ایسا تاریخی موقع نہیں گزرا جہاں اس تحریک نے فاش غلطی نہ کھائی ہو۔ جب تقسیم ہند کےموقع پر جمہوری سیاست میں شمولیت کا وقت تھا، وہاں خاموشی اختیار کیٴ لیکن جونہی طاقت حاصل ہونے کا وہم ہوا، فورا پنجاب بھر میں پاکستان بننے کے معا بعد امیدوار کھڑے کیے اور منہ کی کھائی۔ اور سن اکہتر کے انتخابات میں امریکی مدد کے باوجود ایک بار پھر خوب درگت بنوائی۔ سن اکہتر میں اسی نظریہ نے بنگالی علحدگی پسندوں کے قتل عام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہ بھی اس کی سیاسی ناکامی کا ایک پہلو ہے ۔ اس نامراد تحریک کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں۔ اندر باہر، ظاہر باطن سب فتنہ ہی فتنہ۔
ان شواہد کی موجودگی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے کہ یہ سیاسی فلسفہ آزادئ مذہب اور جمہوریت کی پکی ضد ہے۔ مودودی فکر نے ضیاالحق کے بدنام زمانہ آرڈینینسوں کو جنم دیا، بھٹو کی پارلیمینٹ میں احمدیوں کی تکفیر کرنے والوں میں بھی جماعتیے پیش پیش تھے۔ روس کے خلاف جنگ میں بھی کتنے جوان انہوں نے جھونک دئیے اور کشمیر کا جہاد حلال کر کے ہزاروں خٓاندانوں کے چشم و چراغ گل کر دیئے۔ امریکی استعمار کے خلاف جماعت اسلامی کا پراپیگینڈا لگاتار سننے کو ملتا ہے ۔ لیکن مودودی صاحب نے مرنا بھی امریکہ میں پسند فرمایا۔ اپنی زندگی میں بھی امریکی ڈالر وصول کر کے الیکشن لڑے۔ ان کے جانشین میاں طفیل بھی امریکی سفارتخانے کے خوب واقف تھے۔ ایرانی انقلاب کے بعد میاں صاحب  نے خمینی سے ملاقات کر کے سب احوال امریکی سفارتخانہ کے گوش گزار کئے۔ پھر افغان جہاد میں جو کچھ ہوا سب اس کے گواہ ہیں۔   پاکستانی فوج میں مودودی کی کتب کی خاص تشہیر بھی ضیاء دور میں ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں ہمیں افغان پالیسی کی وہ گھناونی شکل دیکھنی پڑی جس نے دونوں ملکوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
پاکستان کے کئی ڈرائنگ روم ایسے ہیں جہاں آپکو جہاد کی تحریک کرتے اردودان قسم کے لوگ ملیں گے۔ کالج کیمپسوں میں یہود و نصاریٰ کی سازشوں کے پول کھولتے ممی ڈیڈی ٹائپ جوان اور ان کے مڈل کلاس باریش والد صاحب بھی اسی طبقہ سے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اب آنلائن خلیفہ بغدادی کی بیعتیں کر رہے ہیں اور کوئی نیویارک کے ٹائم سکوئیر میں بم نصب کرتا پکڑا جاتا ہے تو کسی قاتل دہشت گرد کے کیلیفورنیا والے مکان سے تفہیم القران کا نسخہ برآمد ہوتا ہے۔ وہی مودودی جنہیں امریکی اور سعودی آشیرباد حاصل تھا، جنہیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا، آج انہیں کی کتب پر سعودیہ عرب میں پابندی ہے۔
اس شجر زقوم کی شاخیں ہمارے پاکستانی مہاجرین کے طفیل اب مغربی دنیا میں بھی قائم ہو چکی ہیں۔ برطانیہ، امریکہ ، آسٹریلیا اور یورپ کے اکثر ممالک میں مودودی کا لٹریچر عام دستیاب ہے۔ اس لٹریچر کا عربی قائم مقام سید قطب کی تحریرات ہیں جو مصر کے مودودی ہیں، (یا مودودی بر صغیر کے سید قطب ہیں)۔ ان دونوں حضرات کے مابین، مسلمان جوان نسل در نسل بغاوت، بغض اور غیض کے مذہب کو اختیار کر اپنی دنیا اور عاقبت برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے جہلاء کی کامیابی کے پیچھے دراصل ایک درپردہ دھریت ہے جو اللہ سے انسان کے تعلق کی ہر کوشش اور امید کو کار عبث سمجھتی ہے۔ اسی لئے تو اینٹ پتھر اور بندوق کی سیاست پر زور ہے ۔ چاہے اس کوشش میں نسلیں برباد ہو جائیں۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s