پاکستان

 بھٹو اور موروثی وزارت عظمیٰ

 

ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پر کچھ لکھنے کے لئے کسی تاریخ کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کی شخصیت اور کارناموں کا سایہ بہت لمبا ہے اور پاکستان کے ہر دور کے حالات میں ان کی غیر موجودگی کا احساس رہتا ہے۔ بھٹو زندہ رہ جاتے تو ضیاالحق کا دور طول نہ پکڑتا۔ اور گیارہ سال بعد بھی تریسٹھ سالہ بھٹو ایک کمال کے وزیراعظم بنتے۔ لیکن تقدیر کا لکھا کون مٹا سکتا ہے۔ بھٹو کے جیل کا دور ان کی چند ندامتوں کا پتہ بھی دیتا ہے۔ کہاں وہ، امت مسلمہ کا ایک ابھرتا ہوا ہیرو بھٹو۔ معمر قذافی اور شاہ فیصل کا قریبی دوست بھٹو جس نے قادیانی مسئلہ حل کر کے ملاں کو اپنے دام میں پھنسا لیا۔ اور کہاں وہ آنسو بہاتا، جذباتی، مجبور اور محبوس بھٹو، جو عدالت کو اپنی مسلمانی ثابت کرنے پر مصر نظر آتا تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کو جیل سے خط لکھا تو کیسی اعلیٰ انگریزی میں اس کو سمجھایا کہ مذہب خدا اور بندے کا معاملہ ہے۔ اس کو دنیا کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر خراب نہ کیا جائے۔ یہ بھٹو انہیں مولویوں کی تحریک کے دباو میں ایسا عاجز آیا کہ اقتداراور پھرجان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

بھٹوکی ذہانت اور موقع شناسی کا میں قائل ہوں۔ اس کو لیڈری کا شوق بھی تھا اور لیڈر بننے کی خداداد صلاحیت بھی تھی۔ آخر کو ایک سندھی وڈیرے کا آکسفورڈ پڑھا بیٹا لیڈر کیوں نہ بنے؟ یہ تو تمام جاگیرداروں کا استحقاق ہے کی اپنی توفیق کے مطابق لیڈری کی توقع رکھیں۔ بھٹو کے بیٹے بھی لیڈر تھے۔ ان کی اولادیں ابھی تک نالاں ہیں کہ پاکستان کی باگ ڈور ان کو کیوں نہ تھمائی گئی۔

بینظیر جب وزیر اعظم بنیں تو ان کو بھی ملک کا وزیر اعظم بننا ایک متوقع بات سمجھ کر قبول کر لیا گیا۔ مولوی حضرات بھی ان کے چرنوں میں بیٹھ گئے۔ محترمہ نے اقتدار میں آتے ہی پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا اور شاہ فہد کو اپنی شیعہ بیزاری کا یقین کروایا۔ ان کی اماں ایرانی اثنا عشری شیعہ جو تھیں۔ ان کو اپنے باپ کی زندگی سے سوائے اقتدار کے پیدائشی حق کے اور کوئی سبق نہ ملا۔ مولوی خوش کئے، حمید گل کو رام کیا۔ افغان مجاہدین کو طالبان بنایا۔

پروفیسر عبدالسلام ان کے انتخاب کے ایک دو ماہ بعد ان سے ملنے کو سیدھے اٹلی سے اسلام آباد پہنچے۔ ارادہ تھا کہ ملک میں سائینسی ترقی کا نیا باب کھولا جائے۔ محترمہ نے مصروفیت کا بہانہ بنا کر ملنے سے انکار کر دیا۔

کسی نے پوچھا کہ احمدیوں کے بارہ میں ان کے والد نے جو ترمیم کی تھی اس کا کیا جائے۔ کہنے لگیں کہ جو عظیم خدمت اسلام کی ان کے شہید باپ نے کی، وہ اس کو ہاتھ لگانے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔

کئی سال بعد جب بینظیر بھٹو تیسری مرتبہ اقتدار کے شوق میں ملک کو واپس لوٹیں تو انہیں خوب معلوم تھا کہ وہی طالبان اور ان کے سائیس اور گلہ بان جن کو انہوں نے برسوں پالیسی کا جزو رکھا، اب ان کی جان کے درپے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتیں تو طلبان کا خونیں دور ایسا طویل نہ ہوتا۔ کیسے سادہ لوح لوگ ہیں۔ جو لیڈراپنے دو ادوار میں کسی لبرل اصول پر قائم نہ رہ سکی وہ اب کیونکر بدلتی۔ اپنے والد کی طرح وہ بھی، اقتدار کے شوق میں ایسی فاش غلطیاں کر چکی تھیں کہ ان سے واپسی کا راستہ ناممکن تھا۔ ان کو بھی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

ان کی موت کے فورا بعد، لیاقت باغ کی زمین کو فائیر بریگیڈ کے تیز پریشر والے پانی سے صاف کردیا گیا۔ اس سے مجرموں کے نشان مٹ تو گئے لیکن بینظیر کے اور ان کے مرحوم باپ کی سوانح پر لگے ہوئے دھبے مٹانا نا ممکن ہے۔ چاہے بلاول صاحب جیسے بھی جوش سے چین بجبین ہو کر تقریریں کریں۔

بلاول صاحب کو اللہ سلامت رکھے ۔ وہ بھی وزارت عظمیٰ کو اپنا ورثہ سمجھ کر بہت تگ ودو کر رہے ہیں۔ آخر کیوں نہ کریں۔آخرکو آکسفورڈ پڑھے، جاگیردار خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ وزیر اعظم ابن وزیر اعظم بنت وزیر اعظم ۔ بات دل کو لگتی ہے۔ بس مولوی کو رام کرنے کی کسر باقی ہے۔ وہ بھی الیکشن آئیں تو پوری ہوجائے گی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s