1974 · متفرق · پاکستان · حالات حاضرہ

’مفتی محمود کیا تھے‘

مفتی محمود کے بارہ میں ایک صاحب کا مضمون پڑھنے کو ملا۔ اذکرو موتٰکم کے حکم کے تحت اچھی تحریر ہے۔ تحریر میں مفتی صاحب کا مختصر سوانحی خاکہ ہے۔ ان کی تجوید القران اور شخصیت کا ذکر ہے۔  مرنے والوں کے خصائل و فضائل کا تذکرہ ان کے لواحقین کے لئے صبر اور حوصلے کا باعث ہوتا ہے۔ ان کی اچھی عادات و اطوار کا تذکرہ پڑھنے سننے والوں کے لئے نصیحت کا درجہ رکھتا ہے۔
مفتی صاحب یقینا پاکستان کی مذھبی اور سیاسی دنیا کی ایک معروف شخصیت تھے۔ زیرنظر مضمون  ’مفتی محمود کون تھے‘ کے برعکس راقم  ’مفتی محمود کیا تھے‘ کا موضوع زیادہ مناسب سمجھتا ہے۔
 مفتی صاحب کو عالم گزران سے سدھارے تین دھائیاں ہونے کو آئی ہیں۔ جانے سے قبل آپ کی آخری خدمت ملک عزیزمیں جمہوریت کی آخری رسومات کی ادائیگی تھی۔ اس سے پہلے مرحوم نے سن چوہتر میں دوسری اآئینی ترمیم میں کلیدی کردار ادا فرمایا اور ملک عزیز میں بنیادی انسانی حقوق کے جنازے کی امامت فرمائی۔  سیکیولر اور قدامت پسند سیاستدانوں نے باوضو ہو کر اقتدا کی۔ بھٹو صاحب بھی ان دنوں آپ کے مرید ہوگئے۔ یہ اور بات ہے کہ بھٹوصاحب نے بعد میں مفتی صاحب کو ناراض کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے ڈالی۔
نوجوان قاری محمود کو کانگرس پارٹی سے انس تھا۔ یہ بھی ایک سچے عالم دین کی نشانی ہے کہ اوائل عمر میں بھی حق شناس ہوتا ہے۔ قاری سے مفتی بنتے بنتے آپ کو ہندوستان کے بٹوارے کا سانحہ درپیش ہوا ۔ لیکن ایک مومنانہ شان سے آپ نے نہ صرف اس دھچکے کو برداشت فرمایا، بلکہ امت مسلمہ میں اس جاری کردہ بدعت ،ملک پاکستان کو اوائل دن سے ہی اسلام کی جانب لانے کی سعی شروع فرمائی۔ جونہی اقتدار حاصل ہوا اپنی سرحدی رعایا کو احترام رمضان کا پابند کیا اور مغربی پتلون کوٹ جیسے فحش لباس سے نجات دلوائی۔ برسوں بعد جنرل ضیاالحق نے آپ ہی کے اسوہ کو اپنے منطقی عروج پر پہنچایا اوراسلامی مملکت پاکستان میں مفتی صاحب کی ٹریڈمارک شریعت رائج کی۔
 مفتی صاحب مرحوم  نے پاکستان کو دیوبند مزاج  کے ایک اچھوتے رخ سے آشنا کیا۔ آپ سے پہلے دیوبندی علما ہندوستانی مزاج رکھنے والے ذرا نستعلیق ٹائپ کے مولوی ہوتے تھے یا پھرشاہ جی جیسے ٹھیٹھ پنجابی۔ مفتی صاحب اور آپ کے ہمجولی پختون اورہندکو طائفہ نے ملک کو سرحدی دیوبندی مولوی سے تعارف کروایا۔ ان کے مدارس نے ملک عزیز میں تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ مزید براں، آپ کے دوست علما نے افغان مہاجرین کی خدمت کماحقہُ ادا کی اور ان کے نوجوانوں اور بچوں کو اپنے مدارس میں مفت تعلیم فراہم کی۔ ان میں سے ہزاروں جوان اپنے ملک میں واپس جاکر اعلیٰ خدمات ادا کر رہے ہیں۔ چونکہ مفتی صاحب جمہوریت پسندی میں بھی کمال حاصل کرنا چاہتے تھے، آپ کے زیر اثر تمام علما کسی قسم کی مرکزی پالیسی سے آزاد، مقامی طور پر مکمل اختیار کے حامل تھے۔ تبھی تو ہمیں آج کل ہر رنگ اور فلیور کے طالبان دستیاب ہیں۔
مفتی صاحب جنازوں کے علاوہ نکاح پڑھانے میں بھی کمال رکھتے تھے۔ جب افغانستان میں روس کی دراندازی کے اوائل دن تھے، مرحوم نے بصد شوق امریکی سی آئی اے کا نکاح الجہاد ، افغان مجاہدین سے خطیر حق مہر پر پڑھایا۔ جنرل ضیا سی آئی اے کے وکیل مقرر ہوئے۔ مفتی صاحب کو عمر نے مہلت نہ دی۔ ولیمے کی دعوت ان کی جگہ ان کے فرزند ارجمند ٖفضل الرحمان نے تناول کی۔ چونکہ برخوردارذرا لا ابالی طبیعت کے تھے اس لئے مفتی صاحب کی کمی کچھ عرصہ محسوس ہوئی۔لیکن جونہی ایک نئی جمہوریت کی ولادت ہوئی، فضل الرحمان صاحب نے رسم ختنہ میں شمولیت اختیار کی اور تب سے اپنے مرحوم والد کے مشن کو خوب آگے چلا رہے ہیں۔
مفتی صاحب نے اپنی اولاد کے علاوہ فتاویٰ کا ایک ضخیم انبار قوم کی ہدایت کے لئے چھوڑا ہے۔ مرحوم صرف نام ہی کے مفتی نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ بوقت وفات آپ زکوٰۃ کے متعلق جامعہ بنوریہ میں ایک فتوٰی ارشاد کررہے تھے۔
مجموعہ فتاویٰ مفتی محمود کا ایک کثیر حصہ عامۃالناس کو شیعہ اور قادیانی کفریات سے آگاہ کرنے پر وقف ہے۔ اہل تشیع کے لئے مرحوم ایک نرم گوشہ ضرور رکھتے تھے کہ ان کو زندہ رہنے کا حق عنائت فرمایا۔ تبھی تو دوسری آئینی ترمیم میں اہل تشیع نے مرحوم کا بھرپور ساتھ دیا۔ مرتد کے قتل کے قائل تھے تو ضرور لیکن کمال مہربانی سے قادیانی حضرات کے متعلق سوال کے جواب میں ان کوفقط مرتد کہہ کر سکوت اختیار کر لیتے ۔ کمال کا ضبط پایا تھا۔
مودودی صاحب کو ضال مضل کہا اور ان کی تحریرات کو کفریات۔ لیکن سیاست میں ان کا ساتھ خوب نبھایا۔ عوام کو ہمیشہ غیراہلسنت سے دوستانہ برادرانہ روابط سے کترانے کا سبق دیتے۔ الغرض آپ کے فتاویٰ میں پاکستان کی حالیہ قومی نفسیات کی ایک نہایت اعلیٰ تصویرموجود ہے ۔
یعنی مولوی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ میکاولی درجہ کے دانشور بھی تھے ۔ پاکستان کے حالیہ دستور کی تخلیق بھی آپ ہی کا کارنامہ ہے۔  یہ کہا جائے کہ حقیقی بابائے قوم، قائد عوام، قائد جمہوریت اور مجدد ملت آپ کے علاوہ اس دور میں اور کوئی نہیں تومبالغہ نہ ہوگا۔
 یہی آپکا بہترین تعارف ہے۔ اللہ ان سے انصاف کا معاملہ فرمائے۔
Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s